لاہور (سروے: نعیم جاوید/ عکاسی: واحد شہزاد) سگیاں روڈ کے قریب واقع سوئی نادرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کا مقامی دفتر شہریوں کیلئے عذاب جان بن گیا، صبح سویرے اپنے مسائل کے حل کی تلاش میں آنے والے سائلین عملے کے ناروا سلوک کے باعث شام کو بغیر کام ہوئے مایوس لوٹ جاتے ہیں۔ ”مشرق“ سروے کے مطابق شہریوں کی بڑی تعداد روزانہ کی بنیاد پر گیس سے متعلق شکایات، بلوں کی درستگی، نئے کنکشنز اور لوڈشیڈنگ کے معاملات کیلئے اس دفتر میں آتی ہے۔ مذکورہ دفتر لاہور اور شےخوپورہ کے متعدد گنجان آباد اور صنعتی و نیم صنعتی علاقوں کو کور کرتا ہے جن میں خان پور نہر سے لے کر نارنگ منڈی کے علاقے سگیاں روڈ، کوٹ لکھپت کے چند حصے، شاہدرہ ٹاون کے نواحی علاقے اور ان سے متصل رہائشی کالونیاں شامل ہیں۔ ان علاقوں میں گھریلو صارفین کے ساتھ ساتھ چھوٹی صنعتیں، بیکریز، ہوٹل اور ورکشاپس بھی گیس پر انحصار کرتی ہیں۔سروے کے مطابق سردیوں کے موسم میں گیس کی لوڈشیڈنگ ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ بےگم کورٹ کے رہائشی جاوےد اقبال نے بتایا کہ صبح اور شام کے اوقات میں گیس کی فراہمی اکثر معطل رہتی ہے، جس کے باعث گھریلو خواتین کو کھانا پکانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ سگیاں روڈ کے رہائشی اشرف کا کہنا تھا کہ صبح سات سے 9 بجے اور شام کو 5 کے بعد گیس نہیں آتی، بچے سکول جاتے ہیں تو ناشتہ بنانا مشکل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح بند روڈ کے ایک دکاندار صابر حسےن نے بتایا کہ ہوٹلوں اور تندوروں کو بھی گیس کی غیر یقینی فراہمی کے باعث نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔نئے گیس کنکشنز کے حوالے سے بھی شہریوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ سروے میں شامل افراد کے46 ہزار500روپے مطابق کئی درخواستیں مہینوں سے التوا کا شکار ہیں۔ شاہدرہ کے ایک رہائشی نے بتایا کہ انہوں نے چھ ماہ قبل تمام کاغذات مکمل کر کے درخواست جمع کروائی تھی مگر اب تک نہ تو کنکشن ملا اور نہ ہی کوئی واضح جواب دیا جا رہا ہے۔ بعض شہریوں نے یہ شکایت بھی کی کہ دفتر کے چکر لگانے کے باوجود فائل آگے نہیں بڑھتی اور انہیں مختلف بہانوں سے واپس بھیج دیا جاتا ہے۔سروے کرنے والا 5ہزار روپے رشوت مانگتا ہے عوامی شکایات میں زائد بلنگ، میٹر کی خرابی اور گیس پریشر کی کمی بھی نمایاں ہیں۔ کئی صارفین کا کہنا تھا کہ بلوں میں یونٹس اچانک بڑھ جاتے ہیں جبکہ عملی طور پر گیس دستیاب نہیں ہوتی۔ ایک خاتون صارف نے بتایا کہ “مہینے میں آدھا وقت گیس نہیں ہوتی مگر بل پچھلے مہینوں سے زیادہ آ رہا ہے، شکایت درج کرانے پر کارروائی میں تاخیر ہوتی ہے۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ شکایات کے اندراج کیلئے عملہ محدود ہے جس کے باعث انتظار کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے۔ بعض افراد نے عملے کے رویے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا تاہم کچھ صارفین کا کہنا تھا کہ تکنیکی عملہ اپنی حد تک مسائل حل کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر وسائل کی کمی آڑے آتی ہے دوسری جانب متعلقہ دفتر کے ترجمان حےدر علی نے عوامی شکایات پر اپنا موقف دیتے ہوئے کہا کہ گیس کی لوڈشیڈنگ قومی سطح پر گیس کی قلت کے باعث کی جا رہی ہے اور اس کا مقصد دستیاب گیس کو منصفانہ بنیادوں پر تقسیم کرنا ہے۔ دفتر حکام کے مطابق ترجیحی بنیادوں پر گھریلو صارفین کو صبح اور شام کے اوقات میں گیس فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تاہم شدید سردی اور طلب میں اضافے کے باعث مکمل فراہمی ممکن نہیں رہتی۔ نئے کنکشنز کے بارے میں دفتر کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پالیسی کے تحت بعض علاقوں میں گیس نیٹ ورک پر دباو¿ بڑھنے کے باعث عارضی طور پر نئے کنکشنز روکے گئے ہیں۔ ان کے مطابق زیر التوا درخواستوں کی جانچ جاری ہے اور جیسے ہی گنجائش پیدا ہوگی، مرحلہ وار کنکشن دئیے جائیں گے۔ بلنگ اور میٹر سے متعلق شکایات پر حکام نے کہا کہ صارفین تحریری درخواست جمع کروائیں جن پر مقررہ مدت میں تکنیکی ٹیمیں کارروائی کریں گی۔
سگیاں روڈ پر سوئی گیس کا دفتر شہریوں کیلئے عذاب، بغیر رشوت کام کرانا ناممکن



















