ممبئی (مشرق نیوز) بالی ووڈ کے دبنگ اداکار سنجے دت کا نشے کی لت سے چھٹکارا پانے سے متعلق پرانا بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق 1994 میں فلم ”آتش“ کے سیٹ سے لی گئی ایک ویڈیو میں سنجے دت نے اپنی زندگی کے مشکل ترین دور اور اس دوران اپنے گھر والوں کی سپورٹ کے بارے میں بتایا کہ کس طرح گھر والوں نے ان کی مدد کی۔
رپورٹس کے مطابق سنجے دت سن 1980 سے 1981 کے دوران نشے کی لت میں مبتلا ہوئے، جب انکی والدہ اور معروف اداکارہ نرگس شدید بیماری کے باعث نیویارک میں زیر علاج تھیں۔ سنجے کی خواہش تھی کہ انکی والدہ ان کی پہلی فلم ”راکی“ دیکھیں مگر نرگس فلم کی ریلیز سے صرف تین دن قبل انتقال کر گئیں، والدہ کی وفات نے سنجے کو گہرے صدمے میں مبتلا کر دیا جس کے بعد ان کی نشے کی عادت مزید بڑھ گئی۔
وائرل بیان میں سنجے دت نے کہا کہ میں خود کو مرتا ہوا دیکھ رہا تھا، میں لوگوں سے چھپنے سے تنگ آ گیا تھا، اسی لئے میں نے اپنے گھر والوں سے مدد لینے کا فیصلہ کیا۔ اداکار نے ورزش کو بہترین چیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ نشے کی عادت سے نجات میں ورزش نے اہم کردار ادا کیا۔
فلم ”آتش“ میں سنجے کے ساتھ کام کرنے والے اداکار تنوجا نے انکشاف کیا کہ فلم کی شوٹنگ کے دوران سنجے کی کمزوری کے باعث انہیں سنجے کو چھونے سے بھی منع کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ انہوں نے اگر سنجے پر ہاتھ اٹھایا تو وہ گر جائیں گے۔ دوسری جانب سنجے کی بہن پریا دت کے مطابق بھائی کو مکمل صحت یاب ہونے میں تقریباً ساڑھے تین سال لگے اور امریکہ میں طویل ری ہیب کے بعد انہوں نے زندگی کا آغاز کیا۔
خود کو مرتے دیکھ رہا تھا، سنجے دت کا نشے کی لت سے متعلق بیان وائرل


















