لاہور ( خصوصی انٹرویو: میاں ساجد) زندگی کا مشن انسانیت کی خدمت کے چراغوں کی آبیاری ہے۔ ذہنی صحت کے مریض اکثر اپنے ہی گھر والوں اور معاشرے کی بے حسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ لوگ ان کے دکھ، تکلیف اور خاموش چیخوں کو سمجھنے کے بجائے انہیں نظر انداز کر دیتے ہیں، جس سے ان کی بیماری مزید بڑھ جاتی ہے لیکن ایک معالج خاص طور پر ذہنی صحت کے شعبے سے وابستہ ڈاکٹر، ان کیلئے روشنی کی ایک کرن بن کر سامنے آتا ہے۔ ایگزیکٹیو ڈائریکٹر پنجاب انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ کا قلمدان سنبھالتے ہی مریضوں کی فلاح و بہبود کیلئے جامع حکمت عملی مرتب کرتے ہوئے ذہنی صحت کے مریضوں کیلئے بہتر اقدامات انتظام و انصرام میری اولین ترجیحات کا حصہ ہیں۔ ان خیالات کا اظہار ایگزیکٹو ڈائریکٹر پنجاب انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ پرو فیسر ڈاکٹر عائشہ ارشد نے روزنامہ ”مشرق“ کو خصوصی انٹرویو کے دوران کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ذہنی بیماری جسمانی بیماری کی طرح سنجیدہ معاملہ ہے، مگر بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اس سے جڑا ہوا منفی تاثر علاج میں رکاوٹ بن جاتا ہے ان مریضوں کو پوشیدہ رکھا جاتا ہے کہ کسی کو پتہ نہ چل جائے کہ اس گھر میں کوئی ذہنی مریض ہے بجائے اس کی دیکھ بھال کے اس کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اس بات کو کرتے ہوئے افسوس بھی ہوتا ہے اور دکھ بھی کہ ذہنی مریضوں کو ان کے گھر والے کیوں فراموش کرتے ہیں۔ ادارے میں آنے والے مریضوں کے علاج، رہائش اور خوراک کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے اصلاحات پر کام جاری ہے۔ “ہم نے او پی ڈی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے اس کی استعداد کار کو وسعت دی ہے۔ مریضوں کو باعزت ماحول دینا ان کی ترجیحات ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ جلد ہی ادارے میں مریضوں کیلئے تفریحی اور بحالی پروگرامز کے پروگرام اور ان کی ذہنی صحت کے ساتھ ساتھ سماجی بحالی کیلئے بھی اقدامات بروئے کار لائے گے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر عائشہ ارشد نے مزید بتاتے ہوئے کہا ہے کہ الحمداللہ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ کو ایک ماڈل ادارہ کے طور پر اور ذہنی صحت کے حوالے سے عالمی معیار کی سہولیات دستیاب کی بحالی کیلئے سر گرم عمل ہے۔ داخل مریضوں کے علاج، رہائش اور خوراک کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے اصلاحات پر کام جاری ہے۔ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ میں مریضوں کیلئے وارڈ اور تمام سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا فرض اولین ہے۔ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ میں مریضوں کی فلاح و بہبود کو مقدم رکھتے ہوئے وارڈز اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے عملی اقدامات کو مزید تیز کر د یا گیا ہے۔ صفائی کے نظام کی بہتری، معیاری خوراک کی فراہمی اور مریضوں کو ادویات کی بروقت دستیابی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ او پی ڈی میں آنے والے مریضوں کے انتظار کے وقت کو کم کرنے کیلئے اضافی اسٹاف کی تعیناتی پر بھی کام جاری ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر عائشہ ارشد نے مزید بتاتے ہوئے کہا کہ انسانی ہمدردی اور عزتِ نفس کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مریضوں کی نگہداشت کو ترجیح دی جا رہی ہے، تاکہ ذہنی مریض بھی ایک باعزت زندگی گزار سکیں۔ پنجاب حکومت نے نہ صرف ذہنی امراض کے علاج کے اداروں کی بہتری پر توجہ دی ہے بلکہ شعور و آگاہی پیدا کرنے کیلئے بھی مختلف سطحوں پر مہمات کا آغاز بھی کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک اچھا معالج نہ صرف دوا دیتا ہے بلکہ امید بھی دیتا ہے، سنبھالتا ہے، اور مریض کو دوبارہ جینے کا حوصلہ دیتا ہے۔ ایسے ڈاکٹروں کی موجودگی کسی نعمت سے کم نہیں۔ پنجاب انسٹیوٹ آف منٹیل میں ایسے درد دل رکھنے والے ڈاکٹرز کی موجودگی ہمارے لیے باعث فخر ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر عائشہ ارشد نے OPD میں مہیا کی جانی والی سہولیات کے حوالہ سے بتاتے ہوئے کہا کہ انڈور ڈیپارٹمنٹ مندرجہ ذیل پر مشتمل ہے اور ہر یونٹ کو مرد اور خواتین وارڈ میں ذیلی تقسیم کیا گیا ہے:مرکزی نفسیاتی یونٹ۔خصوصی نگہداشت کے یونٹ۔بحالی یونٹ۔نشے کا یونٹ اور مرکزی نفسیاتی یونٹ پر مشتمل ہے۔ ہر نفسیاتی یونٹ میں مرد اور خواتین مریضوں کیلئے تقریباً 180 بستر ہیں۔ ہر یونٹ میں دو کنسلٹنٹس، ایک رجسٹرار اور چار سے پانچ میڈیکل آفیسرز/خواتین میڈیکل آفیسرز ہیں جن کی مدد پیرامیڈیکل اور سپورٹ سٹاف کرتی ہے۔ داخل ہونے والے زیادہ تر مریض وہ ہیں جن میں نفسیاتی خصوصیات ہیں جیسے شیزوفرینیا، مزاج کی خرابی، نفسیاتی علامات کے ساتھ مرگی کا کنٹرول نہ ہونا۔خصوصی نگہداشت کے یونٹ۔یہ یونٹ ان مریضوں کیلئے ہیں جو نفسیاتی یونٹ میں علاج کے دوران کسی جسمانی بیماری کا شکار ہوتے ہیں۔پیتھالوجی لیب، ریڈیولاجی ڈیپارٹمنٹ، ای ای جی ڈیپارٹمنٹ، ای سی جی سہولت، ای سی ٹی ڈیپارٹمنٹ اور ڈینٹل ڈیپارٹمنٹ پر مشتمل تشخیصی سہولیات بھی دستیاب ہیں۔ سائیکومیٹرک اسسمنٹ اور سائیکوتھراپیٹک مداخلت کیلئے طبی ماہر نفسیات کی خدمات بھی دستیاب ہیں۔پیشہ ورانہ تھراپی بحالی کی سرگرمیوں کا ایک لازمی حصہ ہے۔ اس مقصد کیلئے مرد اور خواتین دونوں مریضوں کیلئے ایک پیشہ ورانہ تھراپی یونٹ قائم کیا گیا ہے جہاں مریضوں کو عملی طور پر ملازمت کی مہارتیں سکھائی جاتی ہیں تاکہ وہ اپنے خاندان کیلئے مفید اور نتیجہ خیز رکن بن سکیں۔ ان مہارتوں میں ب±نائی، لکڑی کا کام، ٹیلرنگ اور بلیک سمتھ کا کام شامل ہے۔ ایک سوال کے جواب ایگزیکٹیو ڈائریکٹر پنجاب انسٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ پروفیسر ڈاکٹر عائشہ ارشد نے بتاتے ہوئے کہا کہ یہ شعبہ ہایڈیشنل میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے کنٹرول میں چلایا جا رہا ہے۔ نفسیاتی مریضوں کی دیکھ بھال کے علاوہ، عمارت میں سوشل سروسز پروجیکٹس، ڈینٹل آو¿ٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ، ریڈیولاجی ڈیپارٹمنٹ اور الٹراسونوگرافی روم بھی موجود ہے۔ نفسیاتی مسائل کے تقریباً 600 سے 700 مریض روزانہ آو¿ٹ پیشنٹ ڈپارٹمنٹ کا دورہ کرتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر انہیں مفت مشاورت، ادویات اور سائیکو تھراپیٹک مداخلت فراہم کی جاتی ہے۔ صبح کی شفٹ میں تمام کام کے دنوں میں او پی ڈی کھلی رہتی ہے۔ دو کنسلٹنٹ سائیکاٹرسٹ، ایک رجسٹرار اور چار سے پانچ میڈیکل آفیسرز/خواتین میڈیکل آفیسرز جن کے ساتھ کلینیکل سائیکالوجسٹ اور میڈیکل سوشل آفیسر مریض اور ان کے اہل خانہ کی مدد کیلئے موجود ہیں۔ یہ شعبہ عمومی نفسیاتی مریضوں کیلئے کمروں، چائلڈ گائیڈنس کلینک، مرگی کے مریضوں کیلئے فالو اپ کلینک اور ہموار کام کیلئے نفسیاتی مشاورت میں ذیلی تقسیم ہے۔ ہر قسم کے نفسیاتی مریضوں کا OPD میں انتظام کیا جاتا ہے، جیسے اینگزائٹی ڈس آرڈر، شیزوفرینیا، موڈ ڈس آرڈر وغیرہ۔ ان تمام مریضوں کا مفت علاج کے ساتھ انہیں مفت ادویات کی فراہمی بھی یقینی بنا یا جا رہا ہے۔
ذہنی مریض اہل خانہ اور معاشرے کی بے حسی کا شکار ہوجاتے ہیں: پروفیسر عائشہ ارشد



















