لندن (مشرق نیوز) فیلڈ مارشل آرمی چیف عاصم منیر نے امریکی صدر سے کہا ہے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی مذاکرات میں رکاوٹ ہے،برطانوی خبررساں ایجنسی نے پاکستانی سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کیا جس میں مذاکرات کے حوالے سے بات چیت کی گئی،فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ٹرمپ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی مذاکرات میں رکاوٹ ہے تاہم امریکی صدر کا جواب میں کہنا تھا وہ فیلڈ مارشل کی رائے پر غور کریں گے،موجودہ خطے کی صورتحال میں رابطہ کافی اہم تصور کیا جارہا ہے،مزید بر آں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی میں متضاد رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں جہاں ایک طرف وہ سخت بیانات دے رہے ہیں اور دوسری جانب مستقل امن معاہدے کی خواہش بھی ظاہر کر رہے ہیں،بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے 2 ہفتے مکمل ہونے کے قریب ہیں ، امریکی صدر صورتحال سے نکلنے کے راستے تلاش کر رہے ہیں،این ڈی ٹی وی نے رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے صدر ٹرمپ کو خدشہ ہے تنازع 1979ءکے ایرانی یرغمالی بحران جیسی صورتحال اختیار کر سکتا ہے جو امریکی خارجہ پالیسی کی بڑی ناکامیوں میں شمار ہوتا ہے،اسی وجہ سے ان کے قریبی معاونین اہم معلومات کو محدود انداز میں ان تک پہنچا رہے ہیں تاکہ ان کی بے صبری فیصلہ سازی پر اثر انداز نہ ہو،بھارتی میڈیا کے مطابق مارچ میں ایران کی جانب سے امریکی لڑاکا طیارہ مار گرائے جانے کے بعد صدر ٹرمپ نے شدید ردعمل دیا تھا اور فوری طور پر اہلکاروں کی واپسی کا مطالبہ کیا تھا تاہم زمینی حقائق کے باعث عمل پیچیدہ رہا،بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ جنگ میں امریکی فوجیوں کے جانی نقصان سے بھی پریشان ہیں اور طویل تنازع سے بچنا چاہتے ہیں، اس کے باوجود وہ بعض اوقات قومی سلامتی ٹیم کی مشاورت کے بغیر سخت بیانات جاری کرتے رہے ہیں جنہیں ان کے مشیر مذاکرات پر دباو ڈالنے کی حکمت عملی قرار دیتے ہیں،این ڈی ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے امریکی صدر ٹرمپ کا خیال ہے سخت اور غیر متوقع رویہ ایران کو مذاکرات پر آمادہ کر سکتا ہے، ساتھ ہی وہ جنگی کارروائیوں میں نشانہ بنائے گئے ایرانی اہداف کو کامیابی کا پیمانہ بھی سمجھ رہے ہیں۔
آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی مذاکرات میں رکاوٹ ہی ہے: فیلڈ مارشل کی ٹرمپ سے گفتگو


















