لاہور (قاضی ندیم اقبال) متروکہ وقف املاک بورڈ کے حکام نے غیر مسلم وقف املاک کی نیلامیوں کے حوالے سے نئے ایس او پیز جاری کرتے ہوئے ان پر سو فیصد عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت جاری کر دیں۔ بورڈ حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد شفافیت، میرٹ اور قومی خزانے کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے تاکہ وقف املاک کی نیلامیوں میں کسی بھی قسم کی بے ضابطگی، اقربا پروری یا مالی نقصان کے امکانات کو ختم کیا جا سکے۔ذرائع کے مطابق نئے قواعد کے تحت تمام نیلامیوں کا باقاعدہ شیڈول جاری کر دیا گیا ہے۔ لاہور سمیت ملک بھر میں نیلامیوں کی نگرانی کی غرض سے بورڈ نمائندگان کی تعیناتی کی جائے گی۔ اس حوالے سے بورڈ ایڈمنسٹریشن نے کام کا آغازکر دیا ہے۔ چیئر مین بورڈ قمر الزمان کی منظوری کے بعد مذکورہ نمائندگان مندروں اور گورودواروں کے نام پر موجود اراضیوںکی نیلامیوں کا پراسس مکمل کروائیں گے۔ذرائع کے مطابق متروکہ وقف املاک بورڈ کی مجموعی طور پر ایک لاکھ9ہزار404ایکڑ زرعی اراضی آئندہ مالی سال 2026-27ءکیلئے نیلام کی جانا مقصود ہے۔ملک بھر میں تعینات زونل ایڈمنسٹریٹرز نے اپنے ڈپٹی ایڈمنسٹریٹرز اور فیلڈ سٹاف کی جانب سے تصدیق کے بعد اس زرعی رقبہ کی نشاندہی کی جس کو قواعد کی روشنی میں مشتہر کر دیا گیا۔ذرائع نے بتایا کہ قواعد و ضوابط کی روشنی میں باضابطہ طور پر ایک کمیٹی نیلامی پراسس کی نگرانی کرے گی۔ بورڈ نمائندگان جہاں نیلامی کے عمل ، کمیٹی کے نگران/چیئرمین ہوں گے تو دوسری جانب متعلقہ زون کے ایڈمنسٹریٹر، متعلقہ ضلع کے ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر اورمتعلقہ ضلع کے ریونیو آفیسر بطور نمائندہ کمیٹی میں شامل ہیں۔نیلامی کے عمل میں حصہ لینے والے افراد اور کمپنیوں کی مکمل جانچ پڑتال بھی کی جائے گی تاکہ صرف اہل اور مالی طور پر مستحکم امیدوار ہی بولی کے عمل میں شریک ہو سکیں۔بورڈ حکام کا کہنا ہے کہ نیلامی کے دوران شفافیت برقرار رکھنے کے لیے، مکمل دستاویزی کارروائی اور نگرانی کے خصوصی انتظامات کیے جائیں گے۔ ہر ضلع میں نیلامی کیلئے الگ کمیٹی تشکیل دی جائے گی جس میں متعلقہ افسران کے علاوہ قانونی اور مالیاتی ماہرین کو بھی شامل کیا جائے گا۔ کمیٹی اس امر کو یقینی بنائے گی کہ تمام مراحل مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق مکمل ہوں۔ذرائع کے مطابق ایس او پیز کی روشنی میں کسی بھی افسر یا اہلکار کی جانب سے غفلت، جانبداری یا قواعد کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔ خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی جبکہ سنگین نوعیت کے معاملات میں قانونی کارروائی بھی کی جا سکے گی۔ متروکہ وقف املاک بورڈ کے مطابق غیر مسلم وقف املاک سے حاصل ہونے والی آمدن کو مختلف مذہبی و فلاحی منصوبوں، عبادتگاہوں کی دیکھ بھال، تعلیمی اداروں اور سماجی بہبود کے کاموں پر خرچ کیا جاتا ہے اسلئے ضروری ہے کہ ان املاک کے انتظام و انصرام میں مکمل احتیاط اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جائے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے ایس او پیز کے اجرا کے بعد تمام ریجنل دفاتر اور متعلقہ افسران کو خصوصی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ بورڈ کے اعلیٰ حکام نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی قسم کی کوتاہی یا غیر شفاف عمل کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائیگا۔دریں اثناءعوامی و سماجی حلقوں نے متروکہ وقف املاک بورڈ کے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ نئے قواعد کے نفاذ سے نہ صرف قومی اثاثوں کا بہتر تحفظ ممکن ہو سکے گا بلکہ نیلامیوں کے نظام پر عوامی اعتماد بھی مزید مضبوط ہوگا۔
متروکہ وقف املاک بورڈ، غیر مسلم املاک کی نیلامیوں کیلئے نئے ایس او پیز جاری



















