امریکہ،ایران کی ایک دوسرے کو وارننگ،تہران مشروط مذاکرات پر آمادہ


واشنگٹن،تہران،استنبول:(بیورورپورٹ،مشرق نیوز)کشیدگی میں مزید اضافہ،امریکہ،ایران نے ایک دوسرے کو وارننگ دےدی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کہا پاسداران انقلاب کسی بھی اشتعال انگیزی سے گریز کرے اور آئندہ ہونےوالی فوجی مشقوں کے دوران کوئی بھی بے ضابطہ قدم نہ اٹھائے ،غیر محفوظ یا خطرناک اقدام برداشت نہیں کیا جائے گا۔

سینٹ کام نے کہاپاسداران انقلاب کو اپنی بحری مشقوں کو پیشہ ورانہ، محفوظ ،بین الاقوامی بحری ٹریفک کی آزادی کے تحفظ کےساتھ انجام دینا چاہیے،غیر محفوظ مشقیں، بے ضابطہ کارروائیاں یا امریکی طیارہ بردار جہاز کے قریب آپریشنز کیے تو برداشت نہیں کریں گے،امریکی فوج اپنے اہلکاروں، جہازوں ،طیاروں کی سلامتی کو یقینی بنائے گی ،کسی بھی خطرناک عمل کا سخت ردعمل دے سکتی ہے۔

ادھر ایرانی آرمی چیف امیر حاتمی نے امریکہ ، اسرائیل کو کسی بھی قسم کے حملے سے خبردار کرتے ہوئے کہا مسلح افواج مکمل طور پر ہائی الرٹ ہیں،دشمن نے کوئی غلطی کی تو پورے خطے کی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی،ایران کی جوہری تنصیبات ، ٹیکنالوجی کو ختم نہیں کیا جا سکتا، چاہے قوم کے سائنسدان ،فرزند شہید ہی کیوں نہ ہو جائیں، ایرانی جوہری صلاحیت برقرار رہے گی۔

دریں اثناایرانی وزیر خارجہ نے امریکہ کےساتھ مذاکرات کیلئے مشروط آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کہا پابندیاں اٹھانے کے بدلے جوہری ہتھیار سے دستبرداری کوتیار ہیں۔

استنبول میں ترک ہم منصب ہاکان فیدان کےساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہامذاکرات پر اعتراض نہیں لیکن دھمکیوں کے سائے میں نہیں ہو سکتے،دونوں ممالک کے حکام میںکسی ملاقات کا شیڈول طے نہیں ہوا تاہم ایران منصفانہ و برابری کی سطح پر مذاکرات کےلئے تیار ،معاملے پر ترکیہ کےساتھ رابطے میں ہےں،نئی جنگ بدقسمتی سے دو طرفہ تنازع سے آگے بھی جا سکتی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہاکشیدگی کا واحد حل سفارت کاری ہے ،ایران بڑھتے دباو کے باوجود سفارتی راستہ ترک نہیں کرےگا،ایران کی دفاعی و میزائل صلاحیتیں ناقابل بحث ہیں ، کسی بھی مذاکرات سے قبل دھمکیوں ، دباو کی فضا کو ختم کرنا ضروری ہے۔

علاوہ ازیں ترک صدر اردوان نے امریکہ ،ایران کے درمیان کشیدگی کم کرانے کیلئے ثالثی کی پیشکش کردی،دورہ ترکیہ کے دوران عباس عراقچی نے ترک صدر رجب طیب اردوان سے بھی ملاقات کی،اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔