ثالثی سے پیچھے نہیں ہٹے، مفاہمتی یادداشت اب بھی قابل عمل ہے،پاکستان


اسلام آباد: (بیورورپورٹ)پاکستان نے واضح کیاہے ثالثی سے پیچھے نہیں ہٹے، ایران ،امریکہ کے درمیان دوبارہ کشیدگی پر تشویش ، مفاہمتی یادداشت اب بھی قابل عمل ،فریقین تحمل کامظاہرہ کریں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار بریفنگ میںامریکہ ،ایران کے درمیان امن کوششوں سے دستبردار ہونے کے تاثر کو مسترد کر تے ہوئے کہاامن عمل کبھی ختم نہیں ہوتا ،وقتی تعطل کا شکار ہو سکتا ہے، ثالثی کی کوششیں جاری ہیں، کشیدگی وقتی طور پر غالب ، امید ہے بالآخر امن و مذاکرات کی سوچ کامیاب ہو گی،موجودہ علاقائی صورتِحال پر گہری نظر،آبنائے ہرمز سے تجارت و تیل کی باآسانی ترسیل پر یقین رکھتے ہیں۔

طاہر اندرابی نے کہا اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پرعملدرآمد جاری رہنا چاہئے، پاکستان مسائل کے حل کیلئے مذاکرات پریقین رکھتا ہے، آبنائے ہرمزمیں غیرمعمولی صورتحال سے گلوبل ساوتھ کے ممالک بھی متاثر ہورہے ہیں، تمام تنازعات کاحل مذاکرات وسفارت کاری میں مضمر ہے، تاثر میں کوئی صداقت نہیں پاکستان نے ثالثی عمل سے ہاتھ کھڑے کر دیئے اگرچہ کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، فریقین کو مذاکرات کی میز پر واپس آنا ہوگا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہااسلام آباد مفاہمتی یادداشت خطے میں امن، باہمی احترام و مشترکہ خوشحالی کے فروغ کےلئے مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے اگرچہ مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کو بعض چیلنجز کا سامنا ہے تاہم پاکستان تمام متعلقہ فریقوں کو تشدد ختم ،22 جون 2026 کے پاک قطر مشترکہ اعلامیے و مفاہمتی یادداشت کے مطابق تکنیکی سطح کے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی ترغیب دیتا رہے گا، امید ہے آبنائے ہرمز کی صورتحال جلد معمول پر آئے گی اور بحری جہازوں کی محفوظ، آزاد و بلا تعطل آمدورفت یقینی بنائی جائے گی۔

طاہر اندرابی نے کہا خطے میں جاری کشیدگی کے دوران پاکستان نے اہم علاقائی ، بین الاقوامی شراکت داروں کےساتھ مسلسل سفارتی رابطے برقرار رکھے تاکہ کشیدگی میں کمی، مذاکرات کے فروغ و تنازعات کے پرامن حل کی راہ ہموار کی جا سکے،پاکستان افغانستان میں انسانی ضروریات پر امدادی جواب دینے کی کوشش کر رہا ہے، انسانی ضروریات پر امدادی سامان کے 45 ٹرک روانہ کر دئیے تاہم افغانستان اجازت دینے سے انکاری ہے،افغانستان کے معاملے پر ابھی تک کوئی برف نہیں پگھلی، جب تک افغانستان دہشت گردوں ،دہشتگردی کی پشت پناہی ختم نہیں کرتا برف نہیں پگھل سکتی، ایس سی او کا رکن بننے کےلئے افغانستان کے رکن ممالک کےساتھ سفارتی تعلقات ہونے چاہئیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کراس بارڈر ٹیررازم کے الزام پر جاپان کے سفیر کو ڈی مارش جاری کیا ،معاملہ سفارتی سطح پر بھی اٹھایا،پاکستان ،چین کے درمیان ہر سطح پر رابطے موجود ہیں ،پاکستان تمام چینی شہریوں ،عملے کی حفاظت کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے،بھارت سیاسی بنیادوں پر قائم مقدمات و جعلی ٹرائلز کے ذریعے حریت قیادت کو دبانے کی کوشش کر رہا ہے، کشمیری عوام کو حق خودارادیت سے محروم نہیں رکھا جا سکتا،پہلگام واقعہ پربھارت اب تک کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا،تحقیقات میں تعاون کی پیشکش کی گئی لیکن بھارت سیاسی نعرے بازی اور سنسنی پھیلانے میں مصروف ہے،مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ قرار دادوں کے مطابق حل کیا جانا چاہئے۔