لاگت میں مسلسل اضافے کاروباری ادارے شدید مالی دباو کا شکار

لاہور (نعیم جاوید)بڑھتے ہوئے ٹیکسوں، بجلی کے بلند نرخوں، گیس کی مہنگی فراہمی، خام مال کی قیمتوں میں اضافے اور کاروباری لاگت میں مسلسل اضافے نے لاہور کی صنعتوں، تجارتی مراکز اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو شدید مالی دباو¿ کا شکار کر دیا ہے۔ صنعتکاروں اور تاجروں کا کہنا ہے کہ پیداواری لاگت میں نمایاں اضافے کے باعث مقامی مصنوعات کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں جبکہ عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کی مسابقت بھی متاثر ہو رہی ہے کاروباری حلقوں کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں بجلی کے نرخوں، مختلف ٹیکسوں، ودہولڈنگ ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر سرکاری محصولات میں اضافے نے پیداواری اخراجات میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ اس صورتحال کے باعث متعدد چھوٹی صنعتیں اپنی پیداواری صلاحیت کم کرنے یا جزوی طور پر بند کرنے پر مجبور ہو گئی ہیں جبکہ کئی کاروباری اداروں نے نئی سرمایہ کاری بھی روک دی ہے صنعتکاروں کا کہنا ہے کہ بجلی کے بھاری بل، گیس کی غیر یقینی فراہمی اور مہنگے بینک قرضوں نے برآمدی صنعت کو بھی متاثر کیا ہے۔ پیداواری لاگت بڑھنے سے پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں مہنگی ہو رہی ہیں، جس کے نتیجے میں برآمدات اور نئے آرڈرز حاصل کرنا مشکل بنتا جا رہا ہے کاروباری تنظیموں کے مطابق بڑھتے ہوئے اخراجات کا براہ راست اثر روزگار پر بھی پڑ رہا ہے۔ متعدد فیکٹریوں میں اوور ٹائم ختم کر دیا گیا ہے، نئی بھرتیاں روک دی گئی ہیں جبکہ بعض اداروں نے اخراجات کم کرنے کیلئے ملازمین کی تعداد میں کمی بھی کی ہے۔ اس صورتحال سے ہنرمند اور نیم ہنرمند مزدوروں سمیت ہزاروں خاندان متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے تاجر برادری کا کہنا ہے کہ بڑھتی مہنگائی کے باعث عوام کی قوت خرید کم ہوئی ہے جس کے نتیجے میں مارکیٹوں میں کاروباری سرگرمیاں سست پڑ گئی ہیں۔ دکانداروں کے مطابق فروخت میں کمی کے باوجود بجلی، کرایوں، ٹیکسوں اور دیگر اخراجات میں مسلسل اضافہ کاروبار کو مزید مشکل بنا رہا ہے لاہور کی مختلف تاجر تنظیموں، صنعتی ایسوسی ایشنز اور کاروباری نمائندوں نے حکومت کو مشترکہ تجاویز پیش کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ ان تجاویز میں صنعتی اور تجارتی شعبے کیلئے بجلی کے نرخوں میں کمی، ٹیکس نظام کو آسان اور شفاف بنانا، متعدد ٹیکسوں کی جگہ سادہ نظام متعارف کرانا، گیس کی بلا تعطل فراہمی، برآمدی صنعت کیلئے خصوصی ریلیف، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کیلئے آسان قرضوں کی فراہمی، ایف بی آر کے طریقہ کار کو کاروبار دوست بنانا اور صنعت دوست پالیسیوں کے تسلسل کو یقینی بنانا شامل ہے تاجر تنظیموں کا مو¿قف ہے کہ اگر پیداواری لاگت میں کمی کیلئے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو صنعتوں کی بندش، بے روزگاری اور سرمایہ کاری میں مزید کمی کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو محصولات بڑھانے کے بجائے صنعتی پیداوار، برآمدات اور نئے کاروبار کے فروغ پر توجہ دینی چاہیے تاکہ معیشت مستحکم ہو، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں اور ٹیکس وصولیوں میں بھی قدرتی اضافہ ممکن ہوکاروباری برادری نے حکومت پر زور دیا ہے کہ آئندہ معاشی پالیسیوں کی تشکیل میں تاجروں، صنعتکاروں، برآمد کنندگان اور متعلقہ چیمبرز آف کامرس کو اعتماد میں لیا جائے تاکہ ایسے فیصلے کیے جا سکیں جو ملکی معیشت، صنعت اور روزگار کے فروغ میں مو¿ثر کردار ادا کریں۔