لاہور(سروے رپورٹ: نعیم جاوید/ عکاسی: شاہنواز) صوبائی دارالحکومت میں ایل پی جی گیس کی قیمتوں میں شدید عدم استحکام کے باعث شہریوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ مختلف علاقوں میں گیس مختلف نرخوں پر فروخت کی جا رہی ہے جس کے باعث صارفین میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ کہیں سرکاری نرخ سے کہیں زیادہ قیمت وصول کی جا رہی ہے تو کہیں وزن میں کمی کی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں۔روز نامہ ”مشرق“ سروے کے دوران شہریوں نے بتایا کہ اوگرا کی جانب سے سرکاری قیمتیں مقرر ہونے کے باوجود دکاندار من مانی کر رہے ہیں۔گلبرگ کے رہائشی نوےد اقبال کا کہنا تھا کہ ایک ہی شہر میں ایک ہی دن ایل پی جی10کلوسلنڈر کی قیمت 200 سے 300 روپے تک کا فرق ہوتا ہے، جبکہ غریب اور متوسط طبقہ اس اضافی بوجھ کو برداشت کرنے سے قاصر ہے۔ گھریلو خواتین نے شکوہ کیا کہ گیس مہنگی ہونے کے باعث کچن کا بجٹ بری طرح متاثر ہو رہا ہے اور متبادل ایندھن بھی اب سستا نہیں رہا۔شادمان کے رہائشی انور حمےدکہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کے برابر ہے، جس کا فائدہ اٹھا کر ڈسٹری بیوٹرز اور ریٹیلرز اپنی مرضی کے نرخ وصول کر رہے ہیں۔ عوام نے مطالبہ کیا کہ سرکاری نرخ نامے نمایاں مقامات پر آویزاں کروائے جائیں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔دوسری جانب متعلقہ اداروں کے حکام کا کہنا ہے کہ اوگرا ہر ماہ عالمی منڈی، درآمدی قیمتوں اور ڈالر کی قدر کو مدنظر رکھتے ہوئے ایل پی جی کی قیمتوں کا تعین کرتی ہے، تاہم مارکیٹ میں اصل مسئلہ عملدرآمد کا ہے۔ حکام کے مطابق قیمتوں پر کنٹرول ضلعی انتظامیہ اور صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے، اور جہاں بھی شکایات موصول ہوں، وہاں کارروائی کی جاتی ہے۔سرکای رےٹ300روپے کلو ہے جبکہ شہر کے مختلف علاقوں مےں 310سے320 روپے فی کلو فروخت کی جا رہی ہے وزن 1000 گرام کی بجائے 900گرام نکلتا ہے ۔ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز کے رہنماعرفان کھوکھر کا کہنا ہے کہ قیمتوں کے عدم استحکام کی بنیادی وجہ سپلائی چین میں موجود مسائل اور کمزور نگرانی کا نظام ہے۔ ان کے مطابق “اوگرا سرکاری قیمت مقرر کر دیتی ہے، مگر اس پر عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے موثر مانیٹرنگ نہیں کی جاتی جس کا نقصان براہ راست صارفین کو اٹھانا پڑتا ہے۔ اگر حکومت اور انتظامیہ سنجیدگی سے چیک اینڈ بیلنس قائم کریں تو من مانی قیمتوں کا مسئلہ خود بخود حل ہو سکتا ہے۔” ایل پی جی کی قیمتوں میں عدم استحکام کی ذمہ داری کسی ایک فریق پر نہیں ڈالی جا سکتی، بلکہ اوگرا، ضلعی انتظامیہ اور مارکیٹ میں موجود سپلائی کرنے والے تمام فریقین کو اپنی اپنی سطح پر مو¿ثر کردار ادا کرنا ہوگا، تاکہ شہریوں کو مزید مالی دباو سے بچایا جا سکے۔
ایل پی جی گیس کی قیمتوں میں شدید عدم استحکام کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا



















