واشنگٹن (مشرق نیوز) امریکی ٹی وی نے صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران پر زور دار حملے کا امکان ظاہر کیا ہے، مغربی ممالک نے ایران سے اپنے شہری نکالنا شروع کر دیئے، امریکی فوجی اڈوں پر نفری میں کمی ہو گئی، ایرانی وزیر خارجہ نے ملک میں امن و امان کا یقین دلایا ہے۔ امریکی ٹی وی کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران پر زور دار اور فیصلہ کن حملہ چاہتے ہیں اور وہ طویل جنگ کے بجائے مختصر لیکن فیصلہ کن کارروائی چاہتے ہیں۔
ایران نے اپنی فضائی حدود بند کرنے کے بعد کچھ دیر کیلئے جزوی طور پر بحال بھی کی ہیں، ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ایران میں امن و امان بحال ہو چکا ہے، لوگوں کو پھانسی کی سزائیں دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، انہوں نے واضح کیا ہے کہ مظاہرین کو سخت سزائیں دینے کا الزام بے بنیاد مغربی پراپیگنڈا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ جون جیسی غلطی دوبارہ نہ دہرائی جائے ورنہ وہی نتیجہ نکلے گا جو پہلے نکلا تھا، ہمارے عزم کو بمباری سے نہیں توڑا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ مظاہروں میں موجود عناصر کو بیرون ملک سے کنٹرول کیا جا رہا تھا، کچھ مظاہرین نے پولیس اہلکاروں پر گولیاں چلائیں، داعش طرز کی دہشت گردانہ کارروائیاں کی گئیں، پولیس اہلکاروں کو زندہ جلایا گیا۔
دوسری جانب اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی آرمی چیف نے فوری دفاعی تیاریوں کا حکم دے دیا ہے، شمالی اسرائیل سمیت مخلتف علاقوں میں بم شیلٹر کھلنا شروع ہوگئے، اسرائیل توقع کر رہا ہےامریکہ ایران پر حملوں سے قبل وارننگ دے گا۔
برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کی تیاریاں جاری ہیں، امریکہ ایران میں 50 اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے، امریکہ کو ایران کے ممکنہ فوجی اہداف کی فہرست فراہم کر دی گئی جن میں پاسدارن انقلاب کا ہیڈ کوارٹرز بھی شامل ہے، فہرست میں ایرانی فوج کے 23 اڈوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔
دوسری جانب امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے فوجی اڈوں سے بعض اہلکاروں کا بھی انخلا شروع کر دیا ہے کیونکہ ایران نے پڑوسی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ قطر نے بھی تصدیق کی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے سب سے بڑے فوجی اڈے، العدید ایئربیس سے عملے میں کمی ’موجودہ علاقائی کشیدگی‘ کے باعث کی جا رہی ہے۔
ایک مغربی فوجی عہدیدار نے خبر ایجنسی کو بتایا کہ تمام اشارے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ امریکی حملہ جلد ہوسکتا ہے، دو یورپی عہدیداروں کا کہنا تھا کہ امریکی فوجی مداخلت آئندہ 24 گھنٹوں کے اندر ہو سکتی ہے جبکہ ایک اسرائیلی عہدیدار کے مطابق ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ نے مداخلت کا فیصلہ کر لیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ میں ہی مقیم 65 سالہ رضا پہلوی پر ایران کی قیادت کرنے کے حوالے سے عدم اعتماد کا اظہار بھی کر دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ بہت اچھے معلوم ہوتے ہیں، لیکن مجھے نہیں معلوم کہ وہ اپنے ہی ملک میں کیسی کارکردگی دکھائیں گے اور ہم ابھی اس مرحلے تک پہنچے ہی نہیں ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ مجھے نہیں معلوم کہ ان کا ملک ان کی قیادت قبول کرے گا یا نہیں اور اگر واقعی ایسا ہو تو مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ علاوہ ازیں جرمن ائیرلائن نے اسرائیل کیلئے رات کی پروازیں بند کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے جو 19 جنوری تک بند رہیں گی، ایئر انڈیا نے بھی ایرانی فضائی حدود کا استعمال بند کر دیا ہے جبکہ پاکستانی حکام کے مطابق ایرانی فضائی حدود کی بندش سے پاکستان کی پروازیں متاثر نہیں ہوں گی۔
ادھر ایران میں سکیورٹی صورتحال کے سبب امریکہ اور برطانیہ کے بعد سپین، پولینڈ اور اٹلی نے اپنے شہریوں کو ایران فوری چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے مطابق ایران میں تقریباً 600 اطالوی شہری موجود ہیں، جن میں سے اکثریت دارالحکومت تہران میں مقیم ہے۔ بیان میں شہریوں کو ہدایت کی گئی تو سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر ایران سے انخلا کی کوشش کریں۔
پولینڈ کی وزارت خارجہ نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے شہریوں کو کہا ہے کہ وہ فوراً ایران سے انخلا یقینی بنائیں، برطانیہ نے ایران سے اپنے تمام سفارتی عملے کو ملک سے باہر نکال لیا جبکہ ایران سے برطانوی سفیر کو بھی واپس بلا لیا گیا۔
ٹرمپ ایران پر مختصر مگر فیصلہ کن حملہ کرنا چاہتے ہیں: امریکی میڈیا کا انتباہ



















