لاہور (میاں ذیشان) لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے شعبہ جات ٹاﺅن پلاننگ اور میٹروپولیٹن پلاننگ کے افسران کی ناقص کارکردگی کے باعث سینکڑوں غیر قانونی ہاﺅسنگ سکیموں، غیر قانونی کمرشل عمارتوں کو ریگولرائز کرنے، ماسٹر پلان پر موثر عملدرآمد اور بے ہنگم شہری توسیع کو روکنے میں خاطر خواہ پیشرفت نہ ہونے کے باعث شہر میں غیر منظور شدہ آبادیوں اور غیر قانونی تعمیرات کا دائرہ مسلسل وسیع ہو رہا ہے۔ لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے رواں ماہ غیر قانونی ہاﺅسنگ سکیموں، ماسٹر پلان کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تعمیر کی گئی بلند عمارتوں، غیر منظور شدہ کمرشل پلازوں اور سرکاری اراضی پر قائم تجاوزات کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے جبکہ جن سکیموں کے خلاف برسوں سے کارروائیوں کے دعوے کیے جا رہے ہیں انہیں ریگولرائز کرنے یا قانونی دائرے میں لانے کیلئے میٹروپولیٹن پلاننگ ونگ آج تک کوئی مﺅثر اور پائیدار حکمت عملی مرتب نہیں کر سکا۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ چھ ماہ کے دوران ایل ڈی اے کی جانب سے مختلف قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد صرف 12 نجی ہاﺅسنگ سکیموں اور ان کی توسیعات کو مشروط طور پر ریگولرائز کیا جا سکا، جبکہ لاہور ڈویژن میں اب بھی تقریباً 285 سے زائد ہاﺅسنگ سکیمیں غیر منظور شدہ یا مختلف قانونی اعتراضات کا شکار ہیں جن میں سے بڑی تعداد عوام سے پلاٹوں کی خرید و فروخت بھی کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق میٹروپولیٹن پلاننگ ونگ ان سکیموں کو قانونی دائرے میں لانے، بنیادی انفراسٹرکچر کی فراہمی، این او سی کے اجراءاور ماسٹر پلان سے ہم آہنگ کرنے کیلئے تاحال کوئی مﺅثر اور دیرپا پالیسی مرتب نہیں کر سکا۔ دوسری جانب ٹاﺅن پلاننگ ونگ نے رواں مالی سال کے دوران غیر قانونی کمرشل استعمال کے خلاف بھرپور انفورسمنٹ کرتے ہوئے 233 غیر قانونی کمرشل عمارتوں، پلازوں، دفاتر، شورومز اور دیگر املاک کو سیل کیا، جبکہ کمرشلائزیشن فیس، جرمانوں اور واجبات کی وصولی کی مد میں ایک ارب روپے سے زائد ریونیو قومی خزانے میں جمع کرایا، مزید معلوم ہوا ہے کہ ایل ڈی اے کے ٹاﺅن پلاننگ، میٹروپولیٹن پلاننگ، پرائیویٹ ہاﺅسنگ سکیمز اور انفورسمنٹ ونگ نے رائیونڈ روڈ، ملتان روڈ، فیروزپور روڈ، کینال روڈ، سگیاں روڈ، شرقپور روڈ، جیا بگا روڈ، بند روڈ، رنگ روڈ، جی ٹی روڈ، ہربنس پورہ، جلو، واہگہ، کاہنہ، ٹھوکر نیاز بیگ، مانگا منڈی، چونگی امرسدھو، شاہدرہ، برکی، ڈیفنس روڈ، بھوبتیاں، ہنجروال، چوہنگ، باٹا پور، نشتر کالونی، جوہر ٹاﺅن ایکسٹینشن، اقبال ٹاﺅن کے مضافات اور دیگر علاقوں میں سروے مکمل کرتے ہوئے ایسے مقامات کی نشاندہی کر لی ہے جہاں غیر قانونی ہاﺅسنگ سکیمیں، غیر منظور شدہ سب ڈویژن، بلند عمارتیں، غیر قانونی کمرشل استعمال، پارکنگ قوانین، فائر سیفٹی، فلور ایریا ریشو ، سیٹ بیک اور زوننگ ریگولیشنز کی سنگین خلاف ورزیاں سامنے آئی ہیں۔ ان کارروائیوں کی زد میں گرین لینڈ ہاﺅسنگ سکیم، مدینہ ہاﺅسنگ سکیم، الحرم گارڈن، نیو لاہور سٹی، ایور گرین ہاﺅسنگ سکیم، میگا سٹی، مدنی گارڈن، نشاط گارڈن، لاہور ولاز، پاکستان کوآپریٹو ہاﺅسنگ سکیم کے بعض بلاکس، پنجاب گورنمنٹ ایمپلائز کوآپریٹو ہاﺅسنگ سکیم کی متنازعہ توسیعات، نیو پنجاب ٹاﺅن، الحفیظ گارڈن، پاک عرب ایکسٹینشن، الحمد گارڈن، گولڈن سٹی، اتحاد سٹی، روز گارڈن، ایشیا ٹاﺅن، نیو ایشیا ٹاﺅن، الحمد سٹی، فیصل گارڈن ایکسٹینشن، الحمد ریزیڈینشیا، پرل گارڈن، الحرم سٹی، قائداعظم گارڈن، کشمیر گارڈن، سٹی ہاﺅسنگ ایکسٹینشن، نیو ماڈل ٹاﺅن ایکسٹینشن، رحمان گارڈن، رائل ریزیڈینشیا، گرین ویلی، ایگزیکٹو سٹی، الاتحاد گارڈن، لینڈ مارک سٹی، الحسن گارڈن اور دیگر متعدد سکیموں کے مختلف حصے شامل ہیں جن کے خلاف ماضی میں بھی ایل ڈی اے قانونی اعتراضات، عوامی انتباہ، مقدمات، سیلنگ اور ترقیاتی کام رکوانے جیسی کارروائیاں کر چکا ہے۔ شہری حلقوں اور اربن پلاننگ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ انفورسمنٹ ونگ کی کارروائیوں سے ریونیو میں اضافہ اور غیر قانونی کمرشلائزیشن کے خلاف مثبت نتائج سامنے آئے ہیں، تاہم میٹروپولیٹن پلاننگ ونگ کی سست روی، غیر قانونی ہاﺅسنگ سکیموں کی بروقت ریگولرائزیشن میں ناکامی، ماسٹر پلان پر کمزور عملدرآمد اور مﺅثر نگرانی نہ ہونے کے باعث لاہور میں بے ہنگم شہری پھیلاﺅ، زرعی اراضی کی غیر منصوبہ بند تبدیلی، ٹریفک، نکاسی آب، ماحولیاتی آلودگی اور بنیادی شہری سہولیات کے مسائل میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کیلئے محض وقتی آپریشن نہیں بلکہ جامع اربن پلاننگ، سخت ریگولیٹری نظام اور شفاف پالیسی اصلاحات وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہیں۔
لاہور میں غیرمنظور شدہ کمرشل پلازوں، غیرقانونی تعمیرات کا سلسلہ وسیع



















