لاہور (مرزا ندیم بیگ) پنجاب پولیس میں اختیارات کے ناجائز استعمال، کرپشن، رشوت ستانی، اختیارات سے تجاوز، شہریوں سے بدسلوکی اور محکمانہ غفلت کے خلاف کارروائیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ محکمہ پولیس کا موقف ہے کہ فورس کے اندر احتساب کے نظام کو مزید سخت کیا گیا ہے اور کسی بھی افسر یا اہلکار کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جا رہا،گزشتہ چند ماہ کے دوران صرف لاہور پولیس میں ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران اور ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا کی جانب سے متعدد اہم کارروائیاں کی گئیں، جن میں پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمات درج، گرفتاریاں، معطلیاں، برطرفیاں اور محکمانہ انکوائریاں شامل ہیں،سب سے نمایاں کارروائی تھانہ غازی آباد کے واقعہ میں سامنے آئی، جہاں ایک اے ایس آئی پر خاتون سے مبینہ زیادتی کے الزام کے بعد نہ صرف ملزم کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کیا گیا بلکہ کارروائی میں غفلت اور اعلیٰ حکام کو بروقت اطلاع نہ دینے پر ایس ایچ او سمیت تھانے کے تمام 78 اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا۔ معطل اہلکاروں میں سب انسپکٹرز، 8 اے ایس آئی، ہیڈ کانسٹیبلز، فرنٹ ڈیسک اسٹاف، محرر اور ڈرائیورز بھی شامل تھے جبکہ انچارج انویسٹی گیشن کو بھی ناقص نگرانی پر معطل کر دیا گیا،اسی طرح رشوت ستانی کے مختلف مقدمات میں بھی زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں ہوئیں،فیروزپور روڈ پر شہری سے رشوت لینے کے الزام میں حاضر سروس اہلکار خرم اور سابق برخاست اہلکار احسن نواز کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا جبکہ حاضر سروس اہلکار کو ملازمت سے برخاست کرنے کا حکم بھی جاری ہوا،کھلی کچہری میں موصول ہونے والی شکایت پر تھانہ کاہنہ کے دو اہلکاروں کبیر اور علی حسن کو انکوائری میں قصوروار ثابت ہونے پر گرفتار کرکے مقدمہ درج کیا گیا جبکہ تیسرے اہلکار کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری رہی،ایک اور کارروائی میں معطل کانسٹیبل علیم عباس کے قبضے سے منشیات برآمد ہونے پر اس کے خلاف مقدمہ درج کرکے محکمانہ کارروائی شروع کی گئی۔ پولیس حکام کے مطابق غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث اہلکاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی،دوسری جانب پولیس لائنز قلعہ گجر سنگھ میں محکمانہ اپیلوں کی سماعت کے دوران ڈی آئی جی آپریشنز نے 25 پولیس اہلکاروں کی اپیلوں پر فیصلے سنائے اور واضح کیا کہ سزا کا مقصد اصلاح اور نظم و ضبط کو موثر بنانا ہے جبکہ ہر اہلکار کو اپنا مو¿قف پیش کرنے کا مکمل حق حاصل ہے،ادھر کچہری بخشی خانہ سے فرار ہونے والے چاروں ملزمان کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا جبکہ اس واقعہ میں غفلت برتنے والے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف بھی محکمانہ کارروائی جاری ہے،پنجاب پولیس کی جانب سے سالانہ بنیادوں پر مختلف نوعیت کی محکمانہ کارروائیوں کی رپورٹس جاری کی جاتی ہیں، تاہم اختیارات کے غلط استعمال اور کرپشن کی بنیاد پر سزا پانے والے افسران و ملازمین کی تازہ، مجموعی اور حتمی تعداد الگ عنوان کے تحت عوامی طور پر جاری نہیں کی جاتی۔ اسی وجہ سے یہ کہنا ممکن نہیں کہ پورے پنجاب میں کتنے افسران و اہلکار صرف انہی الزامات پر سزا یافتہ ہوئے ہیں۔پولیس ذرائع کے مطابق ان کارروائیوں میں معطلی، جبری ریٹائرمنٹ، تنزلی، برطرفی، سروس ضبط، شوکاز نوٹس، محکمانہ سزائیں اور فوجداری مقدمات شامل ہوتے ہیں، جبکہ ہر کیس کا فیصلہ انکوائری اور شواہد کی بنیاد پر کیا جاتا ہے،لاہور پولیس کے مطابق ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے واضح ہدایات جاری کر رکھی ہیں کہ کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ ہے،کوئی بھی اہلکار قانون سے بالاتر نہیں،رشوت ستانی، اختیارات سے تجاوز اور شہریوں سے بدسلوکی پر فوری مقدمہ اور محکمانہ کارروائی ہوگی،خواتین، بچوں اور کمزور طبقات سے متعلق جرائم میں کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی،ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا کا کہنا ہے کہ خواتین کے خلاف جرائم میں ملوث عناصر کو قانون کے مطابق سخت سزا دلوائی جائے گی اور ہر مقدمے کی شفاف، غیر جانبدار اور میرٹ پر تفتیش یقینی بنائی جائے گی،حالیہ کارروائیوں سے واضح ہوتا ہے کہ پنجاب پولیس خصوصاً لاہور پولیس نے داخلی احتساب کے عمل کو مزید مو¿ثر بنایا ہے۔ تاہم صوبہ بھر میں اختیارات کے غلط استعمال اور کرپشن کے باعث سزا پانے والے افسران و اہلکاروں کی مکمل اور مستند مجموعی تعداد صرف پنجاب پولیس کے مرکزی ہیڈکوارٹر یا محکمہ داخلہ کی تازہ سرکاری رپورٹ سے ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔ ایسی رپورٹ دستیاب ہونے پر یہ واضح کیا جا سکتا ہے کہ کس درجے کے کتنے افسران و ملازمین کو کس نوعیت کی سزائیں دی گئیں۔
پنجاب پولیس، اختیارات کے ناجائز استعمال، کرپشن، شہریوں سے بدسلوکی کے واقعات میں اضافہ


















