مسافر، مال بردار ٹرینوں،کمرشل، پبلک ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافہ

لاہور (اپنے نمائندے سے+ سٹاف رپورٹر) ڈیزل قیمتوں میں 20 فیصد اضافے کے بعد پاکستان ریلویز کا 5سے 20فیصد تک مال اور مسافرٹرینوں کے کرایوں میں اضافہ کر دیا گیا، اطلاق 9مارچ کل سے ہو گا۔حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کے باعث پاکستان ریلویز کی جانب سے بھی مسافر اور مال بردار ٹرینوں میں 5سے 20فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ پاکستان ریلویز ترجمان کے مطابق پاکستان ریلویز کا اکانومی کلاس کے کرایوں میں 5 فیصد اے سی کلاسز کے کرایوں میں 10 فیصد مال گاڑیوں کے کرایوں میں 20 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جبکہ مسافر ٹرینوں کے آپریشنل اخراجات کا اضافی بوجھ پاکستان ریلویز خود برداشت کریگا، اضافے کا اطلاق 9 مارچ سے تمام مال گاڑیوں اور مسافر ٹرینوں کے کرایوں پر ہو گا۔ فیصلے کا اطلاق پہلے سے کی ہوئی بکنگ پر نہیں ہو گا، ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کے بعد ٹرین کرایوں میں اضافہ ناگزیر تھا۔دوسری طرف پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد ملک بھر میں مال بردار کرایوں میں 20 فیصد اضافے کا اعلان کردیا جس کا اطلاق بھی کر دیا گیا ہے ۔صدر پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس ملک شہزاد اعوان نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ دو ماہ کے دوران ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 78 روپے جبکہ پیٹرول کی قیمت میں 68 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے جس کے باعث ٹرانسپورٹرز کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔اگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کسی مجبوری کے تحت کیا گیا ہے تو وفاقی حکومت کو چاہیے کہ ٹول ٹیکس سمیت دیگر ٹیکسز میں کمی کا اعلان کرے تاکہ ٹرانسپورٹرز کو کچھ ریلیف مل سکے۔ملک کی نازک معاشی صورتحال کے باوجود ٹرانسپورٹرز امپورٹ، ایکسپورٹ اور کاروباری سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے نہ صرف ٹرانسپورٹرز بلکہ ہر پاکستانی متاثر ہوتا ہے اور اس سے مہنگائی کا نیا طوفان آتا ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی اور پنجاب حکومت کی غلط پالیسیوں کے باعث ٹرانسپورٹرز کو ماضی میں 10 دن کی ملک گیر ہڑتال بھی کرنا پڑی تھی، ہڑتال کے دوران سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب اور وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر سے ہونے والے معاہدوں پر تاحال عملدرآمد نہیں ہوا۔انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی جانب سے کیے گئے وعدوں پر بھی عملدرآمد نہیں کیا جارہا۔صدر پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس نے مطالبہ کیا کہ وفاقی، پنجاب اور سندھ حکومتیں ٹرانسپورٹرز سے کیے گئے معاہدوں پر فوری عملدرآمد کریں بصورت دیگر اگر پالیسیوں پر نظرثانی نہ کی گئی تو پاکستان بھر میں ٹرانسپورٹ بند کردی جائے گی جس کی تمام تر ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد ہوگی۔ علاوہ ازیں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوتے ہی گڈز ٹرانسپورٹرز کے بعد پبلک ٹرانسپورٹرز نے بھی عوام پر کرایوں کا بم گرا دیا۔پبلک ٹرانسپورٹرز نے تین سو روپے سے600 روپے تک کرایوں میں اضافہ کر دیا، لاہور سے اسلام آباد کرایہ 2600 سے بڑھا کر 3000 کر دیا گیا، لاہور سے پشاور کا کرایہ 2890 سے 3500 کر دیا گیا۔لاہور سے سرگودھا کا کرایہ 1300 سے بڑھا کر 1550 روپے کر دیا گیا، لاہور سے فیصل آباد کا کرایہ 1200 سے 1350 کر دیا گیا، لاہور سے کراچی کا کرایہ 8000 سے 8600 روپے کر دیا گیا۔لاہور سے حیدر آباد کا کرایہ 8650 سے 9200 روپے کر دیا گیا، لاہور سے رحیم یار خان کا کرایہ 4000 سے بڑھا کر 4250 روپے کر دیا گیا، لاہور سے مری کا کرایہ 2790 روپے سے بڑھا کر 3300 روپے کر دیا گیا۔لاری اڈے پر موجود مسافروں نے کہاکہ مہنگائی کے اس دور میں پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے، کبھی کہیں خوشی غمی پر جانا بھی امتحان سے کم نہیں ہے، غریب آدمی اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی کھلائے یا سفر کرے۔ٹرانسپورٹروں نے موقف اپنایا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ سپیئر پارٹس بھی مہنگے ہوئے ہیں، اگر کرایوں میں اضافہ نہ کریں تو گاڑیاں بند کرنے پر مجبور ہیں۔شہریوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت پٹرول کی قیمت فوری کم کرے ورنہ مہنگائی کا سیلاب آ جائیگا۔