لاہور(کامرس رپورٹر)پاکستان سٹاک ایکسچینج میں حالیہ دنوں کے دوران مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے جس کے باعث سرمایہ کاروں میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔ کاروباری ہفتے کے دوران شدید فروخت کے دباو کے نتیجے میں انڈیکس نمایاں پوائنٹس کی کمی کے ساتھ بند ہوا، جبکہ مارکیٹ کا مجموعی ماحول غیر یقینی صورتحال کا شکار رہا۔ماہر معاشیات ڈاکٹر ارشد اور ذکی اعجاز کے مطابق سٹاک مارکیٹ میں مندی کی بنیادی وجہ معاشی غیر یقینی، مہنگائی کا دباو، بلند شرح سود اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک معاشی سمت واضح نہیں ہوتی اور پالیسیوں میں تسلسل نظر نہیں آتا، سرمایہ کار محتاط رہتے ہیں، جس کا براہِ راست اثر حصص بازار پر پڑتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بیرونی ادائیگیوں کا دباو، آئی ایم ایف پروگرام سے جڑی شرائط اور عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاو بھی مقامی سٹاک مارکیٹ کو متاثر کر رہا ہے۔ڈاکٹر ارشد اور ذکی اعجاز کے مطابق کاروباری لاگت میں اضافہ، صنعتی پیداوار میں سست روی اور توانائی کے بلند نرخ بھی سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ ہیں، جس کے باعث بڑے سرمایہ کار منافع سمیٹنے کو ترجیح دے رہے ہیں اور نئی سرمایہ کاری سے گریز کیا جا رہا ہے۔دوسری جانب معروف صنعتکار اور کاروباری رہنما ایس ایم تنویر کا کہنا ہے کہ سٹاک مارکیٹ کی موجودہ مندی دراصل مجموعی معاشی مسائل کی عکاس ہے۔ ان کے مطابق بلند شرح سود نے کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے اور صنعتوں کیلئے فنانسنگ مہنگی ہو گئی ہے، جس سے کمپنیوں کی کارکردگی اور منافع پر منفی اثر پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب صنعت کمزور ہوتی ہے تو اس کا اثر سٹاک ایکسچینج پر لازمی طور پر ظاہر ہوتا ہے۔ایس ایم تنویر کے مطابق حکومت کو چاہیے کہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کیلئے معاشی پالیسیوں میں استحکام لائے، ٹیکس نظام کو سادہ بنائے اور شرح سود میں بتدریج کمی کرے تاکہ صنعتی پہیہ دوبارہ تیزی سے گھوم سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ برآمدات میں اضافے اور کاروبار دوست ماحول کے بغیر اسٹاک مارکیٹ میں پائیدار بہتری ممکن نہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر حکومت معاشی اصلاحات پر عملدرآمد، پالیسیوں میں تسلسل اور کاروباری طبقے کو ریلیف فراہم کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اسٹاک ایکسچینج میں موجودہ مندی عارضی ثابت ہو سکتی ہے، تاہم موجودہ حالات میں سرمایہ کار محتاط حکمتِ عملی اپنائے ہوئے ہیں جس کے باعث مارکیٹ دباو کا شکار ہے۔
کاروباری لاگت میں اضافہ، صنعتی پیداوار میں سست روی ترقی میں رکاوٹ ہے: ماہرین



















