واشنگٹن،تہران :(بیورورپورٹ،مشرق نیوز)امریکہ نے بڑی فوجی قوت ایران کی طرف بھیج دی،جنگی بحری جہاز اور طیارے شامل ہیں۔
ائیر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا بڑی فورس ایران کی جانب رواں دواں ، بہت سے جہاز،طیارے شامل ہیں، فوجی نقل و حرکت کا مطلب لازمی کارروائی کرنا نہیں،ایران پر گہری نظر ،احتیاطی طور پر فورس تعینات کر رہے ہیں، دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے،میری دھمکی کے بعد ایران نے پھانسیاں منسوخ کر دیں۔
ٹرمپ نے کہا ایران بات چیت کرنا چاہتا ہے تو تیار ہیں،تہران نے نیوکلیئر ہتھیار بنائے تو دوبارہ حملہ کریں گے،ممکنہ حملہ جوہری پروگرام پرپہلے سے بھی بڑا ہوگا، شاید فوجی طاقت استعمال نہ کرنی پڑے،یوکرین جنگ کے خاتمے کیلئے کوشاں ہیں، گرین لینڈ کی سکیورٹی پر نیٹو کےساتھ ملکر کام کریں گے، اپریل میں چین جاوں گا اور سال کے اختتام پر چینی صدر امریکہ آئیں گے۔
دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب گارڈز کے سربراہ جنرل پاکپور نے کہا کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں فوری ردعمل دیں گے، جواب دینے کےلئے تیار ہیں،واضح پیغام ہے دشمن غلط فہمی میں نہ رہے، ہاتھ ہتھیاروں کے ٹریگر پر ہے، کسی بھی حملے کابھرپور جواب دینگے،طاقت کاغلط اندازے لگانے والوں کیلئے نتیجہ اچھا نہیں آئے گا۔
جنرل پاکپور نے کہا دشمنوں کو 12 روزہ جنگ کے بعد کم ازکم اتنا اندازہ تو ہوگیا ہوگا،حملے کی صورت میں دردناک صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا،ماضی کے مقابلے میں ایرانی فوج پہلے سے زیادہ بہتر طور پر تیار،صیہونی ریاست یا امریکہ نے کوئی سازش کی تو جواب دیا جائے گا۔
امریکہ نے فوجی قوت ایران کی طرف بھیج دی،انگلیاں ٹریگر پر ہیں، تہران



















