یامی گوتم کا قرآن پاک کو پڑھنے اور سمجھنے کا انکشاف

ممبئی (مشرق نیوز) بالی ووڈ فلم ”حق“ کے ہدایتکار سپرن ورما نے انکشاف کیا ہے کہ فلم کی مرکزی اداکارہ یامی گوتم نے اپنے کردار ‘’شازیہ بانو“ کو حقیقت کے قریب لانے کیلئے باقاعدہ طور پر قرآن پاک کا مطالعہ کیا اور اسے سمجھنے کی کوشش کی۔

برطانوی نشریاتی ادارے کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں سپرن ورما نے بتایا کہ فلم کی تیاری کے دوران یامی گوتم نے اپنے کردار کی گہرائی کو سمجھنے کیلئے قرآن پاک سے رہنمائی لی اور اس پورے عمل میں انہیں تقریباً چار ماہ لگے۔ ہدایتکار کے مطابق فلم میں قرآن پاک کے حوالہ جات بھی شامل کئے گئے ہیں اسی لئے فلم کا اختتام لفظ ”اقرائ“ پر کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب اسلام کے بارے میں بات کی جاتی ہے تو اکثر غلط فہمیاں اور غلط معلومات سامنے آتی ہیں اور آج کے دور میں معلومات کی بہتات کے باوجود یہ طے کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ کون سی بات درست ہے۔ اسی پس منظر میں انہوں نے چاہا کہ فلم ”حق“ کے ذریعے ناظرین تک زیادہ مستند اور درست معلومات پہنچائی جائیں۔

سپرن ورما نے مزید بتایا کہ انکے کئی مسلمان دوست ہیں اور وہ بطور ہدایتکار مسلمان کمیونٹی کے تجربات کو بہتر طور پر سمجھنے کیلئے خود بھی تحقیق کرتے رہے ہیں۔ انکے مطابق فلم کی تیاری کے دوران تقریباً ڈیڑھ سال تک اسلامی قوانین اور سماجی پہلووں پر کام کیا گیا۔

ہدایتکار کا کہنا تھا کہ وہ فلم میں ”تین طلاق“ جیسے موضوعات سے متعلق پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرنا چاہتے تھے جبکہ مہر کے تصور کو بھی ایک سماجی معاہدے کے طور پر اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر یہ کہانی 40 سال پرانی ہے تو اصل سوال یہ ہے کہ اس عرصے میں خواتین کی زندگیوں میں کیا حقیقی تبدیلی آئی ہے، کیونکہ آج بھی کئی خواتین معاشرتی دباو، تعصب اور حقوق کے مسائل سے نبردآزما ہیں۔

واضح رہے کہ فلم ”حق“ شازیہ بانو نامی خاتون کی کہانی سے متاثر ہو کر بنائی گئی ہے جسے ایک وکیل عباس خان سے محبت ہوتی ہے، تاہم انکے خفیہ طور پر دوسری شادی کرنے کے بعد دونوں کے تعلقات خراب ہوجاتے ہیں اور شازیہ انصاف کیلئے عدالت سے رجوع کرتی ہے۔