حکومتی پالیسیوں میں عدم تسلسل سے ٹیکسٹائل انڈسٹری شدید دباﺅ کا شکار ہے: اپٹما

لاہور (نعیم جاوید سے)ملک کی ٹیکسٹائل انڈسٹری شدید دباو کا شکار ہے اور صنعتکاروں کا کہنا ہے کہ حکومتی پالیسیوں میں عدم تسلسل، توانائی کی بلند قیمتیں اور غیر منصفانہ ٹیکس نظام نے اس اہم برآمدی شعبے کو بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ ٹیکسٹائل سیکٹر، جو ملکی برآمدات کا بڑا حصہ فراہم کرتا ہے، گزشتہ دو برسوں کے دوران مسلسل مشکلات کا سامنا کر رہا ہے جس کے باعث متعدد یونٹس بند جبکہ کئی صنعتیں ملک سے باہر منتقل ہونے پر مجبور ہو چکی ہیں۔آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے مطابق سب سے بڑا مسئلہ بجلی اور گیس کی قیمتیں ہیں جو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔ اپٹما کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش، بھارت اور ویتنام میں صنعت کو سستی توانائی اور حکومتی مراعات حاصل ہیں جبکہ پاکستان میں برآمدی صنعت کو مہنگی بجلی اور گیس کے باعث عالمی منڈی میں مسابقت برقرار رکھنے میں شدید مشکلات درپیش ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ توانائی لاگت میں اضافے سے پیداواری لاگت بڑھی، جس کا براہِ راست اثر برآمدی آرڈرز اور منافع پر پڑا۔ اپٹما کے عہدیداران نے اس امر کی بھی نشاندہی کی کہ ایکسپورٹ فسیلی ٹیشن سکیم کے تحت کچھ خام مال اور ٹیکسٹائل مصنوعات کی ڈیوٹی فری درآمد سے مقامی صنعت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ ان کے مطابق مقامی یارن اور کپڑے پر سیلز ٹیکس عائد ہے جبکہ درآمدی مال کو رعایت حاصل ہے، جس سے مقامی صنعت غیر مساوی مقابلے کا شکار ہے۔ اپٹما کا مطالبہ ہے کہ درآمدی اور مقامی صنعت کیلئے یکساں ٹیکس پالیسی نافذ کی جائے تاکہ مقامی صنعت کو تحفظ مل سکے۔ خام مال بالخصوص کپاس کی کمی بھی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ مقامی کپاس کی پیداوار میں نمایاں کمی کے باعث صنعت کو مہنگی درآمدات پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے، جس سے لاگت میں مزید اضافہ ہوا۔ صنعتکاروں کا کہنا ہے کہ کپاس کے شعبے میں تحقیق، معیاری بیج اور کسانوں کی سرپرستی نہ ہونے کے باعث یہ بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ اپٹما کے مطابق ان حالات کے نتیجے میں ملک بھر میں بڑی تعداد میں اسپننگ اور ٹیکسٹائل ملز یا تو بند ہو چکی ہیں یا انتہائی کم پیداواری صلاحیت پر کام کر رہی ہیں۔ انڈسٹری ذرائع کا کہنا ہے کہ درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں یونٹس جزوی یا مکمل طور پر بند ہوئے ہیں، جس سے لاکھوں مزدور بے روزگاری کا شکار ہوئے۔ اپٹما کے عہدیداران کا دعویٰ ہے کہ تقریباً 30 سے 40 فیصد اسپننگ یونٹس براہِ راست متاثر ہوئے ہیں۔مزید برآں، صنعتکاروں کے ایک طبقے نے اپنی سرمایہ کاری دوسرے ممالک منتقل کرنا شروع کر دی ہے۔ اپٹما کے مطابق کچھ بڑے گروپس نے بنگلہ دیش، ویتنام اور وسطی ایشیائی ممالک میں نئے یونٹس قائم کئے یا وہاں موجود صلاحیت میں اضافہ کیا ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات میں سستی توانائی، ٹیکس مراعات، مستحکم پالیسیاں اور برآمدات کیلئے سازگار ماحول شامل ہیں۔ صنعتکاروں کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ملکی معیشت کیلئے خطرناک ہے کیونکہ اس سے نہ صرف برآمدات کم ہوں گی بلکہ روزگار کے مواقع بھی متاثر ہوں گے۔ اپٹما نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر توانائی نرخوں میں کمی، ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگی، درآمدی پالیسی میں اصلاحات اور کپاس کے شعبے کی بحالی کیلئے جامع اقدامات کئے جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر صنعت کو فوری ریلیف نہ دیا گیا تو مزید یونٹس کی بندش اور صنعت کی بیرون ملک منتقلی کا خدشہ بڑھ جائے گا، جس کے اثرات ملکی معیشت پر طویل مدت تک محسوس کئے جائیں گے۔