پنجاب حکومت کا رمضان پیکیج عوام کیلئے درد سر، ہیلپ لائن منہ چڑانے لگی ،فراڈئیے بھی متحرک ہوگئے

لاہور ( سروے رپورٹ: میاں ساجد / عکاسی: میاں شاہنواز )عوام پریشان، موجودہ رمضان ریلیف پیکیج غریبوں کیلئے درد سر بن گیا، متوسط طبقے رُل گئے، پنجاب حکومت کی ریلیف ہیلپ لائن 1000 عوام کا منہ چڑانے لگی، نہ کال موصول نہ جواب کی فراہمی، پیکیج کے حصول کیلئے عوام کے برعکس فراڈئیے متحرک ہوگئے، عوام کے ارمانوں سے کھیلنے لگے، خودساختہ مسیجز کے ذریعے مختلف گروپوں میں رمضان پیکیج کے بنائے ہوئے مسیج کرکے لنک شیئر کرکے عوام کا ڈیٹا چرانے لگے کہ رمضان ریلیف پیکیج عوام کیلئے مشکلات اور وبال جان بن گیا ، 1000 ہیلپ لائن پر کال کرنے والی عوام کو جواب آپ کا بیلنس اس کال کیلئے ناکافی ہے۔ لاہوریوں میں تشویش حکومت کی جانب سے کوئی بھی مثبت پالیسی تاحال سامنے نہیں آئی۔ غریبوں کیلئے رمضان پیکیج کا حصول مشکل۔ عوام کی ہیلپ لائن 1000 پر دن رات کالیں، عوام نے حکومت کی ہیلپ لائن کو مسترد کر دیا۔ پچھلا رمضان ریلیف پیکیج بہتر مبلغ 10000 ہزار کی رقم یونین کونسل کی سطح پر گھروں کی دہلیز پر فراہم ہوئی۔ موجودہ صورتحال کے پیش نظر واضح ہو گیا، حکومت پنجاب نے ہمارے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار شہری عبدالجبار ، غلام محمد ، خلیل ، کامران جلیل ، افضل ، اشفاق ، عبدالستار ، رحمان خالد اور الامان خان کی روزنامہ مشرق سروے میں خصوصی گفتگو۔ شہری عبدالجبار غلام محمد اور خلیل نے کہا کہ پچھلا رمضان ریلیف پیکیج بہتر تھا، ہمیں رمضان پیکیج کے حوالے سے 10000 ہزار کی رقم گھروں میں موصول ہوگئی تھی۔ اب وزیراعلیٰ پنجاب کو کسی نے غلط گائیڈ کر دیا، جدید سسٹم سے غریبوں کا منسلک کرنا دھوکہ ہے جس کی بھر پور لفظوں میں مذمت کرتے ہیں۔ حکومت نے اس رمضان میں پورے پنجاب کیلئے ایک ہی نمبر مہیا کرکے عوام کو ٹرک کی بتی کی پیچھے لگایا ہے۔ رمضان ریلیف پیکیج کے حصول کیلئے عوام 1000 ہزار پر کالیں کرنے میں مصروف لیکن تاحال کسی نتیجہ پر بھی نہیں پہنچے۔ ہمارا پنجاب حکومت سے مطالبہ ہے اس کو دوبارہ پچھلے رمضان کی طرح یونین کونسل کی سطح پر شروع کیا جائے۔ ہیلپ لائن 1000 سمجھ سے بالاتر ہے۔ پچھلے رمضان میں PSER سروے کے ذریعہ رمضان پیکیج کیلئے یونین کونسل کی سطح پر عوام کو بلایا جاتا اور 10000 ہزار کی رقم ہر وہ مستحق خاندانوں تک پہنچی جو اس حقدار تھے۔ اس بار رمضان ریلیف پیکیج غریبوں کی حق تلفی بن کر ہماری پریشانی کا سبب بنا ہے۔ 1000 ییلپ لائن نے ہمیں متاثر کیا اس سے بالکل اتفاق نہیں کرتے پچھلی دفعہ عوام کو رمضان ریلیف پیکیج بہتر طریقہ سے مہیا کیا گیا قومی شناختی کارڈ کے حامل افراد کو یونین کونسل کی سطح پر رمضان پیکیج کی رقم بڑی آسانی سے فراہم ہوئی۔ لیکن موجودہ رمضان ریلیف پیکیج ہمارے لئے پریشانیوں کا باعث ہے۔ خدارا پنجاب حکومت ہمارے لئے آسانی پیدا کرے اور یہی رمضان پیکیج یونین کونسل کی سطح پر شروع کیا جائے تاکہ 10000 ہزار کی رقم ہم مستحق افراد تک پہنچے۔ ہیلپ لائن 1000 ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ کامران جلیل، محمد افضل ، محمد اشفاق عبدالستار رحمان خالد اور الامان خان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کا احسن اقدامات قابل ستائش ہیں کہ ہم متوسط طبقوں کیلئے رمضا ن ریلیف پیکیج کی فراہمی اور مبلغ10000 ہزار کی رقوم کا حصول پچھلے رمضان کی طرح ہونا چاہیے۔ ہیلپ لائن 1000 پر متعدد بار کال کرکے مایوسی ہوئی ہے پچھلے رمضان میں ہمیں مایوسی نہیں خوشی ہوئی تھی۔ اس رمضان میں ہم پریشان ہوئے ہیں یکم رمضان سے لیکر آج 5 رمضان المبارک 23 فروری تک ہمارا اس ہیلپ لائن پر رابط کرنے کے باوجود مایوسی ہوئی ہے۔ اس ہیلپ لائن پر کال کرتے ہیں تو آگے ریکارڈ ٹیپ بولتی جھٹ سے جواب فراہم کرتی ہے کہ آپ کے پاس تو بینلس نہیں ہے۔ وافر منٹس اور بینلس ہونے کے باوجود جواب میں صاف انکار ہم غریبوں کی حق تلفی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجا ب سے دلی التماس ہے کہ اس پر ذاتی نوٹس لے کر ہمارے دکھوں پر مرہم عیسی رکھیں۔ 10000 ہزار کی رمضان ریلیف پیکیج کو یونین کونسل کی سطح پر رائج کروائیں پچھلی دفعہ قومی شناختی کارڈ کے ذریعہ ہم نے بھی پیسے وصول کیے ہیں بلکہ جو بھی مستحقین تھے ان کے گھروں تک رمضان ریلیف پیکیج پہنچا تھا۔ جس کی مبلغ رقم 10000 تھی لیکن اس بار نئی ہیلپ لائن کے اجراءسے ہمیں پریشانی بھی ہوئی ہے اور نہ ہی ہمیں یہ رقم موصول ہوئی ہے۔ شہریوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف عوامی امنگوں کی ہمیشہ ترجمان بنیں ہیں۔ لیکن اس رمضان المبارک میں انہیں کسی نے غلط مشورہ دے کر اور رمضان ریلیف پیکیج کیلئے 1000 ہیلپ لائن کو رائج کرکے ہم غربیوں سے زیادتی کی ہے جس کی فوری تبدیلی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوا ز شریف کے رمضان ریلیف پیکیج کی رقم ان مستحق خاندانوں تک پہنچے جو اس کا حق رکھتے ہیں۔ یکم رمضان المبارک سے لیکر آج 5 رمضان المبارک 23 فروری تک ہمیں اس یلیپ لائن کے ذریعہ ایک پیسہ بھی موصول نہیں ہوا۔ شہریوں نے مزید کہا کہ روزنامہ مشرق کے شکر گزار ہیں جنہوں نے ہماری آواز کو اعلیٰ ایوانوں تک ہماری آواز پہنچانے میں ہماری مدد کی ہے۔