مشکل معاشی حالات کے باوجود متوازن بجٹ پیش کیا:وزیر خزانہ پنجاب

لاہور (اپنے رپورٹر سے) صوبائی وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے بجٹ 2026-27پر عام بحث سمیٹتے ہوئے حکومت کی معاشی کارکردگی، ترقیاتی منصوبوں اور ریونیو اہداف کا دفاع کرتے ہوئے حکومت نے مشکل معاشی حالات کے باوجود متوازن بجٹ پیش کیا ،پنجاب حکومت نے صوبے کے ذمے 760ارب کا قرضہ ختم کیا ،رواں مالی سال کا ترقیاتی بجٹ 1240ارب تھا جس میں سے1153ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں جو 93فیصد بنتا ہے،پی ٹی آئی والے کبھی بابا رحمتے ، کبھی جنرل باجوہ اور کبھی جنرل فیض سے فیضیاب ہوئے لیکن اب آپ کے لئے کوئی نہیں آئے گا ، اگلی بار جب آپ میدان میں آئیں گے تو آپ کو لگ پتہ جائے گا، بار بار کہتے ہیں یہ ہمارا آخری بجٹ ہے یہ یہی کہتے رہیں گے اور ہم پانچواں بجٹ پیش کر کے دوبارہ انتخابی میدان میں ہوں گے ،عوام اتنے بیوقوف نہیں جتنا یہ عوام کو سمجھتے ہیں۔ وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے بجٹ پر عام بحث کو سمیٹتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو جوعزت دی ہے میں اس پر وزیر اعظم شہباز شریف ، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ،ان کی وجہ سے آج ساری قوم کا سر فخر سے بلند ہو گیا ہے،اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو سر خرو کیاہے اور ساری دنیا میں پاکستان کا نام بلند ہوا ہے ، ساری دنیا میں سبز پاسپورٹ کی عزت ہورہی ہے ، اوورسیز پاکستانی سبز پاسپورٹ پر فخر کر رہے ہیں۔ انہوں ے کہا کہ میں پانچ روز تک اپوزیشن کے دوستوں کی باتیں سنتا رہا ، اگر انہیں شہباز شریف کا نام لیتے ہوئے ،اسحاق ڈار کا نام لیتے ہوئے مسئلہ ہو رہا تھا لیکن کسی نے فیلڈ مارشل کا بھی نام نہیںلیا جن کی وجہ سے پاکستان کو یہ غیر معمولی عزت ملی ہے ۔ یہاں ایک ایسا وزیر اعظم بھی تھا جو کہتا تھاکہ امریکہ کے صدر کوفون کرتا ہوں وہ فون نہیں سنتا ، بار بار مس کال کرتا تھا ،آج وہ وقت ہے کہ امریکہ کے صدر نے جتنی مرتبہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا نام لیا ہے یہ بھی ایک عالمی ریکارڈ ہو گیا ہے ۔ وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا کہ میںسب سے پہلے معزز اراکین کا شکریہ اد اکرتا ہوں جنہوںنے بجٹ پر اپنی قیمتی آراءاور تجاویز پیش کیں ، میںعوامی مسائل کی نشاندہی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں،یہی جمہوری عمل ہے کہ عوام کی ضروریات کو پالیسی ساز ی کا حصہ بنایا جائے ،بہت سارے معزز ممبران نے اپنے حلقوں میں نئے ہسپتالوں کی تعمیر ، پہلے سے موجود ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن کی بات کی ،سکولز ، کالجز ،یونیورسزٹیز کے کیمپسز کی بات کی ، اپ گریڈیشن کی بات کی، نئی شاہراہوں کی تعمیر کی بات کی ، ہم نے تمام تجاویز اور مطالبات کو غور سے سنا ہے اور پوری کوشش کریں گے کہ محدود وسائل میں رہتے ہوئے ان کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں۔انہوں نے کہا کہ یہ امر قابل ذکر ہے مشکل ترین معاشی حالات میں متوازن بجٹ ترتیب دیاگیا ہے ، پنجاب نے قرضوں کی ادائیگی،دفاع اور آبی ذخائر کی تعمیر کی مد میںوفاقی حکومت546ارب روپے کی گرانٹ دی ہے ،ہم فخر سے کہتے ہیں اگر پاکستان مضبوط ہوگا تو صوبے مضبوط ہوں گے،ہمارے بہت سارے دوستوںنے اعتراض کیا پنجاب نے وفاق کو 546ارب کی گرانٹ کیوں دی ہے ، ہم فخرسے کہتے ہیں کہ ہم نے پاکستان کی بقاء، سلامتی ،روشن مستقبل کے لئے یہ فیصلہ کیاہے اور مستقبل میں فیصلے کرنے پڑے تو پنجاب بڑا صوبہ ہونے کے ناطے اپنا حق ادا کرتا رہے گا۔اس کے باوجود مالی نظم و ضبط ،ترقیاتی ترجیحات اورمتوازن راستہ اختیا ر کرتے ہوئے معاشی استحکام کو مضبوط بنایا جائے گا جوپنجاب کی عوام کو سہولیات کی فراہمی کی بنیاد بنائے گا۔انہوںنے کہا کہ اچھا ہوتا کہ آج قائد حزب اختلاف یہاں تشریف فرما ہوتے ۔انہوںنے کہاکہ حکومت نے نواز شریف میڈیکل سٹی کے لئے 169ارب روپے رکھے ہیں جبکہ قائد حزب اختلاف نے کہا کہ حکومت نے 1690ارب روپے رکھے ہوئے ہیں یہ تو ترقیاتی بجٹ کے حجم سے بھی زیادہ رقم بنتی ہے ، اسی طرح قائد حزب اختلاف نے کہا کہ حکومت نے مریم نواز شریف ہیلتھ کلینک کے لئے98ارب40کروڑ روپے رکھے ہیں جبکہ اس کی اصل لاگت 9ارب80کروڑ ہے ،یہ کہا گیا کہ مریم نواز سپورٹس سٹی کے لئے 502ارب مختص کئے گئے ہیں ،اصل میںاس منصوبے کے لئے50ارب روپے رکھے ہیں ۔