ایران کیساتھ دو، تین روز میں معاہدہ متوقع، تیل بھی سستا ہوجائیگا: ٹرمپ

واشنگٹن (مشرق نیوز) امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران سب کچھ دینے کیلئے تیار ہے، ایران کے خلاف اسرائیلی فوجی حملوں میں کمی لانے میں کامیاب رہا۔ میڈیا سے گفتگو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران سے ڈیل کیلئے چند دنوں میں ایک آئیڈیا دے سکتا ہوں، آبنائے ہرمز میں حادثے کا شکار ہونے والے ہیلی کاپٹر کے دونوں پائلٹ ٹھیک ہیں، ہیلی کاپٹر حادثے سے متعلق آج مکمل رپورٹ جاری کریں گے۔

ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل اور ایران نے ایک ہفتے تک ایک دوسرے کے خلاف کارروائیاں نہ کرنے پر اتفاق کر لیا، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے انتہائی مثبت گفتگو ہوئی، اسرائیل پر حملہ ہوا،اس نے جواب دیا اور اب معاملہ ختم ہو گیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ معاہدہ آئندہ دو سے تین روز میں طے ہو سکتا ہے، امریکہ، ایران کے ساتھ ایک معاہدے کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا، معاہدے کے تحت ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں ہو گی، معاہدے پر دستخط ہوتے ہی آبنائے ہرمز فوری طور پر کھول دی جائیگی۔

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ ایک مضبوط اور موثر معاہدہ طے پانے کے انتہائی قریب پہنچ چکے ہیں، اگر امریکہ چاہے تو ایران پر مزید بمباری کر سکتا ہے، امریکہ جنگی راستے کو ترجیح نہیں دیتا، فوجی کارروائی سے بڑی تعداد میں جانیں ضائع ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ سفارتی معاہدہ زیادہ مو¿ثر ثابت ہو سکتا ہے، ایران کی بندرگاہوں کے خلاف امریکی ناکہ بندی نے تہران پر شدید دباو ڈالا ہے، ناکہ بندی بمباری سے بھی زیادہ طاقتور ہتھیار ثابت ہوئی ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ ایرانی معیشت شدید مشکلات کا شکار ہے،یہی دباو ایران کو معاہدے کی جانب لا رہا ہے، جلد ایک ایسا معاہدہ سامنے آئے گا جو خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ اسرائیلی چینل 12 سے گفتگو میں ٹرمپ نے بتایا کہ کشیدگی میں کمی کیلئے 5 علاقائی ممالک نے رابطہ کرکے اسرائیلی وزیراعظم پر دباو¿ ڈالنے کی درخواست کی تھی، اسرائیلی وزیراعظم سے رابطہ کرکے واضح الفاظ میں کہا کہ نہ نئی جنگ چاہتا ہوں، نہ ہی گرین سگنل دے سکتا ہوں، نیتن یاہو پر واضح کردیا تھا ایران کے خلاف جنگ کی صورت میں خود کو میدان میں اکیلے پائےگا۔

ٹرمپ نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے پانچ مختلف ممالک نے ان سے رابطہ کیا اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو پر ایران کے خلاف حملے روکنے کیلئے دباو ڈالنے کی درخواست کی تھی، یہ ممالک شدید تشویش میں مبتلا تھے، وہ اس معاہدے کو پسند کرتے ہیں اور اس کے حامی ہیں کہ جس پر ہم مذاکرات کر رہے ہیں۔ ایگزیوس اور اسرائیل کے چینل 12 کے مطابق ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران کی جانب سے پیغامات موصول ہوئے جن میں تہران نے حملے روکنے کیلئے آمادگی ظاہر کی بشرطیکہ اسرائیل بھی اپنی کارروائیاں بند کر دے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ حملوں کے تبادلے کے بعد فریقین کو سفارت کاری کی راہ پر واپس آنا چاہئے تاکہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان زیرِ مذاکرات معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکے، امریکہ اگلے دو ہفتوں کے اندر ایران پر مکمل فتح کا اعلان کر سکتا ہے، ایرانی مذاکرات کار ہمیں سب کچھ دینے کیلئے تیار ہیں۔ سی بی ایس کے مطابق صدر ٹرمپ نے جنوبی کیرولینا سے ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم اور ریاست کی گورنری کی امیدوار پامیلا اوٹ کی حمایت میں ایک ٹیلی فون ریلی میں کہا کہ آپ واقعی اگلے دو ہفتوں میں ایک فتح دیکھنے جا رہے ہیں، جب ہم مکمل فتح کا اعلان کریں گے، یہ ایک مکمل فتح ہونے والی ہے، یہ بہت جلد ہونے والی ہے، اور تیل کی قیمت ڈرامائی طور پر گرنے والی ہے۔

امریکی صدر نے حالیہ مہینوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع کے فوری خاتمے کے بارے میں بارہا ایسی ہی پیشین گوئیاں کی ہیں، فروری کے آخر میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے وہ بارہا کہہ چکے ہیں کہ بحران ہفتوں میں ختم ہو سکتا ہے، تاہم، یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کس مرحلے پر ہیں اور دونوں فریق کسی حتمی معاہدے کے کتنے قریب ہیں۔