پی ٹی آئی اراکین قیادت اورسوشل میڈیا ٹیم پر برہم،الزامات

اسلام آباد:(بیورورپورٹ)پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی معین قریشی و دیگر رہنما سوشل میڈیا ٹیم ،قیادت پر برہم،الزامات عائد کردئیے۔

اجلاس میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا29 دسمبر سے اب تک بانی کے اہلخانہ کو ملنے نہیں دیا گیا،پمز ہسپتال کے ڈاکٹروں نے کہا آنکھ ضائع ہو سکتی ہے،بانی کی صحت قدرے بہتر ،ٹھیک نہیں کہہ سکتے ، وزیراعظم کی ٹیم نے کہا ڈاکٹروں کے خط پر ایک دن میں فیصلہ ہو جائے گا۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا بانی کی صحت کے معاملے کو نارمل نہیں لیا جانا چاہیے، 8 فروری کو ہڑتال ہو گی، مغرب کے بعد ریلیاں نکالیں اور دئیے گئے پلان پر عمل کریں،تبدیلی کےلئے سب کو کام کرنا ہوگا۔

پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرمعین قریشی نے پارٹی اراکین پر برہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہا سب کو اپنی اپنی بساط اور صوبے کے مطابق کام کرنا ہوگا، کوئی شخص بیماری کی وجہ سے نہ آئے تو سوشل میڈیا پر الزامات ، گالیاں دی جاتی ہیں،سوال پوچھنا ہے مجھ سے پوچھو لیکن خدارا منفی انداز مت اپناﺅ،سوچی سمجھی سازش کے تحت کیچڑ اچھالا جاتا ہے۔

ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران فیصل جاوید اور شاہد خٹک نے بھی برہمی کا اظہار کیا ،الزامات عائد کیے،فیصل جاوید نے کہا اپنے لوگوں کی نیتوں پر شک نہ کیا جائے، سب اپنی جگہ محنت کر رہے ہیں لیکن منفی انداز خدارا مت اپنائیں۔

شاہد خٹک نے کہا اجتماع کو سب سپریم کورٹ کی عمارت تک لےکر جائیں ،بانی کو صحت کی سہولیات اور رسائی آپ پارٹی اراکین کی وجہ سے بند ہے، آپ لوگ اکٹھے ہوں اور سب فورم پر آگے بڑھیں،محمود اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس نے ابہام پیدا کیا احتجاج کیسا ہوگا، محمود خان اچکزئی کی جانب سے لاک ڈاون ،احتجاج میں ابہام دور کیا جانا چاہیے نہ سمجھیں کہ کون لیڈ کرے گا سہیل آفریدی سمیت سب آگے بڑھیں۔