تہران،تل ابیب،واشنگٹن،ابوظہبی،دوحہ:(بیورورپورٹ،مشرق نیوز)ایران پر سب سے خطرناک بمباری،امریکہ،اسرائیل نے 2000 پاونڈ وزنی بنکر بسٹر بم برسا دیا،ایران کے جوابی وار،دشمن کے کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، ویپن سپورٹ تنصیبات پر حملے،متعدد افراد زخمی ہوگئے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اصفہان پر شدید بمباری کی ویڈیو سوشل اکاونٹ پر شیئر کر دی،امریکی عہدیدار نے وال سٹریٹ جرنل کو بتایا اصفہان میں 2000 کلووزنی بنکر بسٹر بم اور زیر زمین تنصیبات کو تباہ کرنےوالے گولہ بارود کا استعمال کیا گیا۔
ادھر پاسداران انقلاب نے آپریشن وعدہ صادق4 کی 88 ویں لہر میں امریکی و صہیونی اہداف کےخلاف مشترکہ و ہمہ جہت کارروائیاں کیں،دشمن کے کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، ڈرون ہینگرز، ویپن سپورٹ تنصیبات اور امریکی و صیہونی فوجیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، حیفا میں آئل ریفائنری پر حملے کے بعد شعلے آسمان کو چھوتے رہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق تل ابیب، بنی براک اور پیتاح تکوا سمیت مختلف علاقوں میں میزائل گرنے سے 11 افراد زخمی ہو گئے، دبئی کے قریب خام تیل سے بھرے آئل ٹینکرکو نشانہ بنانے کے بعد بحری جہاز میں آگ بھڑک اٹھی،کسی قسم کا تیل رساو یا عملے کو جانی نقصان نہیں ہوا۔
شپنگ ڈیٹا کے مطابق چین کے شہر چنگ ژاو کی جانب جا نےوالے جہاز میںتقریباً 12 لاکھ بیرل سعودی اور 8 لاکھ بیرل کویتی خام تیل موجود تھا،ایرانی فضائی دفاعی نظام نے اصفہان کے قریب ایم کیو نائن ریپر ڈرون مار گرایا ،مالیت تقریباً 30 ملین ڈالر بتائی جاتی ہے۔
دریں اثنا امریکی وزیرجنگ پیٹ ہیگسیتھ نے کہا صدر ٹرمپ ڈیل چاہتے ہیں ،ایران سمجھداری دکھائے اور معاہدہ کرلے ورنہ جنگ شدت کےساتھ جاری رہے گی ، آنےوالے دن فیصلہ کن ہوں گے،ایرانی نیوی ،فضائی اور لیڈر شپ کو ختم کردیا،ایران کو معلوم ہے اب پاس عسکری طور پر آپشنز نہ ہونے کے برابر لہٰذا سمجھ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاہدہ کرلینا چاہیے۔
پریس بریفنگ میں پیٹ ہیگسیتھ نے کہا امریکہ بھرپور طاقت کےساتھ حملے کر رہا ہے، ایرانی فوج کو شدید نقصان پہنچایا گیا،پیر کے روز 200 مقامات کو نشانہ بنایا ،ایران کے پاس اب محدود آپشنز رہ گئے ،معاہدہ نہ کیا تومزید سخت فیصلے کر ینگے،نئی قیادت کو پہلے سے زیادہ سمجھ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈین کین نے کہا ایران کی سپلائی چین کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ،اہم صنعتی و تحقیقی مراکز کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے اب تک 11000 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا۔
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ایران کےخلاف جنگ میں آدھے سے زیادہ مقاصد حاصل کرلیے،جنگ کے خاتمے پر میں کچھ نہیں کہہ سکتا،پاسداران انقلاب کے”ہزاروں“اراکین کو ہلاک کرنے سمیت کئی اہداف حاصل کیے ، ہتھیاروں کی صنعت ختم کرنے کے قریب ہیں، ایران کی اسلامی جمہوریہ ختم ہوجائے گی۔
ترجمان اسرائیلی فوج نے کہا اسرائیل ایران کےخلاف آئندہ کئی ہفتوں تک فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کےلئے تیار ہے،اہداف، اسلحہ اور افرادی قوت موجود ہے، مزید کارروائی کا فیصلہ سیاسی قیادت کرے گی۔
دریں اثنا ترجمان قطری وزارت خارجہ نے کہا امریکہ ،ایران ثالثی کے عمل میں شریک نہیں ، توجہ وطن کے دفاع پر مرکوز ہے،پاکستان کی جانب سے کی جانےوالی کوششوں کی مکمل حمایت کرتے ، فریقین، ثالثوں و خطے کے دیگر کرداروں کےساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، امید ہے پاکستان کی کوششیں کامیاب اورمستقل امن و استحکام کا باعث بنیں گی،امریکہ کےساتھ سٹرٹیجک دفاعی شراکت داری نے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا، قطر کی مسلح افواج نے تقریباً 90 فیصد حملوں کو ناکام بنایا، واضح ہو گیا قطر کوئی آسان ہدف نہیں۔
دوسری جانب امریکی اخبار کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قریبی مشیروں سے کہا وہ ایران کےخلاف امریکی فوجی مہم کو ختم کرنے پر آمادہ ہیں، چاہے آبنائے ہرمز بڑی حد تک بند ہی کیوں نہ رہے،ٹرمپ اور ٹیم نے اندازہ لگایا اہم راستے کو زبردستی کھولنے کی کارروائی جنگ کو مقررہ 4سے 6ہفتوں کے ٹائم فریم سے آگے لےجائے گی۔
ایران پر 2000 پاونڈ وزنی بنکر بسٹر بم سے حملہ،معاہدہ ورنہ مزید سخت فیصلے ،امریکہ


















