آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی شروع، ایرانی جہاز قریب بھی آئے تو تباہ کردیں گے: ٹرمپ

واشنگٹن، تہران، تل ابیب، لندن، ماسکو، بیجنگ، جکارتہ (بیورو رپورٹ+ مشرق نیوز) امریکہ نے ایران کےخلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے ایرانی بندرگاہوں پر آنے ، جانے والی تمام بحری آمدورفت کی ناکہ بندی کا باقاعدہ آغاز کردیا، ادھر پاسداران انقلاب نے خبر دار کرتے ہوئے کہا اگر ایرانی بندرگاہوں کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو خطے کی کوئی بھی بندرگاہ محفوظ نہیں رہے گی،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پرآبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا اب ایران اپنا تیل نہیں بیچ سکے گا، جنگ بندی برقرار ہے اور چیزیں بہت اچھے طریقے سے آگے بڑھ رہی ہیں، آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کر رہے ہیں، ایران کی فوج تباہ کر دی، نیوی سمندر میں ڈبو دی ، ایرانی بحریہ کے 158 بحری بیڑے بھی تباہ کر دئیے ،ہمارے پاس روس اور سعودی عرب سے بھی زیادہ تیل، ایران اس وقت بری صورتحال میں ہے،اسلام آباد میں ایران کےساتھ 21 گھنٹے تک مذاکرات ہوئے، بات واضح ہے ایران کے پاس ایٹمی صلاحیت نہیں ہوگی، ایران نے وعدہ کیا تھا آبنائے ہرمز کھولے گا لیکن جھوٹ بولا، امریکی صدر نے کہا ہم نے ایران کے چند چھوٹے جہازوں کونشانہ نہیں بنایا، فاسٹ اٹیک شپس سے ہمیں زیادہ خطرہ نہیں،سمندر میں منشیات سمگلنگ کےخلاف بھی سخت کارروائی جاری ہے، بحری راستوں سے امریکہ آنےوالی 98 فیصد منشیات روک دی گئی ہے،امریکی وزیرجنگ پیٹ ہیگستھ نے کہا ناکہ بندی کے دوران ایرانیوں کی جانب سے فائرنگ متوقع ہے مگر اقدام دانشمندانہ ثابت نہیں ہوگا، ایران جنگی صلاحیتوں کو دوبارہ تیار نہیں کرسکتا،ایران کی فضائی حدود ہماری مکمل گرفت میں ہے،امریکی کانگریس خارجہ امور کمیٹی کے ڈیموکریٹ اراکین نے ٹرمپ انتظامیہ پر سخت تنقید کا نشانہ بنا ڈالا،ڈیموکریٹ اراکین نے کہا امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ایران کے حوالے سے پاکستان میں ہونےوالے مذاکرات چھوڑ کر یو ایف سی فائٹ دیکھنے چلے گئے،اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایرانی بندرگاہوں کی بندش کے امریکی فیصلے کی حمایت کردی،کابینہ اجلاس سے خطاب میں نیتن یاہو نے کہا اسرائیل ایران کی بحری ناکہ بندی کے فیصلے پر عملدرآمد کےلئے ٹرمپ انتظامیہ سے بھرپور تعاون کرے گا، ایرانی فوجی ترجمان نے خبردار کرتے ہوئے کہا اگر ایرانی بندرگاہوں کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو خطے کی کوئی بھی بندرگاہ محفوظ نہیں رہے گی جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، خلیجی بندرگاہیں یا تو سب کےلئے محفوظ ہوں گی یا کسی کےلئے نہیں، بین الاقوامی پانیوں میں جہازوں پر امریکی پابندیاں غیرقانونی ہیں ، عمل بحری قزاقی کے مترادف ہے، امریکی دھمکیوں کے بعد ایران آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کےلئے مستقل نظام نافذ کرنے جا رہا ہے جس کے تحت سمندری نقل و حرکت کو منظم کیا جائےگا، ایران اپنے قومی مفادات کے تحفظ کےلئے ہر ممکن قدم اٹھائے گا،ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا،ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق بات چیت میں اسلام آباد مذاکرات پر تبادلہ خیال کیا گیا،عباس عراقچی نے سعوری عرب کے بعد قطر کے وزیر خارجہ سے بھی ٹیلیفونک گفتگو کی جس میں خطے کی حالیہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا،دونوں رہنماو¿ں نے اسلام آباد میں ایران امریکہ مذاکرات پر بات چیت کی، برطانیہ نے ایران جنگ ، آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی میں شامل ہونے سے انکار کردیا،غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے کا جتنا بھی دباو¿ ہو کسی صورت جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے، برطانیہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی حمایت نہیں کرتا اہم گزرگاہ کو مکمل طور پر کھولنا ناگزیر ہے، کسی بھی کارروائی کیلئے قانونی جواز اور مکمل حکمت عملی ضروری ہے،تنازع کا سفارت کاری سے فوری اور پائیدار حل نکالنا ضروری ہے،روسی صدر کریملن نے کہا روس ایران کے افزودہ یورینیم کو اپنے پاس رکھنے کےلئے تیار ہے، روس دنیا میں توانائی کے سب سے قابل اعتماد سپلائرز میں ایک ہے اور رہے گا، آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی سے مشکلات کا سامنا ہے، ناکہ بندی سے عالمی معیشت کو نقصان پائے گا، روس کی ایران کے افزودہ یورینیم کو قبول کرنے کی تجویز زیر غور ہے، روس کی جانب سے مائش کی گئی تجویز کو ابھی تک قبول نہیں کیا گیا،چین نے کہا آبنائے ہرمز کو ایران کنٹرول کرتا ، راستہ چین کےلئے کھلا ہے، ایران سے شراکت داری جاری رکھیں گے، چینی وزیر دفاع ڈونگ جن نے کہا چین کے بحری جہازوں کی آبنائے ہرمز میں آمد و رفت جاری ہے، بڑھتی علاقائی کشیدگی کے باوجود ایران کےساتھ سٹرٹیجک شراکت داری جاری رکھیں گے، چین عالمی امن اور استحکام کےلئے پرعزم ہے، چین مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، چین ایران کےساتھ توانائی اور تجارتی معاہدوں کا احترام کرے گا، بیرونی دباو¿ یا یکطرفہ پابندیاں چین کے فیصلوں کو متاثر نہیں کر سکتیں، ترجمان چینی وزارت خارجہ نے کہا چین ہمیشہ اپنی فوجی برآمدات میں محتاط اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرتا رہا ہے، امید ہے تمام فریق جنگ بندی کی پاسداری کریں گے،مذاکرات کا آغاز صورتحال میں بہتری کی جانب مثبت قدم ہے، آبنائے ہرمز میں کشیدگی پر تمام فریقین کو تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرنا چاہیے، توانائی کی سلامتی اور سپلائی چین کے تحفظ کےلئے تمام ممالک ملکر کام کریں، عالمی توانائی تحفظ کو یقینی بنانے کےلئے تمام فریقین کےساتھ تعاون کےلئے تیار ہیں،فرانسیسی صدر میکرون نے کہا آئندہ دنوں میں آبنائے ہرمز سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کریں گے جس میں برطانیہ اور دیگر دلچسپی رکھنے والے ممالک شریک ہوں گے،کثیرالقومی بحری مشن کا مقصد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی بحال کرنا ہے، فرانسیسی صدر نے زور دیا کہ مشرق وسطیٰ کے تنازع کے حل کے لیے سفارتی کوششوں میں کوئی کسر نہیں چھوڑنی چاہیے،جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان کے وزرائے خارجہ نے کہا ہے امریکہ ایران جنگ میں پاکستان اور دیگر ثالثی کرنےوالے ممالک کے کردار کو سراہتے ہیں،امریکہ اور ایران جنگ بندی کو مستقل امن میں بدلیں، خطے میں استحکام اور توانائی کی ترسیل ناگزیر ہے، آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی محفوظ ، بلا رکاوٹ آمدورفت بحال ہونی چاہیے، تمام فریقین بحری جہازوں و عملے کی حفاظت یقینی بنائیں، امریکہ ، ایران سے مذاکرات جاری رکھنے کی اپیل کرتے ہیں،آسیان نے زور دیا تنازع کا مستقل خاتمہ ہونا چاہیے، سفارت کاری اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنایا جائے۔