لاہور (میاں ذیشان) سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب نبیل جاوید کی زیر نگرانی اراضی ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن مہم میں ایک اور اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں پنجاب بھر سے مزید 42 مواضعات کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کا باقاعدہ عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کی دفعہ 41-A کی ذیلی دفعہ (2) کے تحت اراضی ریکارڈ کو جدید، شفاف اور مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام پر منتقل کرنا ہے جبکہ سات روز کیلئے ان مواضعات میں انتقالات کی توثیق کا عمل معطل رہے گا تاکہ دستی ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ نظام میں منتقل کرنے کا عمل مکمل کیا جا سکے اور 4 اگست 2026سے مذکورہ موضع میں کمپیوٹرائزڈ لینڈ ریکارڈ سسٹم پر باقاعدہ کام شروع ہو جائے گا۔ اس اقدام سے شہریوں کو اراضی سے متعلق خدمات مزید تیز، شفاف اور آن لائن دستیاب ہوں گی جبکہ صوبے بھر میں مرحلہ وار ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو بھی نئی رفتار ملے گی۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب بورڈ آف ریونیو نے صوبے کے مزید 42 مواضعات کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے اراضی ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن مہم کو مزید وسعت دے دی ہے۔ بورڈ آف ریونیو پنجاب کی طرف سے جاری کردہ مراسلہ جات کے مطابق ضلع لاہور سے 10 مواضعات تحصیل راوی سے جیا موسیٰ، تحصیل سٹی سے کھاڑک، شیش محل، تحصیل صدر سے پڈھانہ، تحصیل سے واہگہ مناواں، جلو، تحصیل نشتر سے کاچھہ، جھیڈو، تحصیل ماڈل ٹاﺅن سے اجودھیا پور، تحصیل شالیمار سے شادی پورہ شامل ہیں۔ اسی طرح ضلع اوکاڑہ سے 1 موضع چک نمبر 20-A/21 تحصیل رینالہ خورد، جبکہ ضلع چنیوٹ سے 2 موضع چنیوٹ 1، موضع چنیوٹ 2، ضلع فیصل آباد سے 3 موضع چک نمبر 421 گ ب اربن تحصیل تاندلیانوالہ، چک نمبر 261 ر ب، چک نمبر 259 ر ب تحصیل صدر، ضلع وہاڑی سے 1 موضع فدہ تحصیل میلسی، ضلع ملتان سے 8 موضع سلطان پور چمڑ، قادر پور لاڑ سکنی، قادر پور غربی، گٹھ برابر، گھڑیالہ اربن، گھڑیالہ رورل، لاڑ تحصیل صدر جبکہ مظفر آباد تحصیل سٹی سے شامل ہیں۔ اسی طرح ضلع لودھراں سے 2 موضع دنیا پور شرقی اربن، دنیا پور شرقی رورل تحصیل دنیا پور، ضلع خانیوال سے 3 موضع تلمبہ اربن تحصیل میاں چنوں، موضع باقر پور، موضع مولا پور تحصیل کبیر والا، ضلع وہاڑی سے 1 موضع مصطفیٰ آباد، ضلع بھکر سے 1 موضع ڈھنگانہ تحصیل منکیرہ، ضلع سیالکوٹ سے 1 ڈوگری ہریاں تحصیل پسرور، ضلع رحیم یار خان سے 5 موضع چیک نمبر NP/10، موضع داعوالہ، موضع کوٹلہ حیات، موضع مورن، موضع واحد بخش لاڑ تحصیل صادق آباد، ضلع بہاولپور سے 1 موضع بندرہ تحصیل بہاولپور سٹی، ضلع وزیر آباد سے 1 موضع اکال گڑھ تحصیل و ضلع وزیر آباد، ضلع گجرات سے 1 موضع شادیوال خانکے اندرون تحصیل کنجاہ، ضلع منڈی بہاﺅالدین سے 1 موضع واسو شامل ہیں۔ بورڈ آف ریونیو کے سیکرٹری شفقت اللہ مشتاق کے مطابق ان مواضعات کا ریکارڈ آن لائن ہونے کے بعد شہریوں کو فرد، انتقال، رجسٹری، ملکیت کی تصدیق، گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ اور دیگر لینڈ ریکارڈ سروسز زیادہ تیز، شفاف اور کم وقت میں دستیاب ہوں گی جبکہ آن لائن تصدیق سے جعلسازی، ریکارڈ میں ردوبدل اور غیر ضروری دفتری پیچیدگیوں میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔ 28 جولائی 2026 سے سات روز کیلئے اس موضع میں انتقالات کی توثیق کا عمل معطل رہے گا تاکہ دستی ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ نظام میں منتقل کرنے کا عمل مکمل کیا جا سکے۔ اس مدت کے اختتام کے بعد مذکورہ موضع کے تمام انتقالات صرف ڈیجیٹل نظام کے ذریعے اراضی ریکارڈ سنٹر، کوالٹی اشورنس ریکارڈ سنٹر، مینجمنٹ اینڈ ریکارڈ سنٹر اور ڈیجیٹل میوٹیشن مینجمنٹ کے تحت انجام دیے جائیں گے۔ مراسلہ جات میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ آئندہ مذکورہ مواضعات میں جائیداد کی رجسٹری کیلئے سب رجسٹرار صرف کمپیوٹرائزڈ فردِ ملکیت کو ہی قابل قبول تصور کریں گے، جس سے روایتی دستی ریکارڈ کی جگہ مکمل ڈیجیٹل نظام نافذ ہو جائے گا۔ مراسلہ جات کی کی نقول پنجاب بھر کے کمشنرز، ڈائریکر جنرل پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی، پراجیکٹ ڈائریکٹر پنجاب اربن لینڈ سسٹم انہانسمنٹ پراجیکٹ، ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈز، ڈپٹی کمشنرز ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز (ریونیو)، اسسٹنٹ کمشنرز، سب رجسٹرارز، رجسٹرار بورڈ آف ریونیو اور دیگر متعلقہ حکام کو ضروری کارروائی کیلئے ارسال کر دی گئی ہیں۔ محکمہ بورڈ آف ریونیو کے پنجاب سینئر ممبر بورڈ آف رینونیو نبیل جاوید کی نگرانی میں جاری ڈیجیٹلائزیشن مہم کا مقصد ریونیو نظام میں شفافیت، سروس ڈیلیوری میں بہتری اور شہریوں کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے فوری اور معیاری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
مزید 42 مواضعات کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنیکا عمل شروع



















