اسلام آباد :(بیورورپورٹ)بجٹ کی تیاریوں کا آغاز ،حکومت نے ترجیحات کا تعین کر دیا۔
وزارت خزانہ کے مطابق اگلے مالی سال کیلئے جی ڈی پی گروتھ کا تخمینہ 5.1 فیصد ، مہنگائی کی شرح 6.5 فیصد تک محدود رہنے کی توقع ہے، نئے بجٹ میں گرین ٹیکس، نان ٹیکس ریونیو اورکلائمیٹ سبسڈیز پر خصوصی توجہ ہوگی،موسمیاتی تبدیلی پرآمدن ،اخراجات کی الگ ٹیگنگ لازمی قرار دےدی گئی،آفات سے نمٹنے کیلئے ڈیزاسٹربجٹنگ فریم ورک مزید مضبوط کیا جائے گا، اقدامات گرین گروتھ ، ماحولیاتی تحفظ میں مدد دیں گے۔
دستاویز کے مطابق نان ٹیکس آمدن کو ماحولیاتی اثرات کے لحاظ سے جانچا ، آلودگی پھیلانے والی سرگرمیوں پر لیویز کو کلائمیٹ اہداف سے جوڑا جائے گا، گرین ریونیو کیلئے توانائی، ٹرانسپورٹ، آلودگی کے مسائل سے نمٹنا ترجیح ہوگا،قدرتی وسائل کی کیٹیگریز، سبسڈیز کو کلائمیٹ ایڈاپٹیشن ، مٹیگیشن میں تقسیم کیا جائےگا۔
وزارت خزانہ نے کال سرکلر جاری کرتے ہوئے بجٹ سازی کے شیڈول کی منظوری دے دی،عبوری معاشی فریم ورک رواں ماہ کے دوران تیار کیا جائے گا، مڈ ایئر ریویو رپورٹ فروری 2026 میں قومی اسمبلی میں پیش کی جائے گی۔
نئے بجٹ کی تیاریاں شروع ،حکومت نے ترجیحات کا تعین کردیا



















