یمن کے حوثی بھی جنگ میں شامل،ایرانی حملے، 6امریکی جہاز تباہ،متعدد فوجی ہلاک

تہران، واشنگٹن،تل ابیب،بیروت، ریاض،پیرس:(مشرق نیوز،بیورورپورٹ)یمنی حوثی بھی جنگ میں شامل،اسرائیل پر حملے شروع،صہیونی ریاست کا جنوبی لبنان پر وار،ایران پر بھی بمباری ،2صحافیوں سمیت کئی افراد شہید،تہران کی کلسٹربموں،میزائلوں کی بارش،تل ابیب دھماکوں سے گونج اٹھا،عمارتیں ملیا میٹ،خلیجی ممالک میں6امریکی جہاز تباہ،متعدد فوجی ہلاک ہوگئے۔

یمن کے حوثی فوجی ترجمان یحییٰ ساری نے تصدیق کرتے ہوئے کہااسرائیل کےخلاف پہلا حملہ متعدد میزائلوں کی شکل میں کیا گیا،ہدف مقبوضہ مغربی کنارے جنوبی علاقوں میں اسرائیلی فوجی تنصیبات تھیں،حملہ لبنان، ایران، عراق ،فلسطین میں شہریوں کی اموات، بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے ردعمل میں کیا، اہداف حاصل کرنے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔

جنوبی لبنان پر اسرائیلی فوج کے حملے میں 2 صحافیوں سمیت 4 افراد شہید ہوگئے،عرب و لبنانی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حملے میں لبنانی چینل کی گاڑی کونشانہ بنایا گیا، خاتون صحافی فاطمہ فتونی بھی شہید ہونےوالوں میں شامل ہیں۔

ایران کے شمال مغربی صوبہ زنجان پر امریکی ،اسرائیلی فضائی حملے میں 5شہری شہید ،7زخمی ہو گئے ،رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا،یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پر بھی شدید بمباری کی گئی،جواب میں ایران نے اسرائیل پر کلسٹر بم،میزائل برسا دیئے،تل ابیب میں کثیر المنزلہ عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا میزائل اسرائیلی فضا میں داخل ہوتے ہی سائرن بج اٹھے، لوگ شیلٹرز میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے،اسرائیل نے ایک شخص ہلاک ،2 زخمی ہونے کی تصدیق کر دی۔

ایرانی میڈیا کے مطابق فوج نے کویت کی الشویخ بندرگاہ پر امریکہ کے 6 ٹیکٹیکل جہازوں کو نشانہ بنایا ،3 لڑاکا جہاز سمندر میں غرق ،3 میں آگ بھڑک اٹھی،پاسداران انقلاب کے مطابق وعدہ صادق چہارم نامی آپریشن کے تحت دشمن پر حملے کی 84 ویں لہر میں دبئی کے ساحل وہوٹل میں امریکی اہلکاروں کو خودکش ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا ،دونوں حملوں میں کئی امریکی فوجی مارے گئے۔

سعودی عرب کے علاقے الخرج میں پرنس سلطان ائربیس پرحملے سے ری فیولنگ ،ائیرسپورٹ فلیٹ کو ہدف بنایا ،حملوں میں 29 امریکی فوجی زخمی ہوئے ،3 کنٹینر جہازوں کی آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش ناکام بنادی گئی ،ایرانی نیوی کے مطابق مختلف ملکوں کے 3 کنٹینر جہازوں کو واپس بھیج دیا ،ابوظہبی کے خلیفہ اکنامک زون کے قریب بیلسٹک میزائل کے ملبے سے آگ بھڑ ک اٹھی،پاکستانی سمیت 6شہری زخمی ہو گئے،حکام کے مطابق ائیر ڈیفنس سسٹم نے بیلسٹک میزائل کو کامیابی سے فضا میں تباہ کیا، گرنے والے ملبے سے مختلف مقامات پر آگ لگی۔

بریگیڈیئر جنرل ابراہیم ذوالفقاری نے کہا سلالہ پورٹ کے قریب امریکی کارگو جہاز ،دبئی میں یوکرین کی اینٹی ڈرون فیکٹری پر حملہ کیا،عرب امارات میں امریکی کمانڈرز ،فوجیوں کی کمین گاہ نشانہ بنائی ، دبئی میں امریکی فوجیوں کے2مقامات کونشانہ بنایا ،دونوں مقامات پر500 سے زائد امریکی فوجی چھپے ہوئے تھے،دبئی میں یوکرین کے اینٹی ڈرون سسٹم کے گودام کونشانہ بناکرتباہ کردیا، امریکی فوج کے پاس ہتھیار ڈالنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوگا۔

جنرل ماجد موسوی نے کہاتم نے ایک بار پہلے بھی آزمایا تھا، دنیا تمہیں دوبارہ آگ سے کھیلتے دیکھ رہی ہے، کھیل میں تم نے ایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کیے ،جواب کا انتظار کرواب آنکھ کے بدلے آنکھ والی بات نہیں چلے گی۔

صدر مسعود پزشکیان نے کہا خطے کے ممالک ترقی و سلامتی چاہتے ہیں تو اپنی سرزمین ایران کے دشمنوں کیلئے استعمال نہ ہونے دیں،بارہا کہہ چکے ایران حملوں میں پہل نہیں کرتا لیکن اگر ایران کے بنیادی ڈھانچے یا اقتصادی مراکز کو نشانہ بنایا گیا تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔

وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کہا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سفارت کاری کےلئے تاریخ میں توسیع کے باوجود اسرائیل نے جوہری تنصیب، پاور پلانٹ اور سٹیل تنصیبات کو نشانہ بنایا ،حملہ سفارت کاری کےلئے توسیع شدہ آخری تاریخ سے متصادم ہے،جرائم کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔

ادھرا مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طیارہ بردار بحری جہاز جیرالڈ پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ایران نے دنیا کے سب سے بڑے طیارہ بردار جہاز کو 17 مختلف زاویوں سے نشانہ بنایا،حملہ بہت شدید تھا، جہاز پر موجود لوگ جان بچانے کےلئے بھاگے، رات ایک بجے ہر 32 سیکنڈ بعد تیز رفتار طیارے جہاز سے اڑان بھر رہے تھے۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا ایران ڈیل چاہتا ،مذاکرات کر رہے ہیں ،کوئی نتیجہ بھی نکلے گا،ایران کو آبنائے ہرمز کھولنا پڑے گی، تہران اب کبھی بحری جنگی جہاز نہیں بنا سکے گا، ایرانی رجیم کے خطرے کو ختم کر رہے ہیں، ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا تو اسرائیل کےخلاف استعمال کر سکتا تھا،نیٹو کے برعکس سعودی عرب، قطر،یواے ا ی،بحرین،کویت نے مدد کی اور لڑے،میں صدر نہ ہوتا تو امریکہ ختم ہوچکا ہوتا،مجھے کامیاب لوگ پسند نہیں، ہارنے والوں کیساتھ رہنا اچھا لگتا ہے۔

دریں اثنا امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران میں امریکی فوجی اتارنے کے تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا جنگ مہینوں نہیں بلکہ چند ہفتوں تک جاری رہے گی،فوجی مقاصد حاصل کرنے کے باوجود آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا فوری چیلنج بن سکتا ہے۔

علاوہ ازیں امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں تیسرا بحری بیڑا تعینات کرنے کا فیصلہ کر لیا،امریکی بحری بیڑا یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش نارووک ورجینیا سے روانہ ہو گیا،بحری بیڑا خطے میں موجود جیرالڈ آرفورڈ اور ابراہم لنکن کیساتھ شامل ہو سکتا ہے، اقدام سے مشرق وسطیٰ میں امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں کی تعداد 3 ہو جائے گی۔

دوسری جانب خلیجی ممالک نے امریکہ کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہاصرف عارضی جنگ بندی ناکافی ،ایران کی جنگی صلاحیتوں کو لگام دی جائے،ممکنہ خطرات کےخلاف دفاعی تعاون و تحفظ کی بھی ضرورت ہے،خطے کو علاقائی سکیورٹی کی ضمانت چاہیے۔

امارات پالیسی سینٹر کے صدر ابتسام الکربی نے کہا اصل چیلنج ایران کو جنگ روکنے پر آمادہ کرنا نہیں بلکہ خطے کو ایران سے پیدا ہونےوالے آئندہ خطرات سے پائیدار تحفظ فراہم کرنا ہے،امریکہ میں متحدہ عرب امارات کے سفیر یوسف العتیبہ نے کہاایرانی صلاحیتوں کو مکمل طور پر ختم یا پابندیوں کے تحت نہیں لایا گیا تو جنگ بندی کے بعد بھی ایران عالمی معیشت کو یرغمال بنا سکتا ہے۔

مزید برآں جی سیون ممالک نے ایران جنگ میں شہریوں و بنیادی ڈھانچوں پر حملے فوری روکنے کا مطالبہ کر دیا،وزرائے خارجہ اجلاس کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا علاقائی شراکت داروں، شہری آبادیوں اور اہم انفراسٹرکچر پر تنازع کے اثرات کم،آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی محفوظ اور ٹول فری آزادی کو بحال کرنے کی ضرورت ہے۔