مہنگائی یا ریلیف؟،وفاقی بجٹ آج ،تنخواہوں و پنشن میں اضافہ متوقع

اسلام آباد،لاہور: (بیورورپورٹ،نمائندہ خصوصی)مہنگائی یا ریلیف؟،وفاقی وزیر خزانہ سینیٹراور نگزیب 17.5ٹریلین روپے سے زائد حجم کا وفاقی بجٹ آج پیش کریں گے۔

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں و پنشن میں اضافہ ،ٹیکس شرح میں50ارب تک ریلیف کا امکان ،ٹیکس ریونیو کا ہدف 15ہزار 267ارب متوقع ہے،وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت ہونیو الے وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس میں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کے مسودے اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں و پنشن میں اضافے کی منظوری دی جائیگی،وفاقی کابینہ کی منظوری کے فوری بعد وزیر خزانہ اورنگزیب اگلے مالی سال کا وفاقی بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کریں گے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ میں سولر پینلز، سٹیشنری اشیا ،سٹاک مارکیٹ پر عائد ٹیکسوں میں کسی قسم کی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا،سولر پینلز پر سیلز ٹیکس کی شرح 10سے بڑھا کر 18فیصد کرنے کی تجویز واپس ،سٹیشنری اشیا پر سیلز ٹیکس میں اضافے کی مجوزہ تجویز بھی بجٹ کا حصہ نہیں بنے گی۔

درآمدی الیکٹرک گاڑیوں (ای ویز)پر سیلز ٹیکس کی شرح 25فیصد تک بڑھانے ، ہائبرڈ گاڑیوں پر موجودہ ٹیکس شرحیں برقرار رہنے ،ماحول دوست الیکٹرک گاڑیوں کیلئے ٹیکس ریلیف دیئے جانے کا امکان ہے ،روایتی ایندھن پر چلنے والی گاڑیوں پر کاربن لیوی لگانے کی تجویز ہے ،بڑی گاڑیاں مزید مہنگی ہونے کا خدشہ ،مقامی سطح پر تیار الیکٹرک وہیکلز سستی ہونے کی امید ہے تاہم ہائبرڈ گاڑیوں پر معمول کے ٹیکس برقرار رہیں گے۔