پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی افسران کی نااہلی اور ناتجربہ کاری کی اسمبلی میں بھی گونج

لاہور (میاںذیشان) پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے افسران کی نااہلی اور ناتجربہ کاری کی گونج پنجاب اسمبلی میں بھی سنائی دینے لگ گئی۔ پنجاب بھر کے کروڑوں شہریوں کو ریلیف دینے کے دعوے کرنے والی پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی اور بورڈ آف ریونیو کی ناقص منصوبہ بندی، مبینہ غفلت اور انتظامی نااہلی نے صوبے بھر میں زمینوں کے ریکارڈ کو شدید بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود ہزاروں شہری اپنے ہی املاک کے ریکارڈ تک رسائی سے محروم ہیں جبکہ لین دین، انتقالات اور عدالتی معاملات بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ صورتحال اس قدر سنگین ہو چکی ہے کہ غریب افراد کو اپنی زمین فروخت کرنے، بچیوں کی شادیاں کرنے اور اپنے پیاروں کی تجہیز و تکفین جیسے ناگزیر معاملات کیلئے بھی غیر معمولی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ محکمہ ریونیو کے بعض افسران نے اربوں روپے کے فوائد حاصل کیے لیکن عوام کو سہولت دینے کے بجائے انہیں لامتناہی مشکلات، ذہنی اذیت اور معاشی پریشانیوں میں دھکیل دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق حلقہ پی پی 9 کے رکن پنجاب اسمبلی راجہ شوکت عزیز بھٹی نے پنجاب اسمبلی میں پیش کی جانے والی اپنی تحریک التواءمیں انکشاف کیا ہے کہ ریونیو بورڈ نے صوبے کی زمینوں کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے کیلئے اربوں روپے کا ٹھیکہ ایک نجی کمپنی کو دیا، تاہم بورڈ آف ریونیو کے افسران نے زمینی حقائق کا جائزہ لینے کے بجائے دفتروں میں بیٹھ کر فیصلے کئے اور ایک ایسے منصوبے پر عملدرآمد شروع کرا دیا جس کے نتیجے میں ریکارڈ نامکمل، ناقص اور متنازع شکل اختیار کر گیا۔ تحریک کے مطابق مذکورہ کمپنی نے صرف 2020-21 کی جمع بندی کے مطابق ریکارڈ سکین کیا جبکہ خانہ مالکی، خانہ کاشت اور فرد بدر سمیت انتہائی بنیادی اور قانونی حیثیت رکھنے والے اندراجات کو نظر انداز کر دیا گیا۔ راجہ شوکت عزیز بھٹی کے مطابق خصوصاً راولپنڈی ڈویژن کے متعدد مواضعات کا ریکارڈ مکمل طور پر بلاک اور نامکمل پڑا ہے جبکہ صوبے بھر میں ایک ایک ہولڈنگ میں پچاس، پچاس مالکان درج ہیں اور پوٹھوہار کے علاقوں میں دو دو مرلے اراضی میں بھی درجنوں شریک مالکان موجود ہیں، جن کیلئے تقسیم کے مقدمات میں ایک جگہ جمع ہو کر بیانات دینا عملاً ناممکن ہے۔ اس صورتحال کے باعث لوگ روزانہ ایک ضلع سے دوسرے ضلع اور ایک شہر سے دوسرے شہر کے چکر لگانے پر مجبور ہیں جبکہ گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کے نفاذ کے بعد مسائل مزید گھمبیر ہو گئے ہیں۔ رکن اسمبلی نے الزام عائد کیا کہ فرد بدر کے حصول کیلئے بعض پٹواری ایک ایک فرد کے عوض لاکھوں روپے وصول کر رہے ہیں جبکہ کمپیوٹرائزڈ لینڈ ریکارڈ سنٹرز کے عملے کی نااہلی، عدم پیشہ ورانہ صلاحیت اور مبینہ کرپشن کے باعث ہر ضلع میں حکومتی ریونیو میں نوے فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرد نہ ملنے سے جائیدادوں کی خرید و فروخت، انتقالات اور دیگر قانونی معاملات رکے ہوئے ہیں، عدالتوں میں روزمرہ مقدمات التوا کا شکار ہیں اور بے شمار بے گناہ افراد ضمانتیں ہونے کے باوجود جیلوں میں پڑے ہیں۔ تحریک میں مزید الزام لگایا گیا کہ اس منصوبے سے محکمہ ریونیو کے بعض افسران نے اربوں روپے کے فوائد حاصل کیے لیکن عوام کو سہولت دینے کے بجائے انہیں لامتناہی مشکلات، ذہنی اذیت اور معاشی پریشانیوں میں دھکیل دیا گیا۔ راجہ شوکت عزیز بھٹی نے کہا کہ پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی اور بورڈ آف ریونیو کے تمام متعلقہ سربراہان اس سلگتے ہوئے مسئلے سے بخوبی آگاہ ہیں لیکن کسی مجبوری یا مصلحت کے تحت اس کے حل کیلئے موثر اقدامات نہیں کئے جا رہے، جس کے باعث پنجاب بھر میں شدید بے چینی اور اضطراب پایا جاتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کو مقررہ مدت کے ساتھ متعلقہ اسمبلی کمیٹی کے سپرد کیا جائے تاکہ عوام کو فوری ریلیف، عدالتی معاملات میں حائل رکاوٹوں کا خاتمہ اور حکومتی ریونیو میں دوبارہ اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔