اسلام آباد (بیورو رپورٹ) وزیر اطلاعات عطاتارڑ نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کو ”ریلیف پر مبنی اور سابقہ بجٹوں سے مختلف“ قرار دیتے ہوئے کہا کچھ لوگوں کو محض تنقید کی عادت اور تنقید برائے تنقید پر یقین رکھتے ہیں،حکومت نے معاشی استحکام، ٹیکس اصلاحات ،مو¿ثر انفورسمنٹ کے ذریعے مالی گنجائش پیدا کر کے تنخواہ دار طبقے، برآمد کنندگان، صنعت، ہاو¿سنگ، زراعت، آئی ٹی اور نوجوانوں سمیت مختلف شعبوں کو نمایاں ریلیف فراہم کیا،ان خیالات کااظہار انہوں نے آن لائن بریفنگ کے دوران کیا،عطا تارڑ نے کہا وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں معیشت کو ڈیفالٹ کے خطرات، بلند مہنگائی، غیر مستحکم شرح تبادلہ ،کم ترین زرمبادلہ ذخائر جیسے سنگین چیلنجز سے نکال کر استحکام کی راہ پر گامزن کیا گیا ،ایف بی آر اصلاحات، ڈیجیٹلائزیشن، ٹیکس نظام کی بہتری، بڑے شعبوں سے مو¿ثر وصولیوں، ہاو¿سنگ ، برآمدی شعبے کیلئے مراعات، نوجوانوں کیلئے قرض و ہنرمندی پروگرامز، زرعی مشینری پر ڈیوٹی کے خاتمے ،آئی ٹی و فری لانسرز کیلئے سہولتوں کے ذریعے وسیع معاشی سرگرمی اور عوامی ریلیف کو یقینی بنایا،ایف بی آر میں اصلاحات ، سفارش کلچر ختم ، میرٹ کا مکمل نظام متعارف کرادیا،50ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا،وزیرمملکت بلال اظہرکیانی نے کہاچھوٹے دکانداروں کوٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے متعارف کرائی گئی سکیم پرانجمن تاجران کے ساتھ ملکرعمل درآمدکریں گے،بجٹ میں تمام طبقات ،شعبوں کوریلیف فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے، پائیدارطریقے سے معیشت کوآگے لے جانا چاہتے ہیں۔
بجٹ ”ریلیف سے بھرپور،کچھ لوگوں کو محض تنقید کی عادت ہے: عطا تارڑ



















