کراچی (مشرق نیوز) عینک والا جن کے رائٹر حفیظ طاہر بغیر اجازت اس کے اینیمیٹڈ ری بوٹ ورژن بنانے پر غصے میں آ گئے، انہوں نے قانونی کارروائی کا بھی اشارہ دیدیا۔ ’عینک والا جن‘ پاکستانی ٹی وی کی تاریخ کے مقبول ترین بچوں کے ڈراموں میں شمار ہوتا ہے جس نے کئی نسلوں کو متاثر کیا، یہ ڈرامہ نہ صرف بچوں بلکہ بڑوں میں بھی بے حد مقبول رہا اور ناظرین اس کی ہر قسط کا بے صبری سے انتظار کیا کرتے تھے۔
حال ہی میں ڈرامے کا اینیمیٹڈ ری بوٹ متعارف کرایا گیا، جس کے کرداروں پر مبنی ٹیزرز پاکستان ٹیلی وڑن پر نشر کیے گئے، تاہم اس پیش رفت پر اصل ڈرامے کے مصنف حفیظ طاہر نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہیں اس منصوبے کے بارے میں نہ تو اعتماد میں لیا گیا اور نہ ہی ان سے اجازت حاصل کی گئی۔
حفیظ طاہر کا کہنا ہے کہ وہ اس صورتحال پر شدید دل گرفتہ ہیں کیونکہ ان کے تخلیق کردہ تصور کو ان کی اجازت کے بغیر استعمال کیا گیا، جبکہ بعد ازاں اس پر اے آئی کی مدد بھی لی گئی۔ انہوں نے اینیمیٹڈ ری بوٹ کے معیار پر بھی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے پر قانونی کارروائی کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں غور کر رہے ہیں۔
ادھر حفیظ طاہر کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر بھی بحث چھڑ گئی ہے، متعدد صارفین نے ان کے مو¿قف کی حمایت کی، جبکہ اداکار عمیر رانا نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ اس معاملے پر قانونی کارروائی کریں اور اسے ایکٹرز کلیکٹو ٹرسٹ کے سامنے بھی اٹھائیں۔
حفیظ طاہر ”عینک والا جن“ کا اینیمیٹڈ ورژن بنانے پر ناراض، کارروائی کا عندیہ


















