کراچی (مشرق نیوز) سٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اہم اجلاس آج ہوگا جس میں آئندہ ڈیڑھ ماہ کیلئے شرح سود کا تعین کیا جائیگا۔ اجلاس میں ملکی معاشی اشاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، خاص طور پر افراط زر پر موجود دباو اور اس سے متعلق عوامل کو بھی زیر غور لایا جائیگا۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی اپنے جائزے کے دوران مہنگائی کی صورتحال کا تجزیہ کریگی۔
ذرائع کے مطابق مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث افراط زر پر پڑنے والے دباو کو بھی اہمیت دی جائے گی، کیونکہ گزشتہ مانیٹری پالیسی جائزے میں انہی خدشات کی بنیاد پر شرح سود میں اضافہ کیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ 27 اپریل کو ہونے والے مانیٹری پالیسی جائزے میں شرح سود 100 بیسس پوائنٹس بڑھا کر 11.50 فیصد مقرر کی گئی تھی۔ اس فیصلے کی وجہ مہنگائی کے ممکنہ دباو اور بیرونی عوامل کو قرار دیا گیا تھا۔
آج ہونیوالا مانیٹری پالیسی جائزہ مالی سال 2026-26 کا آخری جائزہ ہوگا۔ واضح رہے کہ ختم ہونے والے مالی سال کے دوران پالیسی ریٹ (شرح سود) ایک مرتبہ 100 بیسس پوائنٹس بڑھایا گیا تھا۔ اب مارکیٹ اور کاروباری حلقوں کی نظریں مانیٹری پالیسی کمیٹی کے آج کے فیصلے پر مرکوز ہیں، جس کے تحت آئندہ ڈیڑھ ماہ کیلئے شرح سود کا تعین کیا جائیگا۔
شرح سود کا تعین کرنے کیلئے مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اہم اجلاس آج ہوگا


















