ایران نے بھی حملے روک دئیے،200 سے زائد امریکی فوجیوں کو ہلاک کردیا،پاسداران انقلاب

تہران،واشنگٹن:(مشرق نیوز،بیورورپورٹ)عارضی سیز فائر،امریکی حملے رکنے پر ایران نے بھی جوابی کارروائیاں روک دیں۔

ایرانی فوج کے ترجمان اکرامینیا نے کہا امریکی جارحیت رکنے کے بعدمشرق وسطیٰ میں جوابی حملے روک دئیے ،امریکہ سٹریٹجک فیصلہ سازی پر تھکن کا شکار ،پاس کوئی واضح حکمت عملی نہیں، بات ٹرمپ کے فیصلوں ،سینٹکام کی کارکردگی میں دیکھی جا سکتی ہے،حالیہ 14 سے 15 روزہ لڑائی کے دوران ایران کی فوجی کارروائیوں کی کچھ خصوصیات تھیں، حملوں کا مرکز امریکی ریڈار تنصیبات ،معاونت فراہم کرنے والے مراکز رہے تاکہ امریکہ کو مزید حملوں سے باز رکھا جا سکے،کوشش کی امریکہ کو مذاکرات کی میز پر واپس لایا جائے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان مفاہمتی یادداشت کی شقوں پر عمل ہو۔

فوجی ترجمان جنرل ابوالفضل شکارچی نے کہا امریکہ آبنائے ہرمز اور ایران کو کمزور کرنے کے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ، موجودہ صورتحال امریکہ کےلئے انتشار و ناکامی کی عکاس ،واشنگٹن اب نئی حکمت عملی کی تلاش میں ہے، امریکہ کی جنگ سے ممکنہ دستبرداری بھی اسرائیل کی منظوری سے مشروط ہوگی۔

پاسداران انقلاب کے ترجمان نے کہا امریکہ کے برعکس جنگ بندی سے بھرپور فائدہ اٹھایا،دفاعی صلاحیت میں اضافہ کیا، میزائل تیاری کی رفتار بڑھائی اور درستگی بھی مزید بہتر بنائی،امریکہ فائدہ اٹھانے میں ناکام رہا، امریکہ کے تیل ذخائر کو دیکھیں، کمی پوری نہیں کر سکا بلکہ کمی مزید بڑھ گئی،پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا آپریشن نصر دوم کے دوران امریکی فوجی اڈوں پر 11 لڑاکا طیارے تباہ کیے ،15 روز کے دوران 200 سے زائد امریکی فوجی مارے گئے۔

ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے امریکی دفاعی نظام اس قدر کمزور ہو چکا تھا ایرانی ڈرونز اور میزائل بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے اہداف تک پہنچتے رہے،8فوجی تعیناتی مراکز کو نشانہ بنایا، ایک مقام پر 20 پناہ گاہیں بھی تباہ کی گئیں،اسرائیل دوبارہ جنگ میں شامل ہوا تو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا،برطانیہ نے امریکہ کے ساتھ تعاون جاری رکھا تو جائز ہدف ہوگا،امریکی حکومت صحافیوں کو تباہ شدہ فوجی مراکز کا دورہ کرائے تاکہ حملوں میں ہونےوالے نقصانات و ہلاکتوں کی حقیقی تعداد کا اندازہ لگایا جا سکے۔

دریں اثنا ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی زیر صدارت ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں امریکی حملوں سے ہونے والے نقصانات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی،خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا شہری انفراسٹرکچر پر امریکی حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ،معاملہ عالمی فورمز پر اٹھایا جانا چاہیے، انفراسٹرکچر پر حملوں کے ذمہ داروں کا احتساب یقینی بنایا جائے،پڑوسی ممالک کےساتھ تعاون کو فروغ دینا حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے،متعلقہ ادارے تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی تعمیر نو کے عمل میں تیزی لائیں اور نقل و حمل کے نظام کو مزید مضبوط، محفوظ اور موثر بنایا جائے۔

ترجمان وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا آبنائے ہرمز کے انتظام اور محفوظ بحری آمدورفت پرعمان کے ساتھ مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ،دونوں ممالک نے ساحلی ریاستوں کے حقوق کا احترام کرتے ہوئے جہاز رانی کے محفوظ نظام پر تبادلہ خیال کیا،مذاکرات مفید رہے ،آبنائے ہرمز میں ٹریفک کی صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

ادھر برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی ذرائع نے کہا امریکہ نے وقفہ برقرار رکھا تو ایران بھی حملہ نہیں کرےگا،پیغام پہلے ہی امریکہ تک پہنچایا جا چکا ،وقفے پر امید سے زیادہ شکوک موجود ہیں، غالب خیال ہے امریکہ کی جانب سے وقفہ حقیقی کی بجائے حکمت عملی پر مبنی اقدام ہے۔