ایران کے تابڑ توڑ حملے،اسرائیلی وامریکی اہداف پرمیزائلوں ،ڈرونزکی بارش

تہران،تل ابیب،واشنگٹن،ابوظہبی،دوحہ:(مشرق نیوز،بیورورپورٹ)ایران کے مزاحمتی گروہوں کےساتھ ملکر تابڑ توڑ حملے،اسرائیلی وامریکی اہداف پر 100 سے زائد میزائل ،ڈرونز، 200 راکٹ داغ دئیے۔

پاسداران انقلاب کے بریگیڈیئر جنرل سید مجید موسوی نے خطے میں امریکی اہداف کو نشانہ بنانے اور سعودی عرب میں امریکی پائلٹوں و لڑاکا طیاروں کے عملے پر بڑے حملے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہاالخرج علاقے میں مقیم 200 امریکی پائلٹوں و عملے کی رہائش گاہوں کو میزائلوں ،ڈرونز سے نشانہ بنایا،علاقے میں بحری جہازوں، فوجی میٹنگز، ریڈار اور ڈرونز ڈیفنس نظام پر بھی بڑے حملے کیے،متحدہ عرب امارات کے ساحلی علاقے میں امریکی مرینز کی کشتی کو ڈرونز سے ہدف بنایا،بحرین کے مناما ایئرپورٹ کے قریب فوجی اڈے کے باہر موجود امریکی ففتھ فلیٹ کے ہاک اینٹی ڈرون نظام کو تباہ کردیا۔

بریگیڈیئر جنرل سید مجید موسوی نے کہا کویت کے احمد الجبر امریکی فوجی اڈے میں دو ارلی وارننگ ریڈار نظام بھی ڈرونز ہی سے تباہ کیے ، وعدہ صادق چہارم آپریشن کی 88 ویں لہر میں اسرائیل کا ایکسپریس ہاف اونگ کنٹینر جہاز میزائلوں سے نشانہ بنااب امریکہ کی اعلیٰ ترین 18 ٹیک کمپنیوں کے خطے میں دفاتر نشانہ بنائے جائیں گے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق متحدہ عرب امارات میں منہاد بیس کے قریب خفیہ امریکی اڈے کو ایرانی فورسز کی جانب سے نشانہ بنایا گیا ، خفیہ اڈے میں کم ازکم 200 امریکی فوجی و افسر موجود تھے،علاوہ ازیںایران کے تازہ میزائل حملے کے بعد اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب سمیت شمالی، وسطی اور جنوبی علاقوں میں جنگی سائرن بج اٹھے،ہر طرف افراتفری مچ گئی۔

ادھر اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ایران کےخلاف جاری جنگ کے پہلے مہینے 800 سے زائد فضائی حملے کیے، 2 ہزار سے زائدایرانی فوجی اہلکاروں اور کمانڈرز کو کامیابی سے نشانہ بنایا ،حملوں میں تقریباً 16 ہزار مختلف ہتھیار استعمال کیے گئے،کارروائیاں ایران کی عسکری صلاحیت کو کمزور کرنے کےلئے کی گئیں۔

وزیر خارجہ گیدون سار نے حالیہ جنگ کو آخری قرار دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا دشمن اب بھی اسرائیل کو نشانہ بناسکتا ہے، مستقبل میں بھی دشمنوں کی سازشوں کے خلاف چوکنا رہنے کی ضرورت ہوگی، وعدہ نہیں کرتے آخری جنگ ہو گی۔