اسلام آباد (مشرق نیوز) ایچ آئی وی کے بڑھتے کیسوں کے تناظر میں 10 سی سی سرنج پر پابندی کو مولود کے علاج کیلئے خطرہ قرار دیدیا گیا۔ چیئر مین نیشنل امیونائزیشن ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ پروفیسر ڈاکٹر خالد شفیع نے ڈریپ کے سی ای او کو ہنگامی طور پر خط لکھتے ہوئے بچوں میں ایچ آئی وی کیسوں کے تناظر میں 10 سی سی سرنج پر پابندی پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔
خط میں 10 سی سی سرنج پر مکمل پابندی کو بچوں اور نومولود کے علاج کیلئے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 10 سی سی سرنج بچوں کو ادویات کی درست مقدار دینے کیلئے ضروری ہے۔ این آئی سی یو اور وارڈ میں 10 سی سی سرنج کا متبادل موجود نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ 10 سی سی سرنج پر پابندی سے نومولود بچوں کو غذائی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ بغیر سوئی والی 10 سی سی سرنج بچوں کو مائع ادویات دینے کیلئے معمول کا طبی آلہ ہے۔ لہٰذا اس سلسلے میں شواہد پر مبنی اور ہدفی ریگولیٹری فیصلے کئے جائیں، 10 سی سی سرنج پر مکمل پابندی کے بجائے مخصوص استثنیٰ دیا جائے۔
انہوں نے ڈریپ سے ماہرین پر مشتمل مشاورتی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ انفیکشن کنٹرول کے اقدامات سے بچوں کا علاج متاثر نہیں ہونا چاہیے۔ ایچ آئی وی کی روک تھام ضروری، مگر علاج میں رکاوٹ پیدا نہ کی جائے۔
ڈاکٹر خالد شفیع نے پیڈیاٹرک اور نیونیٹل مریضوں کیلئے 10 سی سی سرنج کی دستیابی یقینی بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے ڈرریپ سے فوری مشاورت اور پابندی کے دائرہ کار پر نظرثانی کی اپیل کی ہے۔
ایچ آئی وی ، 10 سی سی سرنج پر پابندی نومولود کے علاج کیلئے خطرہ



















