محکمہ جیل خانہ جات، وارڈرز کے تبادلوں سے متعلق اہم انکشاف

لاہور (مرزا ندیم بیگ) محکمہ جیل خانہ جات پنجاب میں وارڈرز کے تبادلوں سے متعلق سامنے آنے والے معاملے میں ایک اور اہم انکشاف سامنے آیا ہے جس نے محکمانہ حلقوں میں کئی سوالات کو جنم دیدیا ہے۔ ذرائع کے مطابق 6 مئی 2026 کو ڈی آئی جی جیل خانہ جات لاہور ریجن کی جانب سے چھ وارڈرز کے تبادلوں کے احکامات جاری کئے گئے تھے، جن میں وارڈر محمد دلدار، رفیق، فیض حسین شاہ، ذکاءاللہ اور انجم شہزاد شامل تھے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ پانچوں وارڈرز کے تبادلے سال 2026 کے دوران کئے گئے تاہم سب سے زیادہ توجہ وارڈر الیاس کے کیس نے حاصل کی ہے۔ محمد الیاس کی ٹرانسفر کے احکامات بظاہر 8 مئی 2025 کو جاری کئے گئے تھے لیکن حیران کن طور پر ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود انہیں متعلقہ جیل سے ریلیو نہیں کیا گیا۔محکمانہ ذرائع کے مطابق یہ معاملہ اس وقت مزید پیچیدہ ہو گیا جب محمد الیاس ایک قتل کے مقدمے میں نامزد ہونے کے بعد گرفتار ہوا اور جیل منتقل کر دیا گیا۔ اسی دوران معلوم ہوا کہ اس کی ٹرانسفر کے احکامات بھی ڈی آئی جی جیل خانہ جات لاہور ریجن محسن رفیق کے دستخط سے جاری ہوئے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ احکامات سامنے آنے کے بعد سپرنٹنڈنٹ ڈسٹرکٹ جیل سیالکوٹ نے فوری طور پر محمد الیاس کو ریلیو کر دیا۔معاملے کا ایک اور قابل غور پہلو یہ ہے کہ جن چھ وارڈرز کے تبادلوں کے احکامات جاری کیے گئے، ان میں سے پانچ وارڈرز کی ٹرانسفر بغیر ٹی اے/ڈی اے (سفری و یومیہ الاونس) کے کی گئی، جبکہ قتل کے مقدمے میں گرفتار وارڈر محمد الیاس کی ٹرانسفر ٹی اے/ڈی اے کے ساتھ کئے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔اس حوالے سے محکمہ جیل خانہ جات کے ایک ذمہ دار افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جن ملازمین کے تبادلے مقررہ مدت مکمل ہونے سے پہلے ذاتی درخواست یا سفارش کی بنیاد پر کئے جاتے ہیں، انہیں عموماً ٹی اے/ڈی اے کی سہولت نہیں دی جاتی۔ اس کے برعکس جن ملازمین کے تبادلے معمول کی محکمانہ پالیسی اور مقررہ ٹائم پیریڈ مکمل ہونے کے بعد کیے جائیں، وہ قواعد کے مطابق ٹی اے/ڈی اے کے مستحق ہوتے ہیں۔دوسری جانب یہ سوال بدستور اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر محمد الیاس کی ٹرانسفر 8 مئی 2025 کو ہو چکی تھی تو اسے ایک سال سے زائد عرصے تک ریلیو کیوں نہیں کیا گیا؟ اور پھر اس کی گرفتاری کے بعد اچانک ریلیو کیے جانے کی وجوہات کیا تھیں؟اس سلسلے میں جب ڈی آئی جی جیل خانہ جات لاہور ریجن کے دفتر سے رابطہ کیا گیا تو پی ایس ٹو ڈی آئی جی نے موقف اختیار کیا کہ معاملے کا ریکارڈ چیک کیا جا رہا ہے اور حقائق سامنے آنے کے بعد ہی اس بارے میں حتمی موقف دیا جا سکے گا۔محکمانہ حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر مذکورہ معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں تو یہ واضح ہو سکے گا کہ محمد الیاس کی ٹرانسفر کے احکامات پر بروقت عملدرآمد کیوں نہ ہو سکا اور آیا ٹی اے/ڈی اے کی منظوری قواعد و ضوابط کے مطابق دی گئی یا نہیں۔ اس حوالے سے مزید حقائق سامنے آنے کا امکان ہے، جبکہ جیل انتظامیہ اور متعلقہ حکام کی جانب سے باضابطہ وضاحت کا انتظار کیا جا رہا ہے۔