وفاقی، صوبائی بجٹ میں ٹیکس نیٹ بڑھانے کیلئے نئے اقدامات

لاہور (نعیم جاوید) مالی سال 2026-27ءکے وفاقی اور صوبائی بجٹ میں محصولات بڑھانے، مالی خسارہ کم کرنے اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کیلئے متعدد نئے اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں جن کے کاروباری طبقے، صنعت اور عام صارفین پر دور رس اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔ حکومت نے ریونیو کے حصول کیلئے ٹیکس انتظامیہ کو مزید مو¿ثر بنانے، نان فائلرز کے خلاف سخت اقدامات اور معیشت کی دستاویز بندی کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ تاجر برادری اور صنعتکاروں نے بعض تجاویز پر تحفظات کا اظہار کیا ہے حکومتی حکام کے مطابق آئندہ مالی سال کیلئے محصولات کے اہداف گزشتہ برس کے مقابلے میں نمایاں طور پر بڑھائے گئے۔ ان اہداف کے حصول کیلئے ٹیکس چوری کی روک تھام، ڈیجیٹل مانیٹرنگ، بینکنگ اور مالیاتی لین دین کی نگرانی اور مختلف شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کی حکمت عملی اپنائی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ محصولات میں اضافے کے بغیر ترقیاتی منصوبوں، سماجی بہبود کے پروگراموں اور قرضوں کی ادائیگی کیلئے درکار وسائل کی فراہمی ممکن نہیںبجٹ میں بعض شعبوں کیلئے نئے ٹیکس اقدامات بھی تجویز کئے گئے ہیں۔ ٹیکس حکام کے مطابق غیر دستاویزی معیشت کو دستاویزی شکل دینے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھایا جائے گا جبکہ ایسے افراد کی نشاندہی بھی کی جائے گی جو مہنگی جائیدادوں، گاڑیوں اور دیگر اثاثوں کے مالک ہیں لیکن ٹیکس نظام میں شامل نہیں۔ اس مقصد کیلئے مختلف سرکاری اداروں کے ڈیٹا کو یکجا کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے پنجاب سمیت دیگر صوبائی حکومتوں نے بھی اپنے محصولات بڑھانے کیلئے مختلف اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ صوبائی حکام کا مو¿قف ہے کہ ترقیاتی منصوبوں، انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کی بہتری کیلئے اضافی وسائل ناگزیر ہیں۔ تاہم کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ نئے ٹیکس عائد کرنے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسعت دی جائے اور موجودہ ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈالنے سے گریز کیا جائے لاہور کی مختلف تجارتی تنظیموں کے نمائندوں نے بجٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کاروباری برادری پہلے ہی بلند شرح سود، مہنگی بجلی، گیس اور بڑھتی ہوئی کاروباری لاگت کے باعث مشکلات کا شکار ہے۔ ان کے مطابق مزید ٹیکسوں سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونے اور مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ہے۔ تاجروں نے مطالبہ کیا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو خصوصی ریلیف فراہم کیا جائے اور ٹیکس قوانین کو آسان بنایا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ رضاکارانہ طور پر ٹیکس نظام میں شامل ہو سکیں صنعتکاروں کا کہنا ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ اور صنعتی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق پیداواری لاگت میں مسلسل اضافے کے باعث پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں مسابقت کھو رہی ہیں۔ صنعتی نمائندوں نے مطالبہ کیا کہ خام مال پر عائد ڈیوٹیوں میں کمی، توانائی کی قیمتوں میں استحکام اور ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنایا جائے تاکہ صنعتی شعبہ ترقی کر سکے ٹیکس ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کیلئے سب سے بڑا چیلنج ریونیو میں اضافے اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے درمیان توازن قائم رکھنا ہے۔ ماہرین کے مطابق صرف ٹیکس کی شرحوں میں اضافہ کافی نہیں بلکہ ٹیکس بیس کو وسعت دینا اور ٹیکس انتظامیہ میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ، کاروباری رجسٹریشن کے آسان نظام اور ٹیکس تنازعات کے فوری حل سے محصولات میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے معاشی ماہرین کے مطابق بجٹ میں متعارف کرائی گئی بعض تجاویز کے اثرات بالواسطہ طور پر عام صارفین تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ اگر کاروباری لاگت میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کا اثر اشیائے ضروریہ اور مختلف خدمات کی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے۔ تاہم حکومتی حلقوں کا مو¿قف ہے کہ مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور ترقیاتی اخراجات کے ذریعے طویل المدتی معاشی استحکام حاصل کیا جا سکے گا کاروباری تنظیموں، صنعتکاروں اور ٹیکس ماہرین کی اکثریت کا خیال ہے کہ پائیدار معاشی ترقی اور محصولات میں اضافے کیلئے ضروری ہے کہ حکومت نئے ٹیکس لگانے کے ساتھ ساتھ ٹیکس نیٹ میں توسیع، معیشت کی دستاویز بندی اور کاروبار دوست اصلاحات پر بھی خصوصی توجہ دے تاکہ ریونیو اہداف کے حصول کے ساتھ سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع بھی متاثر نہ ہوں۔