بیجنگ (مشرق نیوز) چین نے اسلامی ممالک کےساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے ، ترقی پذیر ممالک کے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کےلئے ملکر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے،چینی سرکاری میڈیا کے مطابق اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طہٰ نے بیجنگ میں وزیر خارجہ وانگ یی سے ملاقات کی،وانگ یی نے کہا او آئی سی اسلامی دنیا کی سب سے بڑی بین الحکومتی تنظیم ہے اور چین ہمیشہ اسلامی ممالک اور او آئی سی کےساتھ تعلقات کو سٹرٹیجک اہمیت دیتا رہا ہے،چینی وزیر خارجہ نے کہا چین سنکیانگ سے متعلق امور اور تائیوان کے مسئلے پر اسلامی ممالک اور او آئی سی کی جانب سے چین کی بھرپور حمایت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، چین دنیا کو جنگل کے قانون کی طرف واپس لے جانے کی مخالفت کرتا ،اسلامی ممالک کےساتھ مل کر ترقی پذیر ممالک کے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کےلئے تیار ہے، وانگ یی نے کہا چین اور او آئی سی کے ممبر ملکوں کو بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت باہمی تعاون پر توجہ دینی چاہیے، علاقائی تنازعات کے سیاسی حل اور مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کو برقرار رکھنے کےلئے بھی مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے،چینی وزیر خارجہ نے کہا چین اور او آئی سی کو اقوامِ متحدہ کے کردار اور بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کا احترام کرنا چاہیے اور عالمی سطح پر منصفانہ طرزحکمرانی کے قیام میں کردار ادا کرنا چاہیے،او آئی سی کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طہٰ نے کہا اسلامی تعاون تنظیم ”وَن چائنہ“ کے اصول کی حامی،چین کے اندرونی معاملات میں بیرونی مداخلت کی مخالفت کرتی ہے، سنکیانگ میں ترقیاتی منصوبے خوش آئند ہیں، او آئی سی چین کے ساتھ شراکت داری میں اضافے اور خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کےلئے مل کر کام کرنے کی خواہاں ہے،حسین ابراہیم طہٰ نے فلسطین کے مسئلے کے جامع، دیرپا اور منصفانہ حل کےلئے چین کی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ چین آئندہ بھی اس حوالے سے مزید موثر کردار ادا کرتا رہے گا۔
اسلامی ممالک کے جائز حقوق، مفادات کے تحفظ کےلئے تیار ہیں: چین



















