سوشل میڈیا پر دولت کی نمائش کرنیوالے نان فائلرز کیخلاف کریک ڈاﺅن کا فیصلہ

لاہور(خصوصی رپورٹ :نعیم جاوید) فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے یکم اکتوبر سے سوشل میڈیا پر مہنگی گاڑیوں، بنگلوں، فارم ہاوسز، برانڈڈ ملبوسات، قیمتی گھڑیوں اور شادیوں میں شاہانہ اخراجات کی نمائش کرنے والے نان فائلرز کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ ایف بی آر ذرائع کے مطابق ایسے افراد کو نوٹس جاری کر کے ان کے ذرائع آمدن، اثاثوں اور مالی لین دین کی تفصیلات طلب کی جائیں گی۔ ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ ادارے نے گزشتہ کئی ماہ کے دوران سوشل میڈیا پر پرتعیش طرز زندگی کی نمائش کرنے والے افراد کا ڈیٹا اکٹھا کیا ہے۔ نادرا اور دیگر سرکاری ریکارڈز سے بھی معلومات حاصل کی گئی ہیں جبکہ بینکنگ ٹرانزیکشنز، کریڈٹ کارڈ استعمال اور دیگر مالی سرگرمیوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ ایک سینئر ایف بی آر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "مقصد صرف تصاویر یا ویڈیوز کی بنیاد پر کارروائی کرنا نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر نظر آنے والی طرز زندگی اور ٹیکس ریکارڈ کے درمیان فرق کا جائزہ لینا ہے۔ اگر کسی شخص کے اخراجات اور اثاثے اس کی ظاہر کردہ آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے تو اسے وضاحت دینا ہوگی ماہرین ٹیکس کے مطابق اس اقدام کی کامیابی کا انحصار صرف سوشل میڈیا نگرانی پر نہیں بلکہ ایف بی آر کی ڈیٹا اینالیٹکس صلاحیت، نادرا، بینکوں، ایکسائز اور دیگر اداروں سے معلومات کے تبادلے پر ہوگا۔ اگر ادارہ صرف چند نمایاں افراد کے خلاف کارروائی کرتا ہے تو اس کے اثرات محدود رہیں گے، تاہم اگر اسے وسیع پیمانے پر اور بلاامتیاز نافذ کیا گیا تو ہزاروں ایسے افراد ٹیکس نیٹ میں آ سکتے ہیں جو برسوں سے گوشوارے جمع نہیں کرا رہے لاہور کے ٹیکس مشیر میاں آصف محمود نے کہا کہ "پاکستان میں بڑی تعداد میں ایسے افراد موجود ہیں جو مہنگی گاڑیاں اور جائیدادیں رکھتے ہیں لیکن فائلر نہیں ہیں۔ سوشل میڈیا نے ان کی شناخت نسبتاً آسان بنا دی ہے، اس لیے ایف بی آر کو ابتدائی کامیابی مل سکتی ہے دوسری جانب کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی نان فائلرز کے خلاف مختلف اقدامات کا اعلان کیا گیا لیکن مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔ تاجروں کے مطابق اصل مسئلہ ٹیکس نظام پر اعتماد کا فقدان اور پیچیدہ قوانین ہیں۔ اگر ایف بی آر صرف دباو بڑھانے کے بجائے ٹیکس دہندگان کو سہولیات فراہم کرے تو زیادہ لوگ رضاکارانہ طور پر ٹیکس نیٹ میں شامل ہوں گے معاشی ماہرین کے مطابق اس مہم کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ یہ "لائف اسٹائل آڈٹ" کے تصور کو فروغ دے گی، جس کے تحت کسی شخص کے اخراجات اور اثاثوں کو اس کی آمدن سے ملا کر دیکھا جاتا ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ کارروائی شفاف اور قانونی دائرہ کار میں رہنی چاہیے تاکہ بے گناہ افراد کو ہراساں نہ کیا جائے ایف بی آر ذرائع کے مطابق نان فائلرز کو 30 ستمبر تک گوشوارے جمع کرانے کا موقع دیا جائے گا، جس کے بعد یکم اکتوبر سے باقاعدہ کارروائی شروع ہونے کا امکان ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس مہم کا بنیادی مقصد ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا، دستاویزی معیشت کو فروغ دینا اور ٹیکس چوری کی حوصلہ شکنی کرنا ہے اگر ایف بی آر سیاسی اثر و رسوخ سے بالاتر ہو کر یکساں احتساب کو یقینی بنائے اور بڑے بااثر نان فائلرز کو بھی قانون کے دائرے میں لائے تو یہ اقدام مو¿ثر ثابت ہو سکتا ہے، بصورت دیگر یہ ماضی کی مہمات کی طرح صرف اعلانات تک محدود رہنے کا خدشہ رکھتا ہے۔