لاہور (میاں ذیشان) چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان کے احکامات نظر انداز، ، سخت ڈیڈ لائن اور ممکنہ محکمانہ کارروائی کی وارننگ بھی پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی، پلس پراجیکٹ اور ضلعی ریونیو انتظامیہ کو متحرک نہ کر سکی جس کے نتیجے میں لاہور کے اربن ایریاز کے 30 موضع جات کو 30 جون تک آن لائن کرنے کا اہم ہدف بری طرح ناکام ہو گیا۔ مقررہ مدت گزرنے کے باوجود ایک بھی موضع مکمل طور پر آن لائن نہ ہو سکا، جس نے متعلقہ افسران کی کارکردگی، منصوبہ بندی اور انتظامی صلاحیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اربوں روپے کی لاگت سے جاری لینڈ ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن کے دعوﺅں کے برعکس لاہور جیسے بڑے شہر میں بنیادی اہداف حاصل نہ ہونا پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی، پلس پراجیکٹ اور ضلعی ریونیو انتظامیہ کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ ان 30 پٹوار سرکلز میں تعینات بعض پٹواری بااثر حلقوں میں شمار کیے جاتے ہیں، جس کے باعث اس منصوبے کو انتظامی سطح پر ایک مشکل مرحلہ قرار دیا جا رہا تھا، لیکن ناقدین کے مطابق انتظامی مشکلات کو جواز بنا کر حکومتی ڈیڈ لائن نظر انداز کرنا کسی طور قابل قبول نہیں۔ پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی ، پنجاب اربن لینڈ انہسمنٹ ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو لاہور کے افسران کے اور ترجمان سے بار رہا رابطہ کیا گیا مگر کوئی بھی ادارہ ذمہ دار لینے سے قاصر ہے اور اس حوالے اپنا موقف دینے سے گریزاں نظر آتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان نے لاہور کے اربن ایریاز میں واقع 30 موضع جات کو 30 جون سے قبل مکمل طور پر آن لائن کر کے پلس پراجیکٹ اور پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے حوالے کرنے کے احکامات جاری کئے تھے جس کیلئے تحصیل ماڈل ٹاﺅن، سٹی، شالیمار اور کینٹ کے اسسٹنٹ کمشنرز کو خصوصی ٹاسک سونپا گیا جبکہ پورے عمل کی نگرانی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو لاہور حافظ کریم داد چغتائی کے سپرد کی گئی تھی، تاہم تمام تر ہدایات، اجلاسوں اور ڈیڈ لائن کے باوجود متعلقہ افسران مقررہ ہدف حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے۔ ذرائع کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر سٹی کو نیاز بیگ، شاہدرہ، کھاڑک، شیش محل، نواں کوٹ، جیا موسیٰ اور ساندہ کلاں، اسسٹنٹ کمشنر شالیمار عامر بٹ کو لکھو ڈئیر، کوٹ خواجہ سعید، فتح گڑھ، تاجپورہ، مناواں، جلو، شادی پورہ اور باغبانپورہ، اسسٹنٹ کمشنر ماڈل ٹاﺅن عبدالسمیع کو جھیڈو، کماہاں، بھیکے وال، گجومتہ، اجودھیا پور، امرسدھو، دلو خورد، کاچھا، اٹاری سربہ اور کاہنہ جبکہ اسسٹنٹ کمشنر کینٹ سنبل جاوید کو بڈھانا اور کوڑے موضع جات کو ڈیجیٹل ریکارڈ پر منتقل کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی، مگر 30 جون کی ڈیڈ لائن گزرنے کے باوجود ان میں سے ایک بھی موضع مکمل طور پر آن لائن نہ کیا جا سکا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ متعلقہ افسران کو واضح طور پر آگاہ کیا گیا تھا کہ مقررہ مدت میں اہداف پورے نہ ہونے کی صورت میں سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے، تاہم اس کے باوجود نہ صرف منصوبے پر مطلوبہ رفتار سے کام نہ ہو سکا بلکہ پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی اور پلس پراجیکٹ کے درمیان رابطہ کاری، نگرانی اور عملدرآمد بھی انتہائی کمزور ثابت ہوا۔ ذرائع کے مطابق ان 30 پٹوار سرکلز میں تعینات بعض پٹواری بااثر حلقوں میں شمار کئے جاتے ہیں جس کے باعث اس منصوبے کو انتظامی سطح پر ایک مشکل مرحلہ قرار دیا جا رہا تھا، لیکن ناقدین کے مطابق انتظامی مشکلات کو جواز بنا کر حکومتی ڈیڈ لائن نظر انداز کرنا کسی طور قابل قبول نہیں۔ شہریوں اور قانونی ماہرین نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ صدیوں پرانے مینوئل ریکارڈ کے خاتمے، جائیداد کے لین دین میں شفافیت، جعلسازی کی روک تھام اور عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنے کیلئے شروع کیے گئے اس اہم منصوبے کی ناکامی کی ذمہ داری کا تعین کیا جائے، پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی، پلس پراجیکٹ اور ضلعی ریونیو انتظامیہ کی کارکردگی کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے اور چیف سیکرٹری پنجاب کی ہدایات پر عملدرآمد نہ کرنے والے ذمہ دار افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ مستقبل میں سرکاری احکامات اور عوامی مفاد کے منصوبے محض کاغذی کارروائی تک محدود نہ رہیں۔
لاہور (سپیشل رپورٹر) چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان کے احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے اور لاہور شہر کے اربن موضع جات کو پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے سسٹم میں مقررہ میعاد کے اختتام تک آن لائن نہ کرنے کے حوالے سے ترجمان پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی علی رضا بٹر، ترجمان پنجاب اربن لینڈ انہسمنٹ عبداللہ اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو لاہور حافظ کریم داد چغتائی سمیت ترجمان ڈپٹی کمشنر حارث علی سلہری بار ہا کالز اور میسجز پر رابطہ کیا گیا لیکن مذکورہ افسران و ترجمان اس حوالے سے اپنا موقف یا وضاحت دینے سے گریزاں ہیں۔ مذکورہ افسران و ترجمان میں سے اگر کوئی اپنا موقف یا وضاحت پیش کرنا چاہے تو روزنامہ مشرق میں اس من و عن شائع کیا جائیگا۔
چیف سیکرٹری پنجاب کے احکامات نظر انداز، پی ایل آر اے، پلس پراجیکٹ، ضلعی ریونیو انتظامیہ بدستور غیرمتحرک


















