لاہور(قمر عباس نقوی /تصویر: واحد شہزاد) پاکستان ریلویز پریم یونین سی بی اے کے مرکزی رہنماﺅں نے روزنامہ ”مشرق“ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ محنت کی طاقت، مزدور کا وقاریکم مئی دنیا بھر کے محنت کشوں کیلئے ایک علامتی دن کی حیثیت رکھتا ہے جو محض تقویم کی ایک تاریخ نہیں بلکہ انسانی تاریخ کی ایک طویل جدوجہد، سماجی شعور اور محنت کش طبقے کے حقوق کے ارتقاءکی نمائندگی کرتا ہے یہ دن ہمیں اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ جدید دنیا کی معاشی و سماجی ترقی بنیادی طور پر محنت کش طبقے کی کاوشوں اور قربانیوں کی مرہون منت ہے اگر انسانی معاشرت سے مزدور کی محنت کو نکال دیا جائے تو ترقی کا پورا ڈھانچہ بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے ہم ایک منصفانہ معاشرہ چاہتے ہیں تو محنت کی عزت اور مزدور کے حقوق کو عملی طور پر تسلیم کرنا ہوگا۔ریلویز پریم یونین سی بی اے کے مرکزی صدر شیخ انور نے کہا کہ اسلامی نقطہ نظر سے محنت، مزدور اور حلال روزگار کو نہایت بلند مقام حاصل ہے اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسانی حقوق، عدل و انصاف اور معاشی توازن کو بنیادی اہمیت دیتا ہے اسلامی تعلیمات میں محنت کر کے روزی کمانا نہ صرف جائز بلکہ قابلِ ستائش عمل ہے نبی کریم نے محنت کی عظمت کو عملی طور پر بھی واضح فرمایا اور اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی مزدور کی اجرت اس کی محنت کے مطابق بروقت ادا کی جائے یہ اصول اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسلام میں محنت کش صرف ایک معاشی فرد نہیں بلکہ ایک باعزت انسانی وجود ہے جس کے حقوق کی حفاظت لازم ہے اسلامی معاشرت میں انصاف کا تصور صرف عدالتوں تک محدود نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کے ہر پہلو میں شامل ہے۔ چیئرمین ضیاءالدین انصاری کا کہنا تھا کہ مزدور کے ساتھ انصاف کرنا، اس کی محنت کو تسلیم کرنا اور اس کے حقوق ادا کرنا درحقیقت ایک اخلاقی اور دینی فریضہ ہے۔تاریخی طور پر 19 ویں صدی کا صنعتی انقلاب انسانی تاریخ کا ایک اہم موڑ تھا جس نے پیداوار اور معیشت کے نظام کو بدل دیا مگر اس ترقی کے ساتھ مزدور طبقہ شدید استحصال کا شکار ہوا۔ طویل اوقاتِ کار، کم اجرت اور غیر محفوظ ماحول نے ایک بڑے سماجی مسئلے کو جنم دیا۔ سینئر نائب صدر عبدالقیوم اعوان نے کہا 1886 میں امریکہ کے شہر شکاگو میں مزدوروں نے اپنے حقوق کیلئے منظم تحریک کا آغاز کیا ان کا مطالبہ تھاآ ٹھ گھنٹے کام آٹھ گھنٹے آرام اور آٹھ گھنٹے ذاتی زندگی یہ مطالبہ انسانی وقار کی بحالی کی علامت بن گیا۔ اسی تحریک کے دوران 4 مئی 1886 کو پیش آنے والا واقعہ جسے Haymarket Affair کہا جاتا ہے، مزدور تحریک کی تاریخ کا ایک اہم اور افسوسناک باب ہے اس واقعے میں پرامن احتجاج کے دوران تشدد ہوا، جس کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا اور بعد ازاں کئی رہنماوں کو سزائیں دی گئیں یہ واقعہ آج بھی مزدور حقوق کی جدوجہد میں ایک علامتی حیثیت رکھتا ہے چیف آرگنائزر خالد محمود چوہدری نے کہا ہے کہ 1889 میں ان قربانیوں کے اعتراف میں یکم مئی کو عالمی یومِ مزدور قرار دیا گیا آج یہ دن دنیا بھر میں محنت کش طبقے کے حقوق ان کی جدوجہد اور ان کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے طور پر منایا جاتا ہے مزدور صرف کسی ایک شعبے تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع طبقہ ہے جس میں کسان، فیکٹری ورکر، تعمیراتی مزدور، دفاتر کے ملازمین، گھریلو محنت کش اور دیگر تمام شعبے شامل ہیں یہ تمام افراد معاشرتی نظام کو رواں رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں بدقسمتی سے آج بھی مزدور طبقہ مہنگائی، کم اجرت، غیر محفوظ حالات اور سماجی تحفظ کی کمی جیسے مسائل کا شکار ہے ڈپٹی چیف آرگنائزر خرم جنید اور دیگر نے کہا پاکستان کے تناظر میں پاکستان ریلویز کے ملازمین قومی نظام کا ایک اہم ستون ہیں یہ ادارہ ملک بھر میں ٹرانسپورٹ کے نظام کو چلانے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے اس کے ملازمین روزانہ لاکھوں مسافروں کے سفر کو محفوظ اور آسان بناتے ہیںخاص طور پر گینگ مین حضرات اس نظام کے خاموش محافظ ہیں جو ریلوے ٹریک اور پلوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں یہ شدید گرمی، سردی، بارش، آندھی اور طوفان جیسے سخت حالات میں بھی اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔ بعض مواقع پر انہوں نے دہشتگردی جیسے خطرناک حالات کا سامنا کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کیا ہے یہ لوگ اس بات کی عملی مثال ہیں کہ مزدور صرف محنت نہیں کرتا بلکہ قومی نظام کی حفاظت میں بھی بنیادی کردار ادا کرتا ہے یومِ مزدور ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ یہ دن صرف ایک رسمی موقع نہیں بلکہ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے ریاست، ادارے اور معاشرہ مل کر ایسا نظام قائم کریں جہاں مزدور کو اس کی محنت کا پورا صلہ ملے، اسے تحفظ حاصل ہو اور اس کے خاندان کا مستقبل محفوظ ہو یہ حقیقت تسلیم کرنا ضروری ہے کہ کسی بھی قوم کی ترقی اس کے محنت کش طبقے کی عزت اور انصاف پر منحصر ہوتی ہے اسی احساس کی ترجمانی یہ اشعار خوبصورتی سے کرتے ہیںنہ محل نہ تاج، نہ کوئی نشان چاہیے مزدور کو بس اس کا ہی مقام چاہیے کٹ چکی ہے عمر ساری جن کی پتھر توڑتےاب تو ان ہاتھوں میں بھی کوہِ نور ہونا چاہئے۔
یکم مئی تحفظ حقوق محنت کش،سماجی شعور کی بیداری کیلئے سنگ میل ہے: مزدور رہنما



















