اسلام آباد ( بیورو رپورٹ) سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ کہا گیا ہے 8ہزار 432روپے ماہانہ آمدن والا شخص غریب نہیں، یہ کس ارسطو نے کہا 280روپے روزانہ کمانے والا غریب نہیں۔سینیٹ کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ موجودہ بجٹ کیا عوام کے سیاسی استقلال کی حفاظت کرتا ہے، کیا یہ بجٹ اغیار، کفار کے معاشی غلبے سے نکال سکتا ہے یا ان کی دلدل میں پھینک رہا ہے؟انہوں نے کہا ہے کہ کیا یہ بجٹ معاشی آزادی لے کر آیا ہے؟ یہ بجٹ ہمیں مزید غلام بنا رہا ہے، بجٹ میں پاکستان کی عوام کو سامنے نہیں رکھا، عوام غیر متعلقہ ہیں۔ ہر سال قرض میں اضافہ ہوا ہے، جب سے انہوں نے حکومت سنبھالی ہے اس سے 100 گنا قرض زیادہ بڑھ گیا، اگر آپ کا گھر چلانے والا قرض بڑھتا جائے تو کیا گھر کا سربراہ اہل ہے؟ آپ پھر کہتے ہیں گھر میں تبدیلی لے کر آئے۔سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر نے کہا قرض اتنا بڑھ رہا ہے کہ ملک ناکام ریاست کی طرف جا رہا ہے، اپوزیشن بات کرتی ہے تو آپ کہتے ہیں یہ اداروں اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ہے، ہم اداروں اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف نہیں۔علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ بانءپی ٹی آئی نے 40 ماہ حکومت کی تو باقی 40 سال کس نے حکومت کی؟ 8 ہزار ارب روپے کا عوام سود ادا کریں گے، یہ ترمیم لا رہے تھے کہ 18 سال کا نوجوان ووٹ نہیں ڈال سکتا۔انہوں نے کہا کہ بجٹ میں امیروں کو ریلیف مل رہا ہے، کسی صوبے کے پاس گندم اسٹاک میں نہیں، فوڈ سیکیورٹی کے اسٹریٹجک اثاثے ختم ہو رہے ہیں، موٹر سائیکل میں پیٹرول ڈالنے والے غریب نوجوان سے آپ لیوی لے رہے ہیں۔
یہ کس ارسطو نے کہا 280روپے روزانہ کمانے والا غریب نہیں: راجہ ناصر عباس


















