پنجاب میں ایک ملین نوجوانوں کو سکل ٹریننگ دی جائیگی: صوبائی وزیر تعلیم

لاہور (کامرس رپورٹر) لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں انڈسٹری اور اکیڈمیا کے درمیان روابط مضبوط بنانے کیلئے ”ایک دن، ایک یونیورسٹی“ پروگرام کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی، جس میں کاروباری برادری، تعلیمی اداروں اور طلباءکی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس اقدام کا مقصد طلباءکی صلاحیتوں کو صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنا اور روزگار کے بہتر مواقع پیدا کرنا ہے۔ تقریب میں صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل اور صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے مشترکہ طور پر یونیورسٹی طلباءکے پراجیکٹس پر مشتمل ایگزیبیشن کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر سینئر نائب صدر تنویر احمد شیخ، نائب صدر خرم لودھی، چیئرپرسن پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر اقرار احمد خان، پرو ریکٹر یونیورسٹی آف سنٹرل پنجاب ڈاکٹر حماد نوید سمیت ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین منظور حسین جعفری، محسن بشیر، عمر سرفراز، وقاص اسلم، رانا محمد نثار، اور کنونیئر عمر سلیم بھی موجود تھے۔تقریب کے دوران شرکاءنے مختلف جامعات کے طلباءکی جانب سے تیار کردہ جدید اور تخلیقی پراجیکٹس میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا جبکہ وزیر تعلیم نے طلباءکی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کی۔ صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل نے اپنے خطاب میں کہا کہ لاہور چیمبر نے رواں سال کو انڈسٹری-اکیڈمیا لنکج کا سال قرار دیا ہے کیونکہ ملکی ترقی کیلئے تعلیمی اداروں اور صنعت کے درمیان مضبوط رابطہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے تاہم انہیں موثر رہنمائی، تربیت اور ہینڈ ہولڈنگ کی ضرورت ہے تاکہ وہ عملی میدان میں بہتر کارکردگی دکھا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ویلیو ایڈیشن کے ذریعے نوجوانوں کی افادیت میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور معیشت کا مستقبل نوجوان نسل سے وابستہ ہے۔ صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے لاہور چیمبر کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انڈسٹری اور اکیڈمیا کے درمیان روابط کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈگری کے ساتھ ساتھ اسکل سیٹ کی اہمیت بڑھ چکی ہے اور آج کی معیشت میں وہی نوجوان کامیاب ہوگا جو جدید مہارتوں سے لیس ہوگا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ حکومت نے 57 ایسے شعبہ جات کی نشاندہی کی ہے جن میں 2050 تک روزگار کے وسیع مواقع موجود ہوں گے اور اسی تناظر میں طلباءکو تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب حکومت رواں سال ایک ملین سے زائد نوجوانوں کو ہنر سکھانے کا ہدف رکھتی ہے جبکہ پہلی بار سکل ڈیویلپمنٹ اینڈ انٹرپرینیورشپ ڈیپارٹمنٹ قائم کیا گیا ہے۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ آئی ٹی ایکسپورٹس میں مسلسل اضافہ خوش آئند ہے تاہم پاکستانی فری لانسرز کو عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کیلئے اپنی مہارتوں میں مزید بہتری لانا ہوگی۔ رانا سکندر حیات نے مزید بتایا کہ طلباءکیلئے ایک لاکھ لیپ ٹاپ فراہم کئے جا رہے ہیں اور پہلی بار پرائیویٹ یونیورسٹیوں کے طلباءکو بھی اس پروگرام اور سکالرشپس میں شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے 2026 کو ”یوتھ کا سال“قرار دیا ہے اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے کیلئے مختلف اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ صوبے میں تین جدید لیبز کے قیام کا منصوبہ ہے جہاں طلباءکو انڈسٹری کی ضروریات کے مطابق تربیت دی جائیگی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ نوجوانوں کو صرف ملازمت کے بجائے انٹرپرینیورشپ کی طرف بھی راغب کیا جائے تاکہ وہ خود روزگار کے مواقع پیدا کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں وسائل کی کمی نہیں بلکہ انہیں مو¿ثر انداز میں استعمال کرنے کی ضرورت ہے اور نوجوان اس سلسلے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ چیئرپرسن پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر اقرار احمد خان نے کہا کہ تھیوری اور پریکٹیکل کے درمیان فرق کو ختم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب انوویشن کے تحت بڑے پیمانے پر ایگزیبیشن منعقد کی جا رہی ہے جس میں 1500 سے زائد انٹریز متوقع ہیں اور اتنے ہی سٹالز لگائے جائیں گے، جس سے طلباءکو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا بھرپور موقع ملے گا۔