افغانستان سے مزید حملے برداشت نہیں،چناب کے پانی پر حقوق کا تحفظ کرینگے،پاکستان

اسلام آباد:(بیورورپورٹ)دفتر خارجہ نے کہا ہے افغانستان سے دہشتگرد حملوں کے تسلسل نے پاکستان کے صبر کا امتحان لیا ،شہریوں ،قانون نافذ کرنےوالے اداروں پر حملوں کو مزید برداشت نہیں کیا جاسکتا، پاکستان خطے میں قیام امن کیلئے بہترین و مخلصانہ کردار ادا کر رہا ہے، فلسطین پر اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہیں، چناب کے پانی پر اپنے حقوق کا تحفظ کریں گے،نئی دہلی نے پانی روکنے یا بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کی تو جواب کےلئے تمام آپشنز موجود ہیں۔

ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفترخارجہ طاہر اندرابی نے کہا پاکستان دہشتگردی کا شکار ملک ، ہزاروں شہری جانوں کا نذرانہ دے چکے،سکیورٹی فورسز کو سرحد پار سے منصوبہ بندی، مالی معاونت و سرپرستی یافتہ دہشتگردی کا سامنا ہے، کوئی بھی ذمہ دار ریاست اپنی خودمختاری ،شہریوں کی سلامتی کو نشانہ بنانےوالے حملوں پر خاموش نہیں رہ سکتی،دہشتگردی کے تسلسل میں پاکستان نے سرحدی علاقوں میں اپنی سلامتی کے تحفظ کےلئے ضروری اقدامات کیے ، افغانستان سے یقین دہانی چاہتے ہےں کابل کی سرزمین پاکستان کےخلاف دہشتگردی کےلئے استعمال نہیں ہوگی۔

طاہر اندرابی نے کہا پاکستان افغانستان کےساتھ مسائل کے حل کےلئے مکالمے ،سفارتکاری پر یقین رکھتا ہے کیونکہ دونوں ممالک کے عوام مذہب، تاریخ، ثقافت ،لسانی روابط میں گہری وابستگی رکھتے ہیں، پاکستان افغانستان کےساتھ برادرانہ تعلقات کا خواہاں اور بات چیت کا دروازہ کھلا رکھنا چاہتا ہے،2ہفتے میں سفارتی سطح پر بہت مصروفیات رہیں، وزیراعظم نے چین کا کامیاب دورہ کیا، پاک چین مختلف مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار دورہ چین کے بعد امریکہ گئے، ملاقاتیں مفید رہیں،امن کے قیام کیلئے کوششوں پر تبادلہ خیال کیا، مارکو روبیو نے پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کی۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا8ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کی، مشرقی القدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششوں کی بھی مذمت کی گئی، اسرائیل سے فوری غیر قانونی اقدامات روکنے کا مطالبہ کیا گیا،پاکستان خطے میں امن، استحکام اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت کے موقف پر بدستور قائم ہے۔

طاہر اندرابی نے بھارت کی جانب سے دریائے چناب کا پانی دریائے بیاس کی جانب موڑنے کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا مقبوضہ کشمیر میں سلال ڈیم کی ڈی سلٹنگ کا معاملہ انتہائی تشویشناک ، پاکستان سندھ طاس معاہدے کے تحت دریائے چناب پر اپنے حقوق کی حفاظت کرے گا، بھارت سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کا پابند ہے،1978 کے سلال معاہدے کے تحت ڈیم کی ڈی سلٹنگ کی اجازت نہیں، بھارت کی جانب سے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا بین الاقوامی قوانین ،سندھ طاس معاہدے کی روح کے منافی ہے،پاکستان کی غذائی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی کسی بھی کوشش سے جنوبی ایشیا میں عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے، سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کو مغربی دریاوں کے پانی کے بلا روک ٹوک استعمال کا حق حاصل ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے جموں و کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تنازع قرار دیتے ہوئے کہا کسی بھی بین الاقوامی شخصیت کا مقبوضہ کشمیر کا دورہ خطے کی قانونی ،سیاسی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا، پاکستان، بھارت میں تعینات سوئس سفیر کے مقبوضہ کشمیر کے دورے کے معاملے پر سوئس حکام سے رابطے میں ہے،امریکہ ،ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی میں کمی اور خطے میں امن کےلئے مسلسل سفارتی کوششیں کر رہے ہیں،پاکستان کا موقف ہمیشہ سے یہی رہا اختلافات کا حل جنگ نہیں بلکہ مذاکرات اور سفارتکاری ہیں،حالیہ دنوں پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے چین، برطانیہ، یورپی یونین و دیگر اہم عالمی شراکت داروں کے ساتھ بھرپور سفارتی رابطے کیے ،مقصد علاقائی امن، عالمی تعاون اور مشترکہ چیلنجز سے نمٹنا ہے۔

طاہر اندرابی نے کہا پاکستان عالمی برادری کےساتھ ملکر خطے میں امن، استحکام اور ترقی کےلئے اپنا کردار جاری رکھے گا،بھارت میں مسلمانوں و دیگر اقلیتوں کے حقوق کی صورتحال پر شدید تشویش ہے، پاکستان انسانی حقوق کے معاملے پر یورپی یونین و دیگر بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے، یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کےساتھ ملاقات میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ اٹھایا گیا،حکومت صومالی قزاقوں کے قبضے میں 10 پاکستانیوں کی واپسی کیلئے کوشاں ہیں۔