طاہر رضا بخاری، خالد محمود سندھو کیخلاف انکوائری سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کیلئے کڑا امتحان

لاہور (قاضی ندیم اقبال) ایوان وزیراعلیٰ کو اعتماد میں لیتے ہوئے چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان کے ایک زیرک اورمدبرانہ انتظامی فیصلے نے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نبیل جاوید کو بطور انکوائری آفیسر اور شاہد یعقوب کو بطور محکمانہ پیروکار اوقاف امتحان میں ڈال دیا۔ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اوقاف حکام کی جانب سے سابق سیکرٹری اوقاف پنجاب ڈاکٹر طاہر رضابخاری اور سابق ڈائریکٹر سٹیٹ اینڈ فنانس خالد محمود سندھو کیخلاف پیڈا ایکٹ کے تحت لگائے گئے سنگین الزامات کی ابتدائی چھان بین کا ٹاسک آنے والے دنوں میں سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کیلئے کٹھن مرحلہ ثابت ہونیوالا ہے کیونکہ ایک جانب وہ بنیادی طور پر شفیق اور مہربان آفیسرز کے طور پر جانے جاتے ہیں تو دوسری جانب یہ بھی روز روشن کی طرح حقیقت ہے کہ ایس ایم بی آر کی شفقت اور حد سے زیادہ مہربانی و رہنمائی کے سبب ہی ڈاکٹر طاہر رضا بخاری نے سیکرٹری شپ کی ہے جبکہ محکمہ اوقاف کے ملازمین کی اکثریت کا دعویٰ ہے کہ موجودہ ڈائریکٹر سٹیٹ اوقاف شاہد یعقوب کے سابقہ ڈائریکٹر سٹیٹ و فنانس خالد محمود کے ساتھ اچھے اور قریبی تعلقات ہیں تاہم وہ سیکرٹری اوقاف ڈاکٹر احسان بھٹہ کے اعتماد پر پورا اتریں گے اور بلاخوف سابقہ افسران پر عائد سنگین الزامات ثابت کرنے کی اہلیت بھی رکھتے ہیں۔ دریں اثناءماہرین قانون اور انتظامی امور کے مطابق پیڈا ایکٹ کے تحت جاری کی گئی چارج شیٹ کو نظر انداز کرنا نہ صرف قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی ہوگی بلکہ اس سے پورے احتسابی عمل کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔اس نوعیت کے کیسوں میں شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے ادارہ جاتی بہتری ممکن بنائی جا سکتی ہے۔جبکہ سول بیوروکریسی کے حلقوں میں اس انکوائری کو ایک نظیر کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے مصدقہ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر طاہر رضا بخاری 15نومبر1965 کو پیدا ہوئے۔ انہوں نے 10مارچ1991کو بطور استاد گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول آواگٹ فیصل آباد میں اپنی سورس کا آغاز کیا۔ چار ماہ بعد 7 جولائی 1991 سے 30جون1992 تک آڈیو ویذیول ایڈز بیورو لاہور تعینات رہے۔یکم جولائی 1992 سے 7دسمبر1992 تک دوبارہ گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول آواگٹ فیصل آباد میں تعینات رہے۔8دسمبر1992 سے 6 دسمبر1996 تک ڈیپوٹیشن کی بنیاد پر اور بعد ازاں دوسری بار7دسمبر1996 سے19اگست1997تک ڈیپوٹیشن کی بنیاد پر پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ میں خدمات سر انجام دیں۔ 20اگست1997سے20نومبر1997 تک رخصت پر چلے گئے۔20نومبر1997 سے یکم جولائی 998 تک دوبارہ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ میں ڈیپوٹیشن کی کی بنیاد پر خدمات سر انجام دینے کے بعد 2جولائی 1998 سے 5فروری 2002 تک کے عرصہ کے لئے ڈیپوٹیشن کی بنیاد پر محکمہ اوقاف میں خدمات سرانجام دیں۔ بعد ازاں 6فروری 2002 سے 14نومبر2025 تک اوقاف آرگنائزیشن میں بطور ڈائریکٹر مذہبی امور، ڈائریکٹر جنرل مذہبی امور اور سیکرٹری اوقاف /چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف کے طور پر خدمات سر انجام دیتے رہے۔انہوں نے مجموعی طور پر 34سال8ماہ4دن ملازمت کی۔ نبیل جاوید سیکورٹری اوقاف پنجاب کے طور پر تعینات ہوئے تو ڈاکٹر طاہر رضا بخاری ڈائریکٹر جنرل مذہبی امور پنجاب تعینات تھے۔ اسی دور میں دونوں کے درمیان ورکنگ ریلیشن شپ بہتر ہونے کی بنیاد پرذاتی تعلقات بنے جو بعد ازاں وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ مضبوط ہوتے گئے۔ بطور سیکرٹری اوقاف پنجاب تعیناتی کے بعد ڈاکٹر طاہر رضا بخاری نے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نبیل جاوید سے رہنمائی لینے کا سلسلہ جاری رکھا اور دونوں کے مابین تعلقات مضبوط ہونے کے ساتھ ذاتی بھی ہوتے چلے گئے۔ اور تاحال قائم ہیں۔ڈاکٹر طاہر رضا بخاری کے بطور سیکرٹری دور میں ہی نبیل جاوید کو امور مذہبیہ کمیٹی داتا دربار کا چیئر مین بنایا گیا۔ مذکورہ کمیٹی کی مدت اب ختم ہو چکی ہے۔ذرائع کے مطابق محکمہ خزانہ پنجاب نے محکمہ اوقاف پنجاب کو سالانہ عرس حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری اور سیرت النبی کے مواقع پر خصوصی فنڈز جاری کئے۔ذرائع کے مطابق دوران آڈٹ محکمہ اوقاف میں مبینہ بے ضابطگیوں، سرکاری فنڈز کے غیر محتاط استعمال اور پیپرا قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزیوں سے متعلق سنگین نوعیت کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ ان الزامات میں ایک کروڑ روپے تک مالیت کے اوپن چیک جاری کرنے، داتا دربار میں عرس کے موقع پرخریداری کے مختلف معاملات میں چیک اوپنکرنے، ا، ای فورس کی آڑ میں اختیارات سے تجاوز کرنے اور مالی نظم و ضبط کی خلاف ورزی جیسے معاملات شامل ہیں۔ ان تمام الزامات کے تحت پیڈا ایکٹ کے مطابق باقاعدہ چارج شیٹ جاری کی گئی۔ جس کے پیش نظر اس وقت کے ایڈمنسٹریٹر شیخ جمیل، منیجر طاہر مقصود ، اسسٹنٹ دائریکٹر مذہبی امور حافظ جاوید شوکت سمیت دیگر کے خلاف محکمانہ سطح پر انکوائری جاری ہے تو دوسری جانب سابق سیکرٹری اوقاف ڈاکٹر طاہر رضا بخاری اور انکے ساتھ بطور ڈائریکٹر سٹیٹ/فنانس خالد محمود سندھو کے حوالے سے انکوائری کرنے کے لئے موجودہ سیکرٹری اوقاف ڈاکٹر احسان بھٹہ نے قواعد و ضوابط کی روشنی میںکیس سیکرٹری سروسز کی وساطت سے چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان کو بھجوا دیا۔ڈاکٹر طاہر رضا بخاری اور خالد محمود سندھو کے خلاف محکمہ اوقاف کی جانب سے پیڈا ایکٹ کے تحت تیار کی گئی چارج شیٹ کے تقریبا سبھی نکات کو دورانِ انکوائری نظر انداز کرنا ماہرین کے نزدیک ممکن نہیں۔ذرائع کے مطابق محکمہ اوقاف پنجاب کی جانب سے موجودہ ڈائریکٹر اسٹیٹ شاہد یعقوب کو محکمانہ پیروکار بنایا گیا ہے ، جو پی ایم ایس فور (منسٹیریل بیج) سے تعلق رکھتے ہیں۔تاہم ان کے پی ایم ایس تھری بیج کے خالد محمود سندھو سے تعلقات قریبی اوراچھے بتائے جاتے ہیں۔ سول بیوروکریٹس کی نظریں ان کی ورکنگ پر بھی ہیں۔ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ذرائع کے مطابق سابق سیکرٹری اوقاف ڈاکٹر طاہر رضا بخاری اور سابق ڈائریکٹر فنانس خالد محمود سندھو کے ساتھ ذاتی تعلقات کے تناظر میں بطور انکوائری آفیسر سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نبیل جاوید کی تقرری نے ملک بھر کی سول بیوروکریسی کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ سرکاری حلقوں میں اس انکوائری کو نہ صرف ایک اہم انتظامی مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے بلکہ اسے اعلیٰ بیوروکریسی کی ساکھ، شفافیت اور احتسابی نظام کیلئے ایک کڑے امتحان کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔بیوروکریسی کے ایک بڑے طبقے کا خیال ہے کہ چونکہ انکوائری آفیسر کے نامزد فرد کے مبینہ طور پر متعلقہ افسران کے ساتھ ذاتی مراسم رہے ہیں، اس لیے اس انکوائری کی شفافیت پر سوالات اٹھنا فطری امر ہے۔ تاہم بعض سینئر افسران کا کہنا ہے کہ اگر انکوائری مکمل دیانتداری اور میرٹ پر کی جائے تو یہ نہ صرف شکوک و شبہات کو ختم کر سکتی ہے بلکہ اداروں پر عوامی اعتماد کی بحالی میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کیس کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے اور اعلیٰ سطح پر اس کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ انکوائری کے دوران کسی قسم کا دباو¿ یا اثر و رسوخ قبول نہ کیا جائے اور تمام شواہد اور ریکارڈ کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے۔ اگر الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔دریں اثنائ محکمہ قانون و پارلیمانی امور پنجاب سے وابستہ ماہرین قانون اور انتظامی امور کے مطابق پیڈا ایکٹ کے تحت جاری کی گئی چارج شیٹ کو نظر انداز کرنا نہ صرف قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی ہوگی بلکہ اس سے پورے احتسابی عمل کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے کیسوں میں شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے ادارہ جاتی بہتری ممکن بنائی جا سکتی ہے۔جبکہ سول بیوروکریسی کے حلقوں میں اس انکوائری کو ایک نظیر کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ کئی افسران کا ماننا ہے کہ اگر اس کیس میں میرٹ کو فوقیت دی گئی تو یہ مستقبل میں دیگر اداروں کیلئے بھی ایک مثبت مثال قائم کرے گا۔ اسکے برعکس اگر کسی بھی سطح پر جانبداری کا تاثر ابھرا تو اس کے دور رس منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔اس معاملے پر ایوان وزیر اعلیٰ اور گورنر سیکرٹریٹ کی جانب سے بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے اور مختلف حوالوں سے شفاف احتساب کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔ نہ صرف شہریوں بلکہ محکمہ اوقاف کے ملازمین کا کہنا ہے کہ سرکاری فنڈز عوام کی امانت ہوتے ہیں اور ان کے استعمال میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی یا غفلت ناقابل قبول ہے۔ایس اینڈ جی اے ڈی ذرائع کا دعوی ہے کہ مجموعی طور پر یہ انکوائری نہ صرف محکمہ اوقاف بلکہ پورے انتظامی ڈھانچے کیلئے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس کے نتائج نہ صرف متعلقہ افسران کے مستقبل کا تعین کریں گے بلکہ بیوروکریسی میں احتساب اور شفافیت کے معیار کو بھی واضح کریں گے۔