اونر شپ ایکٹ کے تحت کمیٹیوں کے تمام فیصلے کالعدم، درخواستیں ٹریبونل کو منتقل

لاہور (کورٹ رپورٹر) لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب پراپرٹی اونر شپ قانون کے تحت قبضوں سے متعلق کارروائیوں کےخلاف دائر 1500 سے زائد درخواستوں پر اہم فیصلہ سناتے ہوئے ڈی آر سی کمیٹیوں کے تمام فیصلے کالعدم قرار دےدئیے اور تمام درخواستیں مزید کارروائی کےلئے متعلقہ ٹریبونل کو بھجوا دیں،چیف جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں 3 رکنی فل بنچ نے کیس کی سماعت کی، فل بنچ میں جسٹس جواد ظفر اور جسٹس عبہر گل خان بھی شامل تھے،سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز نے عدالت میں پنجاب پراپرٹی اونر شپ سے متعلق نیا ترمیمی آرڈیننس پیش کیا اور مو¿قف اختیار کیا زیر التوا درخواستوں کے دوران قانون میں اہم ترامیم کی گئی ہیں،نئے آرڈیننس کے تحت ڈی آر سی کمیٹیوں سے جوڈیشل اختیارات واپس لے لیے گئے ہیں، شکایت درج کرانے کےلئے بائیو میٹرک سسٹم متعارف کرایا گیا ہے، اختیارات ایگزیکٹو سے واپس لے کر ٹریبونل کو منتقل کر دیے گئے ہیں، ریٹائرڈ ججز کی بجائے حاضر سروس ایڈیشنل سیشن ججز کو ٹریبونل میں تعینات کیا جائے گا، ٹریبونل 30 روز کے اندر درخواست پر فیصلہ کرنے کا پابند ہوگا،عدالت کو بتایا گیا اگر کوئی معاملہ پہلے سے کسی عدالت میں زیر سماعت ہو تو شکایت کنندہ ٹریبونل میں منتقلی کی درخواست دے سکے گا، جس پر متعلقہ عدالت ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کرے گی کہ کیس ٹریبونل کو منتقل کیا جائے یا نہیں،مزید برآں ٹریبونل کے فیصلوں کےخلاف آئینی عدالت، سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ سے رجوع کیا جا سکے گا،چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دئیےقانون میں واضح تبدیلیاں آ چکی ہیں اور قانون کے غیر آئینی ہونے سے متعلق درخواستوں کو بعد میں دیکھا جائے گا،عدالت نے اپنے حکم میں ڈی آر سی کمیٹیوں کی تمام کارروائیاں کالعدم قرار دیتے ہوئے تمام زیر التوا درخواستیں ٹریبونل کو منتقل کرنے کی ہدایت کی اور حکم دیا ٹریبونل نئے ترمیمی آرڈیننس کے تحت تمام درخواستوں کو سن کر قانون کے مطابق فیصلہ کرے۔