لاہور (مرزا ندیم بیگ) محکمہ جیل خانہ جات پنجاب کی سب سے اہم اور پرکشش نشست، آئی جی جیل خانہ جات، ایک بار پھر طاقت کے ایوانوں میں زیر بحث آ گئی ہے۔ موجودہ آئی جی میاں فاروق نذیر کی ریٹائرمنٹ جیسے جیسے قریب آ رہی ہے، ویسے ویسے اس عہدے کے حصول کیلئے اعلیٰ افسران کے درمیان مقابلہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے،باخبر ذرائع کے مطابق اس وقت کم از کم چار سینئر ڈی آئی جیز اس اہم منصب کیلئے سرگرم ہیں، جن میں ملک مبشر اعوان، کوکب ندیم وڑائچ، میاں سالک جلال سمیت دیگر افسران شامل ہیں۔ ان ناموں میں ایک پولیس ڈیپارٹمنٹ کے ڈی آئی جی کا نام بھی زیر گردش ہے، جس نے مقابلے کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ ان امیدواروں میں میاں سالک جلال کو فی الوقت مضبوط امیدوار تصور کیا جا رہا ہے۔ بطور ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹر ان کا انتظامی تجربہ، جیلوں کے معاملات پر گرفت اور ماضی میں اضافی چارج سنبھالنے کا تجربہ انہیں دیگر امیدواروں پر برتری دیتا ہے۔ محکمانہ حلقوں میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ ان کی کارکردگی اور انتظامی صلاحیتیں اس اہم منصب کیلئے موزوں سمجھی جا رہی ہیں،تاہم، اس تقرری کے عمل میں صرف پیشہ ورانہ اہلیت ہی فیصلہ کن عنصر نہیں۔ ذرائع کے مطابق سیاسی اثر و رسوخ بھی اس دوڑ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اعلیٰ سطح پر لابنگ اور سفارشات کا سلسلہ جاری ہے، اور مبصرین کا خیال ہے کہ جس امیدوار کی سیاسی حمایت زیادہ مضبوط ہو گی، وہی اس اہم عہدے پر فائز ہونے میں کامیاب ہو سکتا ہے،دوسری جانب ایک اہم پیش رفت یہ بھی سامنے آئی ہے کہ اس بار روایت میں تبدیلی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماضی میں اگرچہ جیل خانہ جات کے سربراہ کے طور پر پولیس سروس کے افسران بھی تعینات ہوتے رہے ہیں، تاہم گزشتہ کئی برسوں سے یہ عہدہ صرف جیل ڈیپارٹمنٹ کے افسران تک محدود رہا۔ اب اطلاعات ہیں کہ حکومت اس روایت کو بدلتے ہوئے پولیس ڈیپارٹمنٹ سے بھی کسی افسر کو آئی جی جیل خانہ جات تعینات کرنے پر غور کر رہی ہے، جس سے مقابلہ مزید کھلا اور غیر یقینی ہو گیا ہے،سنیارٹی لسٹ کے مطابق موجودہ صورتحال میں کوکب ندیم وڑائچ، میاں سالک جلال، مبشر احمد خان، عبدالرو¿ف رانا، شوکت فیروز اور طارق محمود خان بابر نمایاں پوزیشنز پر موجود ہیں، جو باری باری اس عہدے کے مضبوط امیدوار تصور کیے جا رہے ہیں،تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تقرری نہ صرف محکمہ جیل خانہ جات کی مستقبل کی سمت کا تعین کرے گی بلکہ جیل اصلاحات، سکیورٹی، اور انتظامی ڈھانچے پر بھی گہرے اثرات مرتب کرے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت میرٹ، سنیارٹی اور تجربے کو ترجیح دیتی ہے یا سیاسی مصلحتیں اس اہم فیصلے پر حاوی رہتی ہیں،فی الحال تمام نظریں اس فیصلے پر مرکوز ہیں، جو آئندہ چند ہفتوں میں متوقع ہے اور جس کا براہ راست اثر پنجاب کی جیلوں کے نظام پر پڑے گا۔
آئی جی جیل کے منصب کیلئے 4 سینئر افسران میدان میں، سالک جلال مضبوط ترین امیدوار



















