لاہور کی 115 سب ڈو یژنوں میں بجلی کا شدید بحران

لاہور ( میاں ساجد) صوبائی دارالحکومت لاہور میں شدید گرمی کی لہر کے دوران بجلی کی مسلسل بندش، خراب ٹرانسفارمرز اور سست مرمتی نظام نے شہریوں کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔ شہر کی 115 سب ڈویژنوں میں صارفین غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، بار بار فالٹس اور شکایات کے بروقت ازالے نہ ہونے پر شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ذرائع کے مطابق لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) کے چار بڑے آپریشنل سرکلز، لاہور نارتھ، لاہور سنٹرل، لاہور ایسٹرن اور لاہور ایسٹرن ساوتھ میں گرمی کی شدت بڑھتے ہی بجلی کے نظام پر دباو میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس دباو کے باعث متعدد علاقوں میں ٹرانسفارمر جلنے، 11 کے وی فیڈرز میں خرابی اور بار بار بجلی کی بندش کے واقعات معمول بن چکے ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ بجلی کی بندش کے بعد متبادل ٹرانسفارمر فوری فراہم کرنے کا موثر نظام موجود نہیں، جس کی وجہ سے کئی کئی گھنٹے بلکہ بعض علاقوں میں ایک سے تین دن تک بجلی بحال نہیں ہو پاتی۔ متاثرہ صارفین کے مطابق سب ڈو یڑن دفاتر میں شکایات درج کروانے کے باوجود بروقت کارروائی نہیں کی جاتی اور شہریوں کو مسلسل دفاتر کے چکر لگانا پڑتے ہیں۔مشرق کی جانب سے کیے گئے سروے کے مطابق شہر کی مختلف سب ڈو یڑنوں میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ یکساں نہیں۔ بعض علاقوں میں ایک سے دو گھنٹے جبکہ کئی علاقوں میں تین سے چار گھنٹے تک بجلی بند رہتی ہے۔ متعدد مقامات پر فنی خرابی کی صورت میں بجلی کی بحالی میں 24 سے 48 گھنٹے یا اس سے بھی زیادہ وقت لگ جاتا ہے۔باغبان پورہ کے رہائشی میاں ذیشان نے بتایا کہ ان کے علاقے میں گزشتہ روز تقریباً 26 گھنٹے تک بجلی بند رہی، جس کے باعث شدید گرمی میں خواتین، بچوں اور بزرگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری جانب اچھرہ کے رہائشی ندیم خان کے مطابق ان کی سب ڈو یڑن میں خراب ٹرانسفارمر تبدیل کرنے اور بجلی بحال کرنے میں تقریباً 26 گھنٹے لگے۔شہریوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ پوش علاقوں کے مقابلے میں متوسط اور پسماندہ علاقوں میں بجلی کی خرابیوں کے ازالے میں زیادہ تاخیر کی جاتی ہے۔ ان کا الزام ہے کہ بعض علاقوں میں ٹرانسفارمر خراب ہونے کے بعد لیسکو کا عملہ دو سے تین دن تک مرمت یا تبدیلی کیلئے نہیں پہنچتا، جس سے روزمرہ زندگی، کاروبار، تعلیمی سرگرمیاں اور پانی کی فراہمی بھی متاثر ہوتی ہے۔صارفین نے شکایت کی کہ ہر سب ڈو یڑن میں شکایات کے ازالے کی ذمہ داری سب ڈویژنل آفیسر پر عائد ہوتی ہے، تاہم بیشتر مقامات پر شہریوں کو مو¿ثر جواب یا بروقت ریلیف نہیں ملتا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ جدید نظام اور ڈیجیٹل شکایتی مراکز کے دعوے اس وقت بے معنی محسوس ہوتے ہیں جب معمولی فنی خرابی بھی کئی گھنٹوں یا دنوں تک برقرار رہے۔ توانائی کے شعبے کے ماہرین کے مطابق گرمی کے موسم میں بجلی کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے، اس لیے تقسیم کار کمپنیوں کو متبادل ٹرانسفارمرز، اضافی مرمتی ٹیموں اور ہنگامی رسپانس سسٹم کو پہلے سے فعال رکھنا چاہیے تاکہ خرابی کی صورت میں بجلی جلد بحال کی جا سکے۔شہریوں نے لیسکو حکام سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر سب ڈو یڑن میں متبادل ٹرانسفارمرز کی دستیابی یقینی بنائی جائے، ہنگامی مرمتی ٹیموں کی تعداد بڑھائی جائے اور شکایات کے فوری ازالے کیلئے مو¿ثر مانیٹرنگ نظام نافذ کیا جائے تاکہ شدید گرمی میں عوام کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ترجمان لیسکو نے روزنامہ مشرق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چیف لسیکو کی خصوصی ہدایات پر لاہور ڈویژن میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے حوالہ سے تمام عملہ سب ڈویژن کی سطح پر 24 گھنٹے ڈیوٹیوں پر معمور ہے۔ جو صارفین کی شکایات کے ازالہ کیلئے ہمہ وقت موجود ہے جن علاقوں میں طویل لوڈشیڈنگ بوجہ زیادہ خرابی کے باعث ہے۔ لسیکو کی رسپانس ٹیمیں ڈیوٹی پر موجود رہتے ہوئے اپنے فرض کو نبھانے میں کوشاں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ لیسکو صارفین ہیلپ لائن نمبر118 پر اپنی شکایات کا اندارج بھی کروائیں گے تو لیسکو اہلکار شکایت کے تدارک لیے سب ڈویژن کی سطح پر اس کے ازالہ کیلئے ڈیوٹی پر موجود ہیں۔