امریکہ، اسرائیل کے ایرانی توانائی تنصیبات پر حملے، تہران کے بھی جوابی وار

تہران، واشنگٹن، ریاض (مشرق نیوز) امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط کی گئی جنگ 31 ویں روز میں داخل ہو گئی، امریکہ اسرائیل نے تبریز میں پیٹروکیمیکل پلانٹ کو نشانہ بنایا، تہران اور کرج کے کچھ علاقوں میں بجلی بند ہو گئی، ایران کے جوابی میزائل حملے سے اسرائیلی پارلیمنٹ کا اجلاس موخر ہو گیا۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے ایک حملے میں تبریز پیٹروکیمیکل کمپنی کے ایک یونٹ کو نشانہ بنایا گیا ہے، ریسکیو اور آپریشنل ٹیمیں موقع پر موجود ہیں، کوئی خطرناک، زہریلا یا آلودگی پھیلانے والا مادہ خارج نہیں ہوا۔ پاسداران انقلاب ایران نے نیوی کمانڈر علی رضا تنگسری کی شہادت کی تصدیق کر دی، اسرائیلی حملوں میں شدید چوٹوں کے باعث علی رضا تنگسری شہید ہو گئے۔

گزشتہ ہفتے اسرائیلی وزیر دفاع نے علی رضا تنگسری کو ہدف بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔ امریکی اسرائیلی حملوں سے ایران میں شہدا کی تعداد 2 ہزار 76 ہو گئی، 216 بچے اور 250 طلبہ و اساتذہ بھی شامل ہیں، ایک ہزار 767 بچوں سمیت 26 ہزار 500 افراد زخمی ہو چکے، اسرائیلی و امریکی بمباری میں 336 طبی، 200 انتظامی، ثقافتی اور تعلیمی مراکز بھی تباہ کر دیا۔

ادھر لبنان میں بھی اسرائیلی فوج مسلسل بمباری اور زمینی گولہ باری سے تباہی پھیلا رہی ہے، لبنان میں بھی شہادتیں گیارہ سو سے بڑھ چکی ہیں، ہزاروں افراد زخمی ہیں اور لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ عراق کے دارالحکومت بغداد میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، جو ڈرون حملوں کے بجائے راکٹ فائر کیے جانے کے باعث تھیں۔

الجزیرہ کے مطابق یہ راکٹ امریکی فوج کے زیرِ استعمال وکٹری بیس کو نشانہ بنا کر داغے گئے، جو بغداد سے تقریباً 20 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے، فضائی دفاعی نظام ان راکٹوں کو روکنے میں ناکام رہا، جس کے نتیجے میں ایک A32B عراقی اسپیشل فورسز کے ٹرانسپورٹ طیارے کو نشانہ بنایا گیا اور وہ آگ کی لپیٹ میں آ گیا۔

امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد تہران کے کچھ علاقوں میں بجلی معطل ہوگئی، حملوں سے ایرانی صوبے البرز میں بجلی کا گرڈ متاثر ہوا، تہران اور کرج شہر میں بجلی کی فراہمی معطل ہوئی تاہم بعد میں بیشتر علاقوں میں بجلی بحال کر دی گئی ہے۔ ایرانی میزائل حملوں کے پیش نظر اسرائیلی پارلیمنٹ کینیسٹ کا اجلاس موخر کر دیا گیا، اسرائیل پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کے دوران ایرانی حملے کے سائرن بجے تھے۔ سائرن کی آواز پراسرائیلی پارلیمنٹ کے ارکان اجلاس چھوڑ کر شیلٹر منتقل ہوگئے۔

اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل میں کوئی مستقل امریکی فوجی اڈہ موجود نہیں ہے، اسرائیل امریکا کو فوجی اڈے قائم کرنے کی پیشکش کریگا، امریکہ کے بڑے اڈے خلیجی ممالک میں قائم ہیں جبکہ اسرائیل میں امریکی فوج کی موجودگی محدود ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق مشرق وسطیٰ سے امریکی اڈے اسرائیل منتقل کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ نئے فوجی کمپلیکس بنانےکی بھی تجویز زیر غور ہے۔

ایران نے سعودی عرب میں امریکی ایئربیس پر میزائل اور ڈرون حملوں میں 700 ملین ڈالر کے جدید طیارے کو نشانہ بنا دیا، سعودی عرب میں واقع ایک امریکی زیر استعمال ائیر بیس پر میزائل اور ڈرون حملہ کیا گیا جس میں اہم فوجی اثاثوں کو نشانہ بنایا گیا۔ پریس ٹی وی کے مطابق یہ حملہ سعودی عرب میں واقع پرنس سلطان ایئر بیس پر کیا گیا، جہاں امریکی افواج بھی تعینات ہیں، حملے میں 6 بیلسٹک میزائل 29 ڈرونز استعمال کئے گئے، ایک بوئنگ E-3 سینٹری طیارہ بھی متاثر ہوا جو فضائی نگرانی، میزائل اور ڈرون ٹریکنگ کے ساتھ جنگی کمانڈ اینڈ کنٹرول کیلئے استعمال ہوتا ہے۔

ایرانی میڈیا نے اپنی رپورٹ میں مزید بتایا کہ حملے میں متعدد ایندھن بھرنے والے طیاروں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ پرنس سلطان ایئر بیس، جو ریاض سے تقریباً 96 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، اس سے پہلے بھی کئی بار نشانہ بن چکا ہے، یہ بیس سعودی فضائیہ کے ساتھ ساتھ امریکی افواج بھی استعمال کرتی ہیں۔

دوسری طرف ترجمان خاتم الانبیا ہیڈ کوارٹرز ابراہیم ذوالفقاری کا کہنا ہے کہ تباہی کے سوا امریکی فوج کے حصے میں کچھ نہیں آئیگا، امریکی فوج خلیج فارس میں شارک مچھلیوں کی خوراک بن جائیں گے۔ ایک بیان میں ترجمان ایرانی فوج ابراہیم ذوالفقاری نے کہا کہ امریکی صدر کئی بارزمینی کارروائی کی دھمکی دے چکے ہیں، خطہ امریکی فوجیوں کی ذلت آمیز قید میں تبدیل ہوجائیگا، تباہی کے سوا امریکی فوج کے حصے میں کچھ نہیں آئےگا۔

ابراہیم ذوالفقاری نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ نیتن یاہو کے ہاتھوں مہرہ بن چکے، ٹرمپ دنیا کے سب سے زیادہ جھوٹ بولنے والے صدر ہیں، ٹرمپ اپنے عجیب وغریب بیانات کی وجہ سے قابل اعتماد نہیں، ٹرمپ کے غلط فیصلے امریکی فوج کو موت کی دلدل میں لے جارہے ہیں۔