لاہور (میاں ذیشان) آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے دوسرے مرحلے کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے درمیان جاری سخت سیاسی محاذ آرائی نے پنجاب کی سیاست میں بھی نئی ہلچل پیدا کر دی ہے، جہاں انتخابی دھاندلی، سرکاری وسائل کے مبینہ استعمال، انتظامی مداخلت اور سیاسی انتقام کے الزامات نے سیاسی ماحول کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے ایک جانب آزاد کشمیر کے انتخابی معرکے کو ملک میں جمہوری اقدار اور شفاف انتخابی نظام کا امتحان قرار دیتے ہوئے پنجاب بھر میں اپنے سیاسی اور عوامی رابطہ مہم کو تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ دوسری جانب پارٹی کے مرکزی رہنما سید حسن مرتضیٰ نے پنجاب میں انتخابی عمل کے حوالے سے سنگین تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ الیکشن کمیشن کی سست روی اور بعض انتظامی اقدامات کے ذریعے ایک مخصوص سیاسی جماعت کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے جس سے آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد پر سوالات جنم لے رہے ہیں۔ سید حسن مرتضیٰ نے روزنامہ مشرق سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پیپلز پارٹی کے نمائندوں نے پنجاب کے مختلف اضلاع میں متعدد پولنگ اسٹیشنوں کا دورہ کیا جہاں مختلف نوعیت کی بے ضابطگیاں سامنے آئیں، چکوال میں پارٹی امیدوار کے کاروباری مراکز کو سیل کیا گیا، ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مبینہ طور پر پیپلز پارٹی کا نام لے کر دھمکیاں دی گئیں، متعدد پولنگ سٹیشنوں پر پارٹی کے پولنگ ایجنٹوں کو مناسب مقامات پر بیٹھنے کی اجازت نہ دی گئی جبکہ مسلم لیگ (ن) کے ووٹرز اور سپورٹرز کو موبائل فون ساتھ لے جانے کی اجازت دی گئی، جو انتخابی ضابطہ اخلاق کے منافی ہے۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ ایک حلقے میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کا نام بیلٹ پیپر پر غلط شائع کیا گیا جس کی شکایت فوری طور پر الیکشن کمیشن اور متعلقہ اداروں کو ارسال کر دی گئی، جبکہ بعض مقامات پر ووٹر ٹرن آﺅٹ انتہائی کم رہا اور چنیوٹ کے ایک پولنگ اسٹیشن پر رجسٹرڈ تین ووٹر بھی اپنا حق رائے دہی استعمال نہ کر سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ متعدد ایسے ووٹرز کے نام انتخابی فہرستوں میں شامل ہیں جن کے درج شدہ پتوں پر حقیقت میں کوئی ووٹر موجود نہیں ہوتا بلکہ یہ افراد صرف پولنگ کے روز کشمیر سے آ کر ووٹ کاسٹ کرتے ہیں، جسے انہوں نے مسلم لیگ (ن) کی مبینہ انتخابی حکمت عملی قرار دیا۔ ادھر پارٹی ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی نے پنجاب میں اپنی تنظیمی سرگرمیوں کو مزید فعال بنانے، کارکنوں کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھنے، پریس کانفرنسوں، عوامی اجتماعات اور سوشل میڈیا مہم کے ذریعے آزاد کشمیر کے انتخابی ماحول اور مبینہ بے ضابطگیوں کو عوام کے سامنے اجاگر کرنے کی حکمت عملی اختیار کر لی ہے، جبکہ مرکزی اور صوبائی سطح پر ترجمانوں کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے عائد کیے جانے والے الزامات کا فوری، مدلل اور دستاویزی جواب دیا جائے۔ بلاول بھٹو زرداری کے بیانئے کو پنجاب میں مزید موثر انداز میں اجاگر کرتے ہوئے مہنگائی، بے روزگاری، بلدیاتی نظام، کسانوں اور مزدوروں کے مسائل کو بھی انتخابی مباحث کا حصہ بنایا جائیگا تاکہ پارٹی کی سیاسی موجودگی مزید مضبوط ہو سکے۔ سید حسن مرتضیٰ نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی جمہوریت اور عوامی حق رائے دہی کے تحفظ کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی، تمام شکایات متعلقہ اداروں کے سامنے پیش کی جا چکی ہیں، تاہم موجودہ صورتحال میں پارٹی کو لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم نہیں کی جا رہی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق آزاد کشمیر کے انتخابات نے نہ صرف دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان لفظی جنگ کو مزید تیز کر دیا ہے بلکہ اس کے اثرات پنجاب کی آئندہ سیاسی صف بندی اور انتخابی حکمت عملی پر بھی نمایاں طور پر مرتب ہونے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں جس کے باعث آنے والے دنوں میں صوبے کی سیاسی فضا مزید گرم ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔
مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی محاذ آرائی ،پنجاب کی سیاست میں بھی نئی ہلچل


















