واشنگٹن (مشرق نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران پر امریکی حملے عارضی طور پر روکے گئے ہیں، تاہم اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو سخت فوجی کارروائی کی جائیگی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی جریدے ایگزیوس کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور آبنائے ہرمز کی صورتحال اور جوہری معاہدے سے متعلق اہم بات چیت ہو رہی ہے، ایران، عمان، قطر، پاکستان اور مصر اس سفارتی عمل میں سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا تاثر ہے کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، تاہم معاہدہ یا تو جلد ہو جائے گا یا پھر بالکل نہیں ہوگا، ٹرمپ کے مطابق ثالث ممالک کی اپیل پر ایران پر حملے روکنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ حملے موخر ہونے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی آئی جبکہ امریکی سٹاک مارکیٹ میں بھی تیزی دیکھی گئی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ نہ ہوتے تو ایران اب تک جوہری طاقت بن چکا ہوتا۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی آج وائٹ ہاوس میں اہم ملاقات بھی متوقع ہے، جس میں ایران، غزہ اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیے جانے کا امکان ہے۔
حملے عارضی طور پر روکے، مذاکرات ناکام ہوئے تو فوجی کارروائی ہوگی: ٹرمپ



















